صحيح مسلم
كتاب الجنائز— جنازے کے احکام و مسائل
باب الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ: باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ ، أَلَمْ تَعْلَمِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انہوں نے کہا: ”اے میری بیٹی! رک جاؤ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس پر اس کے گھر والوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .یہ امام صاحب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت اپنے دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں، اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب پہنچتا ہے۔‘‘
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَصِيحَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کردیا گیا اور وہ بے ہوش ہوگئے تو ان پر چیخ وچلا کر رویا گیا، جب انہیں ہوش آیا، تو انہوں نے کہا، کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس پر اس کے خاندان یا زندہ کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ ، جَعَلَ صُهَيْبٌ ، يَقُولُ : وَا أَخَاهْ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " .حضرت ابوبردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو گئے تو حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، ہائے میرے بھائی! تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا، اے صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس پر زندہ کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي ، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ تَبْكِي ؟ قَالَ : إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " . قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، فَقَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ : إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ .عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟“ کہا: ”اللہ کی قسم! ہاں، امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘“ (عبدالملک بن عمیر نے) کہا: میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: (یہ) یہودیوں کا معاملہ تھا۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2153)
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ، فَقَالَ : يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " ، وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ .حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلا کیا، انہوں نے کہا: ”اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیا جاتا ہے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟“ اور (اسی طرح) صہیب رضی اللہ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”صہیب! کیا تمہیں علم نہیں: ’جس پر واویلا کیا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘“
تشریح، فوائد و مسائل
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1851]
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے تحریم نوحہ کو بیان کرنے سے پہلے تمہیدی طور پر ایک حدیث بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا عام انسان کی طرح جھوٹ منسوب کرنے کی طرح نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ سنگین جرم ہے۔
انہوں نے اشارہ فرمایا کہ مذکورہ وعید مجھے اس بات سے روکتی ہے کہ میں نوحے کے متعلق ایسی بات کہوں جو رسول اللہ ﷺ نے بیان نہ کی ہو۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ میت پر رونے کی وجہ سے اسے عذاب ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جسے بیان کرنے والے صرف عبداللہ بن عمر ؓ نہیں بلکہ اس حدیث کو متعدد صحابہ کرام ؓ نے بیان کیا ہے جن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عمر ؓ بھی ہیں۔
آخر ان سب حضرات کو الفاظ بیان کرنے میں سہو یا نسیان کیسے ہو سکتا ہے؟ بہرحال یہ حدیث ثابت اور صحیح ہے۔
اسے وہم یا سہو پر محمول کرنا صحیح نہیں، جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ہے بلکہ اس فرمان نبوی کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے کوئی مناسب توجیہ کی جا سکتی ہے جس کی تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے۔
والله أعلم۔
کا ترجمہ بعضوں نے یوں کیا ہے: دیکھا تو وہ بے ہوش ہیں اور ان کے گردا گرد لوگ جمع ہیں۔
آپ نے لوگوں کو اکٹھا دیکھ کر یہ گمان کیا کہ شاید سعد ؓ کا انتقال ہوگیا۔
آپ نے زبان کی طرف اشارہ فرماکر ظاہر فرمایا کہ یہی زبان باعث رحمت ہے، اگر اس سے کلمات خیر نکلیں اور یہی باعث عذاب ہے، اگر اس سے بُرے الفاظ نکالے جائیں۔
اس حدیث سے حضرت عمر ؓ کے جلال کا بھی اظہار ہوا کہ آپ خلاف شریعت رونے پیٹنے والوں پر انتہائی سختی فرماتے۔
في الواقع اللہ طاقت دے تو شرعی اوامر ونواہی کے لیے پوری طاقت سے کام لینا چاہیے۔
حضرت سعد بن عبادہ انصاری خزرجی ؓ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں۔
عقبہ ثانیہ میں شرف الاسلام سے مشرف ہوئے۔
ان کا شمار بارہ نقباء میں ہے۔
انصار کے سرداروں میں سے تھے اور شان وشوکت میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھے۔
بدر کی مہم کے لیے آنحضرت ﷺ نے جو مشاورتی اجلاس طلب فرمایا تھا اس میں حضرت سعد ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے۔
اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ ہم انصار کو سمندر میں کودنے کا حکم فرمائیں گے تو ہم اس میں کود پڑیں گے اور اگر خشکی میں حکم فرمائیں گے تو ہم وہاں بھی اونٹوں کے کلیجے پگھلاویں گے۔
آپ کی اس پر جوش تقریر سے نبی کریم ﷺ بے حد خوش ہوئے۔
اکثر غزوات میں انصار کا جھنڈا اکثر آپ ہی کے ہاتھوں میں رہتا تھا۔
سخاوت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔
خاص طور پر اصحاب صفہ پر آپ کے جو دو کرم کی بارش بکثرت برساکرتی تھی۔
نبی کریم ﷺ کو آپ سے بے انتہا محبت تھی۔
اسی وجہ سے آپ کی اس بیماری میں حضور ﷺ آپ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ کی بیماری کی تکلیف دہ حالت دیکھ کر حضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
15ھ میں بہ زمانہ خلافت فاروقی سرزمین شام میں بمقام حوران آپ کی شہادت اس طرح ہوئی کہ کسی دشمن نے نعش مبارک کو غسل خانہ میں ڈال دیا۔
انتقال کے وقت ایک بیوی اور تین بیٹے آپ نے چھوڑے۔
اور حوران ہی میں سپرد خاک کئے گئے۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ آمین۔
(1)
حدیث میں جس رونے سے منع کیا گیا ہے وہ میت پر واویلا کرتے ہوئے رونا دھونا ہے۔
جب کوئی ایسی نشانی ظاہر ہو جس کی وجہ سے مریض کے زندہ رہنے کی امید نہ ہو تو ایسے حالات میں افسوس کرنا اور آنسو بہانا جائز ہے بصورت دیگر مریض کو تسلی دینی چاہیے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے رنج و صدمہ پر مؤاخذہ نہیں کرے گا، البتہ زبان سے بے جا کلمات نکالنے اور غیر مشروع نوحہ کرنے پر ضرور مؤاخذہ ہو گا اور اس طرح رونے دھونے پر میت سے بھی باز پرس ہو گی بشرطیکہ وہ وصیت کر گیا ہو یا انہیں روک سکتا تھا لیکن انہیں روکے بغیر ہی دنیا سے چل بسا، لہذا ہمیں اس پہلو سے خبردار رہنا چاہیے۔
حافظ ابن حجر ؒ کی تصریح کے مطابق یہ واقعہ حضرت ابراہیم ؓ کی وفات کے بعد کا ہے، کیونکہ اس موقع پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ ہمراہ تھے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے آبدیدہ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، کیونکہ انہیں پہلے علم ہو چکا تھا کہ مطلق رونے پر کوئی وعید نہیں، جبکہ ابراہیم ؓ کی وفات کے موقع پر آپ نے اعتراض کیا تھا۔
(فتح الباري: 324/3)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1593]
فوائد و مسائل:
(1)
اگر مرنے والے نے یہ وصیت کی ہو کہ میرے مرنے پر نوحہ کیا جائے۔
تو وہ نوحہ کرنے والیوں کے گناہ میں شریک ہے۔
اس لئے سزا کا مستحق ہے۔
اسی طرح اگر اس کے خاندان میں بین کرنے، بال نوچنے، گریبان چاک کرنے، اور اس طرح کی حرکات کا رواج ہو۔
اور وہ انہیں منع نہ کرے۔
بلکہ اپنے قول وفعل سے اس کی حوصلہ افزائی کرے۔
تب بھی زندوں کےنوحہ کرنے کی وجہ سے اس مردے کو عذاب ہوگا۔
البتہ اگر فوت ہونے والا شخص ان کاموں کو پسند نہیں کرتا تھا۔
نہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔
بلکہ منع کیا کرتا تھا تو اب دوسرے کے اعمال کی ذمہ داری اس پر نہیں اس لئے اسے عذاب نہیں ہوگا۔ 2۔
ممکن ہے حدیث کا یہ مطلب ہو۔
کہ نوحہ کرنے سے میت کو تکلیف ہوتی ہے۔
اسے اس بات پر دکھ ہوتا ہے کہ اس کی وفات پر ناجائز کام کیے جارہے ہیں۔
واللہ أعلم۔