مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 925
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَخَا الْأَنْصَارِ ، كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ؟ " فَقَالَ : صَالِحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ ؟ " فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ ، حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کے بھائی (انصاری)! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”وہ اچھا ہے۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کی عیادت کرے گا؟“ پھر آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ہم دس سے زائد لوگ تھے، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو آپ کے ساتھ تھے، (ان کے) قریب ہو گئے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 925
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انصاری آدمی نے آ کر آپﷺ کو سلام عرض کیا اورپھر پشت پھیر کرچل دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اےانصاری! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا حال ہے؟ اس نے عرض کیا: بہتر ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کون اسکی عیادت کے لیے جائے گا؟ پھر آپ کھڑے ہوئے اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2138]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: دوست واحباب اور عزہ واقارب کی عیادت کرنا کار ثواب اور سنت نبوی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 925 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔