مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 924
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ ، فَقَالَ : " أَقَدْ قَضَى " ، قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا ، فَقَالَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ ، أَوْ يَرْحَمُ " .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اپنی بیماری میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب آپ ان کے ہاں داخل ہوئے تو انہیں غشی کی حالت میں پایا، آپ نے پوچھا: ”کیا انہوں نے اپنی مدت پوری کر لی (وفات پا گئے ہیں)؟“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں سنتے کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر سزا نہیں دیتا بلکہ اس۔۔۔ آپ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 924
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ بیمار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عبدالرحمان بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی معیت میں ان کی عیادت کے لئے آئے۔ آپﷺ جب ان کے پاس اندر تشریف لائے تو انہیں سخت تکلیف میں دیکھا، یا ینہیں گھر والوں کی بھیڑ میں دیکھا تو آپﷺ نے پوچھا: ’’کیا ختم ہو چکے ہیں؟‘‘ لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! نہیں۔ ابھی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2137]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اِنَّ للهِ مَا أَخَذَ: یہ بچہ جو اللہ لے رہا ہے، جس کی اس نے جان نکال لی ہے، وہ اسی کا ہے، تمہارا نہیں ہے۔
اس لیے جب اس نے اپنی ہی چیز لی ہے تمہاری چیز نہیں لی، تو تمہیں اس پر جزع فزع کرنے کا کیا حق حاصل ہے۔
کیا اگر کوئی اپنی ودیعت کردہ یا امانت میں دی چیز واپس لے، تو امین کو اس پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے؟ اس لیے صبر و سکینت سے کام لو۔
(2)
وَلَهُ مَا أعطٰي: اس نے تمہیں کچھ بھی عنایت فرمایا ہے وہ اسی کا ہے، اس کی ملکیت سے نکل نہیں گیا ہے۔
اور اسے حق حاصل ہے کہ اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے۔
(3)
كُلُّ شَيءٌ عِنْدَهُ بِأَجَل﷭ مُّسَمًّي: اس نے جو کچھ بھی عنایت فرمایا ہے اس کے لیے وقت اور مدت بھی متعین فرمائی ہے، جب وہ مدت پوری ہو جائے گی اور اس کا وقت آ جائے گا تو وہ اس کو واپس لے لے گا۔
لہذا اپنا وقت پورا کرنے کے بعد جو چیز تم سے چلی گئی ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی تھی۔
اس لیے تمہارا شکوہ شکایت بے جا ہے اگر انسان آپ کے ان کلماتِ جامعہ پر غور فرما لے تو اس کے لیے کسی چیز سے محروم ہونے کے بعد، اللہ تعالیٰ کی قضا اور اس کے فیصلہ و تقدیر پر راضی اور مطمئن ہونا کوئی مشکل نہیں ہے۔
اور اس کے لیے صبر و تسلیم کا مرحلہ طے کرنا بڑا آسان ہے۔
(4)
نفسه تقعقع: اس کی جان نکلنے سے گلے میں آواز پیدا ہو رہی تھی جیسا کہ شن، پرانی اور بوسیدہ مشک میں پانی ڈالنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔
غشية: غین پر زبر ہے اور شین پر زیر ہے اور یاء مشدد ہے مصیبت و تکلیف کی سختی بھی مراد ہو سکتی ہے اور جمع ہونے والے اعزہ و اقارب کا اژدہام اور بھیڑ بھی۔
فوائد ومسائل: (1)
کسی کی موت پرشدت غم سے اس کے اعزاہ واقارب اور دوست واحباب کا رنجیدہ اور غمگین ہونا اور اس کے نتیجہ میں ان کی آنکھوں سے آنسو بہنا اور اسی طرح گریہ کے دوسرے آثار کا ظاہر ہونا ایک بالکل فطرتی بات ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ اس آدمی کے دل میں محبت و شفقت اور درد مندی کا جذبہ موجود ہے جو انسانیت کا ایک قیمتی اور پسندیدہ اثاثہ ہے۔
اس لیے شریعت نے اس پر قدغن یا پابندی عائد نہیں کی بلکہ ایک حد تک اس کی تحسین اورحوصلہ افزائی کی ہے۔
اس لیے آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم فرماتا ہے جن کے دلوں میں دوسروں کے لیے رحم اور درد مندی کا جذبہ موجود ہے۔
‘‘ (2)
اگر انسان زبان سے غلط کام لینے کی بجائے (جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے)
زبان سے ﴿إناللہِ وَإِنَّاإِلَیْهِ رَاجِعُون﴾ کہتا ہے دعا اور استغفار کرتا ہے اور ایسی باتیں کرتا ہے جو اللہ کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کے حصول کا وسیلہ بنیں تو اس کا اعزہ واقارب اور میت کو فائدہ پہنچتا ہے۔
(3)
حدیث میں آپﷺ کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بچی حضرت امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شدید بیماری کا تذکرہ ہے حتی کہ ان کی والدہ کو ان کے چل بسنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا لیکن حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے ان کو شفا حاصل ہو گئی اور وہ آپﷺ کے بعد تک زندہ رہی حتی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بعد ان سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شادی کی اور یہی صورت حال حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے وہ بھی آپﷺ کی دعا کی برکت سے اس سخت بیماری سے صحت یاب ہو گئے تھے اور آپﷺ کے بعد عہد صدیقی میں یا عہد فاروقی میں فوت ہوئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 924 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔