حدیث نمبر: 913
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَنَبَذْتُهُنَّ ، وَقُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انْكِسَافِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ ، حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ " .

حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنے تیر چلا رہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا، تو میں نے ان کو پھینک دیا اور جی میں کہا کہ میں آج دیکھوں گا کہ سورج گہن کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نیا کام کرتے ہیں، میں آپ ﷺ کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دعا، تکبیر، تحمید اور تہلیل کہہ رہے تھے حتی کہ سورج روشن ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُنْتُ أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا ، قَالَ : فَلَمَّا حُسِرَ ، عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .

عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے جریری سے، انہوں نے حیان بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک دن مدینہ میں اپنے تیروں سے نشانے لگا رہا تھا کہ اچانک سورج کو گرہن لگ گیا، اس پر میں نے انہیں (تیروں کو) پھینکا اور (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور دیکھوں گا کہ سورج کے گرہن کے اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوئی ہے۔ کہا: میں آپ کے پاس آیا، آپ نماز میں کھڑے تھے، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر آپ نے تسبیح، حمد و ثناء، «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ» اور اللہ کی بڑائی کا ورد اور دعا مانگنی شروع کر دی یہاں تک کہ سورج کا گرہن چھٹ گیا، کہا: اور جب سورج کا گرہن چھٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .

سالم بن نوح نے کہا: ہمیں جریری نے حیان بن عمیر سے خبر دی اور انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کر رہا تھا کہ سورج گرہن ہو گیا، پھر (سالم بن نوح نے) ان دونوں (بشر اور عبدالاعلیٰ) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الكسوف / حدیث: 913
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 913 | سنن ابي داود: 1195 | سنن نسائي: 1461

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 913 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ايک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں میں اپنے تیروں سے تیر اندازی رہا تھا کہ اچانک آفتاب گہن میں آ گیا تو میں اپنے تیر پھنک دیئے اور جی میں کہا: اللہ کی قسم! چل کر دیکھوں گا کہ اس وقت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوتی ہے یا آپﷺ کیا نیا کام کرتے ہیں میں آپ کے پاس آیا، تو آپﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے آپﷺ تسبیح،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2119]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے کسوف شمس کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور اسلوب سامنے آتا ہے معلوم ہوتا ہے سورج کو گہن زیادہ نہیں لگا تھا۔
آپﷺ نے نماز شروع کی، اس میں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اور تہلیل و تکبیر کرتے رہے یعنی: (سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ)
کے تکرار کے ساتھ دعا کرتے رہے اور آپﷺ نے معمول کے مطابق عام نماز کی طرح دو رکعت نماز پڑھائی اور رکعت میں ایک رکوع کیا اس لیے ہر رکعت میں ایک سورت پڑھی اور آپﷺ نے دوسری رکعت سورج کے روشن ہونے کے بعد پڑھی یا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جب سورج روشن ہوا آپﷺ دو سورتیں اور دو رکعت پڑھ چکے تھے یہ معنی نہیں ہے کہ آپﷺ نے سورج کے روشن ہونے کے بعد نماز شروع کی جیسا کہ حدیث کے ظاہر سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس صورت حدیث کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ میں تضاد پیدا ہو گا۔
شروع میں تو ہے کہ جب میں پہنچا تو آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے یہ کسوف مذکورہ بالا کسوفوں سے جدا ہے اور یہ بھی کسوفوں کے متعدد ہونے کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 913 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1461 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سورج گرہن کے وقت تسبیح و تکبیر پڑھنے اور دعا کرنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تیر اندازی میں مشغول تھا، اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا، میں نے اپنے تیروں کو سمیٹا اور دل میں ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر کیا نئی بات کی ہے، اسے چل کر ضرور دیکھوں گا، میں آپ کے پیچھے کی جانب سے آپ کے پاس آیا، آپ مسجد میں تھے، تسبیح و تکبیر اور دعا میں لگے رہے، یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت نماز پڑھی، اور چار سجدے کیے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1461]
1461۔ اردو حاشیہ: ➊ سورج یا چاند گرہن لگنے سے پہلے دو رکعتی پڑھی جائیں گی، جس قدر لمبی پڑھی جا سکیں۔ پھر تسبیحات، تکبیرات پڑھی اور دعائیں مانگی جائیں گی تا آنکہ گرہن ختم ہو جائے۔
➋ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید تسبیحات، تکبیرات اور دعائیں پہلے ہیں اور نماز بعد میں۔ لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ اس موضوع سے متعلق جمیع روایات اس کے خلاف ہیں بلکہ صحیح مسلم میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الکسوف، حدیث: 912) بنابریں اگرچہ بعض ائمہ و محققین نے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں لیکن دلائل کی رو سے اور جمیع روایات کو جمع کرنے سے یہی موقف راجح معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت میں نماز سے پہلے تسبیح و تکبیر اور دعا کا ذکر کرنا کسی راوی کی غلطی اور وہم ہے۔ واللہ أعلم۔ نیز شیخ البانی رحمہ اللہ بھی اس حدیث کی تحقیق میں یہی کچھ لکھتے ہیں، فرماتے ہیں: «أما نحن فنراھا خطاأ من بعض الرواۃ عن الجریری، واللہ أعلم۔» مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لصلاۃ الکسوف، ص: 74-68، رقم الحدیث: 14، ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي: 391-389/16)
➌ گرہن کے موقع پر نماز، توبہ اور تسبیحات کا حکم ہے۔ گویا مظاہر قدرت میں کسی قسم کی تبدیلی سے ہم میں بھی عبرت پذیری آنی چاہیے اور دنیا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1461 سے ماخوذ ہے۔