صحيح مسلم
كتاب الكسوف— سورج اور چاند گرہن کے احکام
باب ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلاَةِ الْكُسُوفِ: «الصَّلاَةَ جَامِعَةً»: باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ " .ہشیم نے اسماعیل سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، اور انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔ اور ان دونوں کو انسانوں میں سے کسی کی موت کی بناء پر گرہن نہیں لگتا، لہذا جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ کو پکارو یہاں تک کہ جو کچھ تمہارے (ساتھ ہوا) ہے وہ کھل جائے۔“
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا " .معتمر نے اسماعیل سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ لہذا جب تم اس (گرہن) کو دیکھو تو قیام کرو اور نماز پڑھو۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمَرْوَانُ كلهم ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَوَكِيعٍ " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ " .وکیع، ابواسامہ، ابن نمیر، جریر، سفیان، اور مروان سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، سفیان اور وکیع کی روایت میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے کہا: سورج کو ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی بناء پر گرہن لگا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(وحیدی)
حضرت ابو مسعود ؓ کے علاوہ متعدد صحابۂ کرام ؓ سے یہ روایت منقول ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے صحیح مسلم میں، حضرت عبداللہ بن عمروؓ، حضرت نعمان بن بشیرؓ، حضرت قبیصہ ہلالیؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے سنن نسائی میں، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سمرہ بن جندبؓ اور حضرت محمود بن لبید ؓ سے مسند امام احمد میں، حضرت عقبہ بن عامرؓ اور حضرت بلال ؓ سے معجم طبرانی میں حدیث کے مذکورہ الفاظ مروی ہیں۔
ان روایات سے قطعی طور پر اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حقیقت پر مبنی بات ارشاد فرمائی ہے۔
ان الفاظ سے ان لوگوں کا جھوٹ ثابت ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ سورج یا چاند کے گرہن میں کسی کی موت و حیات کا دخل ہے۔
(فتح الباري: 703/2)
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ۱؎، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو، اور نماز پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1261]
فوائد و مسائل:
(1)
سورج اور چاند اللہ کی عظیم مخلوقات میں سے ہیں۔
حتیٰ کہ بعض مشرک اقوام ان کی پوجا کرتی ہیں۔
لیکن یہ بھی اللہ کے حکم کے سامنے بے بس ہیں۔
اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کا نور چھین لیتا ہے۔
اللہ کی عظمت کی اس نشانی کے ظہور پر مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کے سامنے اپنے عجز وانکسار کا اظہار کرنے کے لئے نماز پڑھیں۔
(2)
قیامت کے دن سورج اور چاند کی روشنی ختم ہوجائےگی۔
گرہن ہمیں قیامت کی یاد دلاتا ہے۔
جو بہت شدید دن ہے۔
گناہ گاروں کو چاہیے کہ قیامت کے شدائد یاد کرکے اللہ کے سامنے جھک جایئں اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اس لئے اس موقع پر طویل نماز پڑھنا مسنون ہے۔
جس کا طریقہ دوسری احادیث میں تفصیل سے مذکور ہ مثلاً دیکھئے: حدیث 1265، 1263)
(3)
جاہلیت میں یہ مشہور تھا کہ گرہن اس وقت لگتا ہے۔
جب کسی بڑے آدمی کی وفات ہو یا کوئی عظیم آدمی پیدا ہو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ’’سورج اور چاند اللہ نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
انھیں کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا۔
لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں كو ڈراتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الکسوف، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخوف اللہ عبادہ بالکسوف، حدیث: 1048)
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ’’یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے۔
نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، جب تم لوگ انھیں (گرہن لگا ہوا)
دیکھو تو نماز کی طرف توجہ کرو‘‘ (صحیح البخاري، الکسوف، باب ھل یقول کسفت الشمس أو خسفت؟، حدیث: 1047)
سورج یا چاند گرہن کے وقت استغفار اور صدقہ و خیرات کرنا چاہیے، اور نماز کسوف پڑھنی چاہیے، اس کی تفصیل بخاری ومسلم میں موجود ہے۔