حدیث نمبر: 906
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، قَالَتْ : تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ ، فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا ، لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ " .

خالد بن حارث نے کہا: ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا:) مجھ سے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے اور انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے (لپک کر) گئے۔ کہا: ان کی مراد اس دن سے تھی جس دن سورج کو گرہن لگا تھا۔ تو (جلدی میں) آپ نے ایک زنانہ قمیص اٹھا لی حتیٰ کہ پیچھے سے آپ کو آپ کی چادر لا کر دی گئی۔ آپ نے لوگوں کی امامت کرتے ہوئے انتہائی طویل قیام کیا۔ اگر کوئی ایسا انسان آتا جس کو یہ پتہ نہ ہوتا کہ آپ (قیام کے بعد) رکوع کر چکے ہیں تو اس قیام کی لمبائی کی بناء پر وہ کبھی نہ کہہ سکتا کہ آپ (ایک دفعہ) رکوع کر چکے ہیں۔

وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ " ، وَزَادَ : " فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي ، وَإِلَى الْأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي " .

یحییٰ اموی نے کہا: ہم سے ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ (اس میں) انہوں نے کہا: (آپ نے) طویل قیام کیا، آپ قیام کرتے، پھر رکوع میں چلے جاتے۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا: میں (بیٹھنے کا ارادہ کرتی تو) ایسی عورت کو دیکھنے لگتی جو مجھ سے بڑھ کر عمر رسیدہ ہوتی اور کسی دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار ہوتی (اور ان سے حوصلہ پا کر کھڑی رہتی)۔

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَتْ : فَقَضَيْتُ حَاجَتِي ، ثُمَّ جِئْتُ وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا ، فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ إِلَى الْمَرْأَةِ الضَّعِيفَةِ ، فَأَقُولُ : هَذِهِ أَضْعَفُ مِنِّي فَأَقُومُ ، فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَرْكَعْ " .

وہیب نے کہا: ہمیں منصور نے اپنی والدہ (صفیہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ جلدی سے لپکے (اور) غلطی سے زنانہ قمیص اٹھا لی حتیٰ کہ اس کے بعد (پیچھے سے) آپ کی چادر آپ کو لا کر دی گئی۔ کہا: میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوئی اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے) مسجد میں داخل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام کی حالت میں دیکھا۔ میں بھی آپ کی اقتداء میں کھڑی ہو گئی۔ آپ نے بہت لمبا قیام کیا حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ میں بیٹھنا چاہتی تھی، پھر میں کسی کمزور عورت کی طرف متوجہ ہوتی اور (دل میں) کہتی: یہ تو مجھ سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ (اور کھڑی رہتی ہے) پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع کو انتہائی لمبا کر دیا، پھر آپ نے (رکوع سے) اپنا سر اٹھایا تو قیام کو بہت طول دیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی (اس حالت میں) آتا تو اسے خیال ہوتا کہ ابھی تک آپ نے رکوع نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الكسوف / حدیث: 906
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 745 | صحيح البخاري: 2364 | صحيح مسلم: 906 | سنن نسائي: 1499

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2364 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2364. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سورج گہن کی نماز پڑھائی تو فرمایا: ’’دوزخ میرے قریب ہوئی یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اے میرے رب! میں بھی ان کے ساتھ ہوں اتنے میں ایک عورت دیکھائی دی۔۔۔ میں سمجھتی ہوں آپ نے فرمایا۔۔۔ بلی اس کو نوچ رہی تھی۔ آپ نے پوچھا: اس کا کیاماجراہے؟ جواب ملا کہ اس عورت نے بلی کو باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی؟‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2364]
حدیث حاشیہ: اس حدیث کو یہاں لانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی بھی جاندار کو باوجود قدرت اور آسانی کے اگر کوئی شخص کھانا پانی نہ دے اور وہ جاندار بھوک پیاس کی وجہ سے مر جائے تو اس شخص کے لیے یہ جرم دوزح میں جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
إن ھذہ المرأة لما حبست هذہ الهرة إلی أن ماتت بالجوع و العطش فاستحقت هذہ العذاب فلو کانت سقیتها لم تغذب و من ههنا یعلم فضل سقي الماء و هو مطابق للترجمة۔
(عینی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2364 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 745 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
745. حضرت اسماء بنت ابی بکر‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نماز کسوف پڑھائی تو آپ نے طویل قیام کیا۔ پھر رکوع کیا تو اسے خوب طویل کیا۔ پھر کھڑے ہوئے تو قیام کو خوب طویل کیا۔ اس کے بعد رکوع کیا تو اسے خوب طویل کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر کھڑے ہو کر قیام کیا اور قیام کو لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع کو لمبا کیا، پھر سر اٹھا کر قیام کیا اور اسے خوب لمبا کیا، پھر رکوع کیا اور اسے لمبا کیا، پھر سر اٹھاکر سجدہ کیا اور اسے خوب لمبا کیا، اس کے بعد اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور سجدے کو لمبا کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ’’جنت میرے اتنا قریب ہو چکی تھی کہ اگر میں جراءت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تمہارے پاس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:745]
حدیث حاشیہ: سورج گہن یاچاند گہن ہر دومواقع پر نماز کا یہی طریقہ ہے۔
نماز کے بعد خطبہ اوردعا بھی ثابت ہے۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو جانوروں پرظلم کرے گا آخرت میں اس سے اس کا بھی بدلہ لیاجائے گا۔
حافظ ؒ نے ابن رشید ؒ سے حدیث اورباب میں مطابقت یوں نقل کی ہے کہ آپ ﷺ کی مناجات اورمہربانی کی درخواست عین نماز کے اندر مذکور ہے تو معلوم ہوا کہ نماز میں ہرقسم کی دعا کرنا درست ہے۔
بشرطیکہ وہ دعائیں شرعی حدوں میں ہوں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 745 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 745 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
745. حضرت اسماء بنت ابی بکر‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نماز کسوف پڑھائی تو آپ نے طویل قیام کیا۔ پھر رکوع کیا تو اسے خوب طویل کیا۔ پھر کھڑے ہوئے تو قیام کو خوب طویل کیا۔ اس کے بعد رکوع کیا تو اسے خوب طویل کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر کھڑے ہو کر قیام کیا اور قیام کو لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع کو لمبا کیا، پھر سر اٹھا کر قیام کیا اور اسے خوب لمبا کیا، پھر رکوع کیا اور اسے لمبا کیا، پھر سر اٹھاکر سجدہ کیا اور اسے خوب لمبا کیا، اس کے بعد اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور سجدے کو لمبا کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ’’جنت میرے اتنا قریب ہو چکی تھی کہ اگر میں جراءت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تمہارے پاس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:745]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے متعلقہ فوائد کتاب الکسوف اور کتاب بدء الخلق میں بیان ہوں گے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 745 سے ماخوذ ہے۔