صحيح مسلم
كتاب الكسوف— سورج اور چاند گرہن کے احکام
باب ذِكْرِ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي صَلاَةِ الْخُسُوفِ: باب: نماز خسوف میں عذاب قبر کا ذکر۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا ، فَقَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ ؟ قَالَتْ عَمْرَةُ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِذًا بِاللَّهِ " ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا ، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . قَالَتْ عَمْرَةُ : فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ .عمرہ بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی عورت، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس مانگنے کے لئے آئی۔ اور اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب قبر سے پناہ میں رکھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! لوگوں کو قبرمیں عذاب ہو گا؟ عمرہ نے کہتی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہو کر نکلے تو سورج کو گہن لگ گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بھی عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر نماز گاہ جہاں آپ نماز پڑھاتے تھے تک پہنچے اور کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: پھر آپﷺ نے دیر تک قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اٹھے (رکوع سے سر اٹھایا) اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے چھوٹا تھا پھر رکوع سے سر اٹھایا (نماز سے فارغ ہوئےتو) سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپﷺ نے خطاب فرمایا: ”میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح ابتلاء اور آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔‘‘ عمرہ کہتی ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، جَمِيعًا ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ .مصنف نے مذکورہ بالاروایت ایک دوسری سند سے بھی بیان کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
مدینہ طیبہ میں پہلے پہلے مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ قیامت کے بعد عذاب کا مرحلہ شروع ہو گا، اس سے پہلے کسی کو عذاب سے دوچار نہیں کیا جائے گا، پھر مدنی زندگی کے اواخر میں بذریعۂ وحی پتا چلا کہ عذابِ آخرت سے پہلے عذاب قبر ہو گا جیسا کہ درج ذیل روایت سے پتا چلتا ہے۔
ایک یہودی عورت، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا کام کاج میں ہاتھ بٹاتی تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کرتیں تو وہ ان الفاظ میں دعا دیتی: ’’اللہ تجھے عذاب قبر سے بچائے۔
‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا عذابِ قبر برحق ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’یہود، غلط کہتے ہیں، قیامت سے پہلے کسی قسم کا عذاب نہیں ہو گا۔
‘‘ پھر کچھ وقت اسی طرح گزارا، آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے اور بآواز بلند اعلان فرما رہے تھے: ’’اے لوگو! عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ عذاب قبر برحق ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 81/6)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث سے اس امر کی مزید وضاحت ہوتی ہے، فرماتی ہیں: ’’میرے پاس یہودیوں کی ایک عورت آئی، اس نے کہا: کیا تم جانتی ہو کہ تمہیں قبروں میں امتحان سے دوچار ہونا پڑے گا؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قبروں میں تو یہودیوں کو امتحان سے دوچار کیا جائے گا۔
‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر چند روز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم بھی قبروں میں امتحان سے دوچار ہو گے؟ مجھے اس امر کی وحی کی گئی ہے۔
‘‘ اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ اکثر عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1319 (584)
آپﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو چونکہ قبر کے امتحانوں کے بارے میں بتایا تھا اور انہوں نے اس سے عذاب قبر نہ سمجھا۔
اس لیے یہودی عورتوں کی تکذیب کر دی اور آپﷺ کو فتنہ قبر کے بعد عذاب قبر سے بھی آگاہ کر دیا تھا کیونکہ فتنہ قبر ہی عذاب قبر کا پیش خیمہ ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ آپﷺ نے قبر اور برزخ کے حالات سے اس قدر آگاہ ہیں، جس قدر آپﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی پناہ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: ” کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے “، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1476]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ” ہاں، قبر کا عذاب برحق ہے “، اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ نے قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1309]
➋ نماز میں عذاب قبر سے پناہ مانگنا مشروع ہے۔
➌ اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر برحق ہے۔
➍ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اگلی پچھلی ساری لغزشیں معاف کر دیں تھیں: «قدْ غُفِرَ له ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وما تأَخَّرَ» اس کے باوجود آپ کس قدر اللہ کے عذاب سے ڈرتے تھے اور استغفار کرتے رہتے تھے جبکہ ہم گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، ہمیں تو بالاولیٰ کثرت سے استغفار اور توبہ کرتے رہنا چاہیے اور اللہ کی پکڑ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو ہم حجرے کی طرف چلے، اور کچھ اور عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور یہ چاشت کا وقت تھا، (آپ نماز پڑھنے کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے ایک لمبا قیام کیا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو بھی ایسے ہی کیا، مگر آپ کا یہ قیام اور رکوع پہلی والی رکعت کے قیام اور رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر بیٹھے، اور منبر پر جو باتیں آپ نے کہیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ” لوگوں کو ان کی قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمایا جائے گا “، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1500]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے اور فرماتے: ” قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5506]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے، اور فرمایا: ” صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہو گی۔“ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں (بھی) قبروں میں آزمایا [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2066]
(2) ابتداءً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ قبر کا امتحان یا عذاب صرف کفار کے ساتھ خاص ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ سب کے ساتھ ہوگا إلا ماشا اللہ۔ ثابت ہوا کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ نے انکار کر دیا تھا، بعد میں بذریعۂ وحی اللہ تعالیٰ نے خبر دی تو پتا چلا۔
(1)
مسند احمد میں ایک روایت تفصیل سے بیان ہوئی ہے کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ ؓ کی خدمت کیا کرتی تھی۔
حضرت عائشہ ؓ جب بھی اس سے کوئی حسن سلوک کا معاملہ کرتیں تو وہ آپ کو دعا دیتی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔
حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا۔
اس کے بعد آپ چند دن ٹھہرے رہے، آخر ایک دن دوپہر کے وقت آپ نے بآواز بلند فرمایا: ’’لوگو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ عذاب قبر برحق ہے۔
‘‘ (مسندأحمد: 81/6) (2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ عمر کے آخری حصے میں رسول اللہ ﷺ کو عذاب قبر کے متعلق بذریعہ وحی مطلع کیا گیا۔
اس سے پہلے آپ عذاب قبر صرف کفار و یہود کے ساتھ خاص خیال کرتے تھے۔
اس کے بعد آپ کو مطلع کیا گیا کہ عذاب قبر اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جسے چاہے اس میں مبتلا کر دے، چنانچہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنی امت کی رہنمائی کرتے ہوئے ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
(فتح الباري: 301/3)
والله أعلم۔
(3)
عذاب قبر روح کو ہو گا یا روح اور جسم دونوں کو؟ ہمارے نزدیک عذاب روح کو ہوتا ہے لیکن روح کا آلہ کار بننے والا جسم بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔
بعض کا خیال ہے کہ عذاب قبر مثالی جسم کو ہو گا۔
عالم مثال، عالم ارواح سے زیادہ کثیف اور عالم اجساد سے زیادہ لطیف ہے۔
ہمیں مثالی جسم کے فلسفے سے اتفاق نہیں ہے، الغرض عذاب کا کچھ حصہ قبر سے شروع ہو جاتا ہے جو جہنم میں داخل ہونے سے مکمل ہو جائے گا۔
والله أعلم۔
«. . . وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ: «نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْر قَالَت عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعد صلى صَلَاة إِلَّا تعوذ من عَذَاب الْقَبْر» . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک یہودیہ عورت آئی اور عذاب قبر کا ذکر کر کے کہا: عائشہ آپ کو اللہ قبر کے عذاب سے بچائے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اب تک عذاب قبر کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے) تو آپ سے عذاب قبر کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قبر کا عذاب حق و سچ ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہر نماز کے بعد قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 128]
[صحيح بخاري 1372]، [صحيح مسلم 1321]
فقہ الحدیث:
➊ عذاب قبر کا علم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بذریعہ وحی ہوا تھا۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا عذاب قبر سے پناہ مانگنا صرف امت کی تعلیم کے لئے ہے۔
➌ حق بات جہاں سے بھی ملے اس پر عمل کرنا چاہئے۔
➍ بعض اوقات کافروں کی اور گمراہوں کی بات صحیح ہوتی ہے بشرطیکہ قرآن، حدیث، اجماع و فہم سلف صالحین کے مطابق ہو۔
➎ کافروں کے ساتھ تعلقات رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ ان تعلقات سے دین اسلام کو کوئی نقصان نہ ہو۔
➏ نماز میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا سنت ہے۔
➐ اگر اللہ چاہے تو گناہ گار موحد مسلمانوں کو بھی عذاب قبر ہو سکتا ہے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس یہودی عورت کے مدینہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کے بعد بذریعہ وحی بتائی گئی تھی، رہا کافروں پر عذاب قبر تو اس کا ثبوت مکی آیات میں ہے۔