حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .

شعبہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ " .

حماد بن سلمہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش مانگنے کے لیے دعا فرمائی تو اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ ، إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " . غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْأَعْلَى ، قَالَ : " يُرَى بَيَاضُ إِبْطِهِ أَوْ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .

مصنف ایک اور سند سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .

یحییٰ بن سعید نے (سعید) بن ابی عروبہ سے اور انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 895
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 933 | سنن نسائي: 1528

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 933 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
933. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک مرتبہ لوگ قحط میں مبتلا ہوئے۔ دریں اثنا نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فر رہے تھے کہ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مال تلف ہو گیا اور بچے بھوکوں مرنے لگے، آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیے۔ آپ نے دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اس قت ہمیں آسمان پر ابر کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا مگر اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! آپ اپنے ہاتھوں کو نیچے بھی نہ کر پائے تھے کہ پہاڑوں جیسا بادل گھر آیا۔ پھر آپ منبر سے بھی نہ اترے تھے کہ میں نے آپ کی داڑھی مبارک پر بارش کے قطروں کو ٹپکتے دیکھا۔ اس دن خوب بارش ہوئی، اور دوسرے تیسرے دن بھی پھر چوتھے دن بھی یہاں تک کہ دوسرے جمعے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد وہی اعرابی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:933]
حدیث حاشیہ: باب اور نقل کردہ حدیث سے ظاہر ہے کہ امام بوقت ضرورت جمعہ کے خطبہ میں بھی بارش کے لیے دعا کر سکتا ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی ایسی عوامی ضرورت کے لیے دعا کرنے کی درخواست بحالت خطبہ امام سے کی جا سکتی ہے اور یہ بھی کہ امام ایسی درخواست پر خطبہ ہی میں توجہ کر سکتا ہے۔
جن حضرات نے خطبہ کو نماز کا درجہ دے کر اس میں بوقت ضرورت تکلم کو بھی منع بتلایا ہے، اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ان کا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔
علامہ شوکانی اس واقعہ پر لکھتے ہیں: وَفِي الْحَدِيثِ فَوَائِدُ: مِنْهَا جَوَازُ الْمُكَالَمَةِ مِنْ الْخَطِيبِ حَالَ الْخُطْبَةِ وَتَكْرَارِ الدُّعَاءِ وَإِدْخَالِ الِاسْتِسْقَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَالدُّعَاءِ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَرْكِ تَحْوِيلِ الرِّدَاءِ وَالِاسْتِقْبَالِ وَالِاجْتِزَاءِ بِصَلَاةِ الْجُمُعَةِ عَنْ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ كَمَا تَقَدَّمَ. وَفِيهِ عِلْمٌ مِنْ أَعْلَامِ النُّبُوَّةِ فِي إجَابَةِ اللَّهِ تَعَالَى دُعَاءَ نَبِيِّهِ وَامْتِثَالُ السَّحَابِ أَمْرَهُ كَمَا وَقَعَ فِي كَثِيرٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْفَوَائِدِ. (نیل الأوطار)
یعنی اس حدیث سے بہت سے مسائل نکلتے ہیں مثلا حالت خطبہ میں خطیب سے بات کرنے کا جواز نیز دعا کرنا (اور اس کے لیے ہاتھوں کو اٹھا کردعا کرنا)
اورخطبہ جمعہ میں استسقاءکی دعاءاور استسقاءکے لیے ایسے موقع پر چادر الٹنے پلٹنے کو چھوڑ دینا اور کعبہ رخ بھی نہ ہونا اور نماز جمعہ کو نماز استسقاءکے بدلے کافی سمجھنا اور اس میں آپ کی نبوت کی ایک اہم دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور بادلوں کو آپ کا فرمان تسلیم کرنے پر مامور فرما دیا اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔
آپ نے کن لفظوں میں دعائے استسقاء کی۔
اس بارے میں بھی کئی روایات ہیں جن میں جامع دعائیں یہ ہیں: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 3] {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} [الفاتحة: 4] لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إلَهَ إلَّا أَنْتَ علامہ شوکانی اس واقعہ پر لکھتے ہیں: وَفِي الْحَدِيثِ فَوَائِدُ: مِنْهَا جَوَازُ الْمُكَالَمَةِ مِنْ الْخَطِيبِ حَالَ الْخُطْبَةِ وَتَكْرَارِ الدُّعَاءِ وَإِدْخَالِ الِاسْتِسْقَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَالدُّعَاءِ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَرْكِ تَحْوِيلِ الرِّدَاءِ وَالِاسْتِقْبَالِ وَالِاجْتِزَاءِ بِصَلَاةِ الْجُمُعَةِ عَنْ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ كَمَا تَقَدَّمَ. وَفِيهِ عِلْمٌ مِنْ أَعْلَامِ النُّبُوَّةِ فِي إجَابَةِ اللَّهِ تَعَالَى دُعَاءَ نَبِيِّهِ وَامْتِثَالُ السَّحَابِ أَمْرَهُ كَمَا وَقَعَ فِي كَثِيرٍ مِنْ الرِّوَايَاتِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْفَوَائِدِ. (نیل الاوطار)
یعنی اس حدیث سے بہت سے مسائل نکلتے ہیں مثلا حالت خطبہ میں خطیب سے بات کرنے کا جواز نیز دعا کرنا (اور اس کے لیے ہاتھوں کو اٹھا کردعا کرنا)
اورخطبہ جمعہ میں استسقاءکی دعاءاور استسقاءکے لیے ایسے موقع پر چادر الٹنے پلٹنے کو چھوڑ دینا اور کعبہ رخ بھی نہ ہونا اور نماز جمعہ کو نماز استسقاءکے بدلے کافی سمجھنا اور اس میں آپ کی نبوت کی ایک اہم دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور بادلوں کو آپ کا فرمان تسلیم کرنے پر مامور فرما دیا اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔
آپ نے کن لفظوں میں دعائے استسقاء کی۔
اس بارے میں بھی کئی روایات ہیں جن میں جامع دعائیں یہ ہیں: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 3] {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} [الفاتحة: 4] لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إلَهَ إلَّا أَنْتَ، أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلَتْ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إلَى حِينٍ اللھم اسقنا غیثا مغیثا مریئا مریعا طبقا غدقا عاجلا غیررائث اللھم اسق عبادك وبھا ئمك وانشر رحمتك وأحي بلدك المیت۔
یہ بھی امر مشروع ہے کہ ایسے مواقع پر اپنے میں سے کسی نیک بزرگ کو دعا کے لیے آگے بڑھا یا جائے اور وہ اللہ سے رو رو کر دعا کرے اور لوگ پیچھے سے آمین آمین کہہ کر تضرع وزاری کے ساتھ اللہ سے پانی کا سوال کریں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 933 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 933 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
933. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک مرتبہ لوگ قحط میں مبتلا ہوئے۔ دریں اثنا نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فر رہے تھے کہ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مال تلف ہو گیا اور بچے بھوکوں مرنے لگے، آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیے۔ آپ نے دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اس قت ہمیں آسمان پر ابر کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا مگر اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! آپ اپنے ہاتھوں کو نیچے بھی نہ کر پائے تھے کہ پہاڑوں جیسا بادل گھر آیا۔ پھر آپ منبر سے بھی نہ اترے تھے کہ میں نے آپ کی داڑھی مبارک پر بارش کے قطروں کو ٹپکتے دیکھا۔ اس دن خوب بارش ہوئی، اور دوسرے تیسرے دن بھی پھر چوتھے دن بھی یہاں تک کہ دوسرے جمعے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد وہی اعرابی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:933]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بحالت خطبہ امام سے کسی عوامی ضرورت کے لیے دعا کی درخواست کی جا سکتی ہے اور امام دوران خطبہ ہی میں ایسی درخواست پر عمل درآمد کر سکتا ہے۔
(2)
استسقاء کی تین صورتیں ہیں: ٭ باقاعدہ باہر کسی کھلے میدان میں جا کر نماز پڑھنا پھر ایک مخصوص طریقے سے دعا کرنا۔
٭ کسی بھی نماز کے بعد بارش کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔
٭ دوران خطبہ میں کسی کی درخواست پر ہاتھ اٹھا کر بارش کے لیے دعا کرنا۔
امام بخاری ؒ نے اس آخری صورت کو یہاں بیان کیا ہے۔
اس کا تفصیلی ذکر کتاب الاستسقاء میں آئے گا۔
(3)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ایک اہم معجزہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو آپ کا فرمان تسلیم کرنے پر مامور فرما دیا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 933 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1528 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جب بارش سے نقصان کا ڈر ہو تو امام۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش نہیں ہو رہی ہے، زمین سوکھ گئی ہے، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے (کہ بارش ہونے لگی) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہو گیا، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! گھر گر گئے، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم (انسان) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور (اب) ہم پر نہ برسا تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1528]
1528۔ اردو حاشیہ: ’’بغلوں کی سفیدی بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ شاید آپ کی بغلوں میں بال نہ تھے مگر یہ بات غلط اور بلادلیل ہے۔ آپ کو انسانی عوارض سے مبرا قرار دینے کی کوشش کرنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں اور نہ یہ چیز فضیلت کا موجب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکمل انسان تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1528 سے ماخوذ ہے۔