صحيح مسلم
كتاب صلاة العيدين— نماز عیدین کے احکام و مسائل
باب مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ: باب: نماز عید میں کیا پڑھنا چاہیے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ ، " مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ " فَقَالَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ " .مالک نے ضمرہ بن سعید مازنی سے اور انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر میں کون سی سورت قراءت فرماتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سورہ «ق والقرآن المجيد» اور سورہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھا کرتے تھے۔
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : " سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَمَّا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْعِيدِ ، فَقُلْتُ : بِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ " .فلیح نے ضمرہ بن سعید سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انہوں نے حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس بارے میں پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں کیا پڑھا؟ تو میں نے کہا: «اقتربت الساعة» اور «ق والقرآن المجيد»۔
تشریح، فوائد و مسائل
مکذبین کے حالات کی تفصیل ہے اور ایمان داروں کی سرفرازی کا بیان ہے۔
قوموں کے عروج وزوال کی داستان ہے رسول کی ذمہ داری کا بیان اور اس کے لیے جس صبر واستقامت کی ضرورت ہے اس کے حصول کے لیے نماز کی تلقین ہے اس طرح یہ سورۃ انتہائی عبرت انگیز اور سبق آموز ہے۔
اسی طرح سورۃ ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ میں مختلف قوموں کے حالات وواقعات بیان کرکے ان کے انجام سے سبق لینے کی ہدایت ہے اوربتایا گیا ہے کہ قرآن مجید عبرت ونصیحت اور یاد دہانی حاصل کرنے کے لیے ہر پہلو سے آراستہ ہے اس لیے تم اس سے فائدہ اٹھا کر اپنا انجام اچھا بنا لو۔
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد الیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں «ق والقرآن المجيد» اور «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1154]
عیدین میں ان سورتوں کی قرأت مسنون اور مستحب ہے۔
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے تو ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے انہوں نے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن نماز عید میں کون سی سورۃ پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: سورۃ «قٓ» اور «اقتربت الساعۃ» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1282]
فائدہ: عیدین کی نمازوں میں دونوں احادیث میں مذکور سورتیں پڑھنا درست ہے۔
دونوں میں سے جس حدیث کے مطابق تلاوت کی جائےگی سنت پر عمل ہوجائے گا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ میڈیم عید نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ ”ق“ اور دوسری رکعت میں سورۃ ” القمر“ کی تلاوت کرتے تھے۔ جبکہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ اور نماز عید کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم بصلوة المسافرين: 878]
علمائے کرام کو مسنون قرأت کا ہی اہتمام کرنا چاہیے۔