حدیث نمبر: 886
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَا : لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَخْبَرَنِي ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، " أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ ، وَلَا بَعْدَ مَا يَخْرُجُ ، وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ " .

محمد بن رافع نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی ان دونوں نے کہا: عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی۔ (ابن جریج نے کہا: کہ) میں نے کچھ عرصے بعد اس کے بارے میں عطاء سے پھر پوچھا تو انہوں نے مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ عید الفطر کے دن اذان نہیں ہے نہ اس وقت جب امام نکلے اور نہ نکلنے کے بعد نہ اقامت ہے نہ اعلان اور نہ کوئی اور چیز اس دن نہ اذان ہے اور نہ اقامت۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ ، " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلَا تُؤَذِّنْ لَهَا ، قَالَ : فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يُفْعَلُ ، قَالَ : فَصَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ " .

محمد بن رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے آغاز ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ عید الفطر کے دن نماز (عید) کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی لہذا آپ اس کے لیے اذان نہ کہلوائیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے اذان نہ کہلوائی اور اس کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور (عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں) ایسے ہی کیا جاتا تھا۔ (عطاء نے) کہا: تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نماز خطبے سے پہلے پڑھائی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 886
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس اور جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم بیان کرتے ہیں، عید الفطر کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی اور نہ ہی عید الاضحیٰ کے دن۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس کے بارے میں عطاء سے پھر پوچھا تو انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سنائی کہ عید الفطر کے دن اذان نہیں ہے امام کے نکلتے وقت اور نہ نہ ہی نکلنے کے بعد، نہ تکبیر ہے اور نہ پکار و صدا اور نہ کوئی اور چیز،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2049]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
عیدین کی نماز حنابلہ کے نزدیک فرض کفایہ ہے۔
مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے اور احناف کے نزدیک واجب ہے۔
لیکن جمعہ کی طرح شہر والوں پر واجب ہے دیہات والوں پر نہیں۔

عیدین کی نماز کے لیے اذان اور تکبیر نہیں ہے اور عیدین کی نمازمیں پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک تکبیر تحریمہ سمیت سات تکبیریں ہیں اور شوافع کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے بغیر سات تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں ائمہ ثلاثہ کے نزدیک قیام میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں ہیں۔
احناف کے نزدیک پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے تکبیر تحریمہ کے بعد تین تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد تین تکبیریں ہیں اور چوتھی تکبیر رکوع کے لیے ہے۔
راجح یہی ہے کہ پہلی رکعت میں تکبیرتحریمہ کے علاوہ سات تکبیریں کہی جائیں۔

عیدین کا خطبہ جمعہ کے برعکس نماز کے بعد ہے۔
اور اس میں موقع ومحل کے مطابق وعظ ونصیحت اور تذکیر وتلقین ہے۔
اگر عورتوں تک آواز نہ پہنچے کیونکہ وہ الگ مردوں کے پیچھے ذرا ہٹ کرعیدین میں شریک ہوتی ہیں۔
تو ان کو مردوں کے بعد خصوصی ان کے ظروف واحوال کے مطابق وعظ ونصیحت کی جائے گی اور ان کو خصوصی طور پر صدقہ کی ترغیب دی جائے گی۔
اور وہ اپنے زیورات سے خاوند کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے کی مجاز ہیں۔
آج کل لاؤڈ سپیکر کی بنا پر الگ وعظ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

عیدین کے لیے اذان، اقامت یا اعلان وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسلمانوں کو اس تہوار اور جشن مسرت میں خود اپنے طور پر اہتمام کر کے شرکت کرنی ہو گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 886 سے ماخوذ ہے۔