صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ، يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ " نَعَمْ ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ " ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ " .غندر نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن عطاء بن ابی خوار نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انہیں نمر کے بھانجے سائب کے پاس بھیجا ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھنے کے لیے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز میں دیکھی تھی۔ سائب نے کہا: ہاں، میں نے مقصورہ (مسجد کے حجرے) میں ان کے ساتھ جمعہ پڑھا تھا۔ اور جب امام نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور نماز پڑھی۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو کام تم نے کیا ہے آئندہ نہ کرنا۔ جب تم جمعہ پڑھ لو تو اسے کسی دوسری نماز سے نہ ملانا یہاں تک کہ گفتگو کر لو یا اس جگہ سے نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا تھا کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں حتیٰ کہ ہم گفتگو کر لیں یا (اس جگہ سے) نکل جائیں۔
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : " فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي " ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَامَ .حجاج بن محمد نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمر بن عطاء نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید کے پاس بھیجا۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا۔ مگر (اس روایت میں) یہ ہے کہ سائب نے کہا: جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے (سلام پھیرا کہا) امام کا ذکر نہیں کیا۔