صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ " .نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جا کراپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے پھر انہوں نے (ابن عمر) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ " ، قَالَ يَحْيَى : أَظُنُّنِي قَرَأْتُ " فَيُصَلِّي أَوْ أَلْبَتَّةَ " .یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ پر (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کو بیان کیا اور کہا کہ آپ جمعے کے بعد کوئی (نفل) نماز نہ پڑھتے حتیٰ کہ واپس تشریف لے جاتے پھر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے (امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے) فیصلی پڑھا تھا یا یقین ہے (کہ یہی پڑھا تھا)۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ " .سالم نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، (جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1127]
➊ فرائض کے بعد فوراً اس جگہ نوافل نہیں پڑھنے چاہیں بلکہ جگہ بدل لی جائے یا کسی سے بات چیت یا اذکار کے ذریعے سے وقفہ کیا جائے۔
➋ جمعہ کے بعد گھر میں جا کر دو رکعتیں پڑھنا سنت ہے۔
➌ علماء کے ذمہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جرأت سے ادا کیا کریں لیکن اس عظیم مقصد کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کو اس کی تلقین کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں۔ یعنی اپنے اخلاق کردار اور اعمال کو سنت مطہرہ کے مطابق بنائیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1130]
فائده:
رسول اللہ ﷺ نفلی نماز اور سنتیں گھر میں ادا کرتے تھے۔
تاہم مسجد میں بھی سنتیں پڑھنا جائز ہے۔