صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ ، فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا " .خالد بن عبداللہ نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ چکے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ ، فَصَلُّوا أَرْبَعًا " . زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : قَالَ سُهَيْلٌ : " فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعہ کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعت پڑھو‘‘ عمرو کی روایت میں ہے سہیل نے کہا: اگر تمھیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعت مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعت واپس جا کر(گھر میں) پڑ ھ لو۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ ، فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : مِنْكُمْ .حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”تم میں سے کوئی جب جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو چار رکعت پڑھے۔‘‘ جریر کی حدیث میں ”مِنكُم‘‘ (تم میں سے) کا لفظ نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1427]
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہی نظریہ ہے۔
امام اسحاق کا قول ہے مسجد میں پڑھے تو چار پڑھے اور اگر گھر میں پڑھے تو دو پڑھ لے شاہ ولی اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کی سنتوں کو گھر میں پڑھنا افضل ہے دو پڑھ لے یا چار۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (محمد بن صباح کی روایت میں ہے) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو (گھر پر) دو رکعت اور پڑھو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1131]
یہ تلقین ترغیب اور استحباب کے لیے ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1132]
فائدہ: معلوم ہوا کہ جمعے کی فرض نماز کے بعد دو رکعت سنت بھی اد ا کی جاسکتی ہے۔
اور چار رکعت بھی اور بعض نے ان دونوں کے درمیان یہ تطبیق دی ہے۔
کہ مسجد میں پڑھے تو چارسنتیں پڑھے۔ (دو دو کرکے یا بہ یک سلام)
اور گھر جا کر پڑھے تو دو رکعت پڑھے۔ (مرعاۃ)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہئیں، اور دو رکعت پڑھنا بھی درست ہے (صحیح البخاری: 895) جو میسر آ جائیں وہ پڑھ لی جائیں نفلی نماز کا گھر میں اہتمام کرنا افضل ہے۔