صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کہ دن کیا پڑھنا چاہیے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ ، وَالْمُنَافِقِينَ " .عبدہ بن سلیمان نے سفیان سے روایت کی، انہوں نے مخول بن راشد سے، انہوں نے مسلم البطین سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن فجر کی نماز میں «الم ﴿﴾ تَنْزِيلُ الْكِتَابِ» السجدہ اور «هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ» پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی نماز میں سورہ الجمعة اور سورہ المنافقون پڑھتے تھے۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .عبداللہ بن نمیر اور وکیع دونوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ فِي الصَّلَاتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا ، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ .شعبہ نے مخول سے اسی سند کے ساتھ دونوں نمازوں کے بارے میں اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی جس طرح سفیان نے (اپنی روایت میں) کہا۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں «تنزیل سجدہ» (سورۃ السجدہ) اور «ھل أتی علی الإنسان» (سورۃ دھر) پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 957]
مگر دوام اور ہمیشگی والے الفاظ ضعیف ہیں۔ دیکھیے: (بلوغ المرام، حدیث: 228 کی تحقیق)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» (سورۃ سجدۃ)، اور «هل أتى على الإنسان» (سورۃ الدہر) پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 821]
فوائد و مسائل:
(1)
ائمہ مساجد کو چاہیے کہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں یہ سورتیں پڑھا کریں۔
اگرچہ کوئی اور سورت پڑھنے سے بھی نماز درست ہوگی۔
لیکن ان سورتوں کا پڑھنا مسنون ہے۔
(2)
اس میں شاید یہ حکمت ہوگی کہ ان دونوں صورتوں میں انسان کی پیدائش، خاتمہ، آدم علیہ السلام، جنت، دوزخ اور قیامت کا ذکر ہے۔
یہ سب باتیں جمعہ کے دن ہونے والی ہیں اور کچھ ہوچکی ہیں۔