صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب مَا يُقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق ، جميعا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ، قَالَ : وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ " .حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ پڑھتے تھے اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہو جاتے تو آپﷺ دونوں نمازوں میں ہی انہیں پڑھتے۔
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت امام صاحب نے ایک دوسری سند سے بیان کی ہے۔
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ " أَيَّ شَيْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ ؟ " فَقَالَ : " كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ " .عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا: ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ (اور) کون سی سورت پڑھی؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”هَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ“ پڑھا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
سورہ اعلیٰ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج اور ترتیب ہے۔
اس لیے اپنے رب پر بھروسہ رکھو جلد وہ وقت آئے گا جب تمہاری محنت وکوشش بارآور ہو گی اور تمہاری سعی بامراد ہو گی۔
پیغمبر اور مبلغ کا کام سنانا ہے اور سنیں گے صرف وہی لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور کامیابی انہیں خوش بختوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے آپ کو پاک کیا۔
اپنے رب کو یاد کیا اورنماز پڑھی جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی لذت کو جوعارضی اور فانی ہے۔
آخرت پر جو بہتر اور پائیدار ہے ترجیح دیتے ہیں۔
وہ کامیابی اور کامرانی سے ہم کنار نہیں ہو سکتے۔
دین کی پابندی ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔
اور سورہ غاشیہ میں بتایا گیا ہے جو لوگ قیامت سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔
ان کو قیامت کے دن کن حالات سے سابقہ پیش آئے گا اور جو لوگ قیامت سے ڈرتے ہوئے زندگی گزار دیں گے۔
ان کو کس قسم کی کامیابی نصیب ہو گی۔
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1425]
➋ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جمعے کے دن عید آ جائے تو عید بھی پڑھی جائے اور جمعہ بھی، خطیب اور قرب و جوار کے لوگوں کے لیے یہی افضل ہے، اگر وہ جمعے کی بجائے ظہر پڑھ لیں تو بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1569]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عید دونوں میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1591]
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 533]
1؎:
یعنی اس سند میں حبیب بن سالم اور نعمان بن بشیر کے درمیان حبیب کے والد کا اضافہ ہے، جو صحیح نہیں ہے۔
2؎:
یعنی: بغیر ’’عن أبیہ‘‘ کے اضافہ کے، یہ روایت آگے آ رہی ہے۔
3؎:
اس میں کوئی تضاد نہیں، کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں، بہر حال ان کی قراءت مسنون ہے، فرض نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔
مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گنا ہ ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ نماز عید اور نماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ کی قرٱت کرنی چاہیے۔