حدیث نمبر: 873
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ : " مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ " ، قَالَتْ : " وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا " .

عبداللہ بن محمد بن معن نے حارثہ بن نعمان کی بیٹی (ام ہشام) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے سورہ ”ق“ (کسی اور سے نہیں براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ ہر جمعے میں اسے پڑھ کر خطاب فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا: ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور ایک ہی تھا۔

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إسحاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ ، وَمَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ، إِذَا خَطَبَ النَّاسَ " .

یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمان بن سعد نے زرارہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور دو یا ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ ایک ہی رہا اور میں نے سورہ ”ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ“ (کسی اور سے نہیں بلکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ ہر جمعے کے دن جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 873
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 950 | صحيح مسلم: 872 | صحيح مسلم: 873 | سنن ابي داود: 1100 | سنن ابي داود: 1102 | مسند الحميدي: 20

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
ہر خطبۂ جمعہ میں سورۃ قٓ کی تلاوت
ہر خطبۂ جمعہ میں سورۃ قٓ کی تلاوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 873، ترقيم دارالسلام: 2014]
علامہ نووی نے کہا: «و فيه استحباب قراءة قٓ أو بعضها فى كلّ خطبة» اور اس (حدیث) میں (اس کا) ثبوت ہے کہ سورۃ قٓ یا بعض سورۃ قٓ کی قرأت ہر خطبے میں مستحب ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي 6/161 تحت ح 873]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبۂ جمعہ میں سورۃ آل عمران کی قرأت پسند کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 2/ 115 ح 5203 وسنده حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبے میں سورۃ النحل کی تلاوت کی اور بعد میں لوگوں کو یہ مسئلہ سمجھایا کہ اگر کوئی سجدۂ تلاوت نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري: 1077]
، یعنی سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہے۔
معلوم ہوا کہ خطبۂ جمعہ میں سورۃ قٓ کا پڑھنا فرض، واجب یا ضروری نہیں بلکہ مسنون ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17
اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 950 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز فجر میں سورۃ «‏‏‏‏ق» ‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔`
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سن سن کر) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں (بکثرت) پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 950]
950۔ اردو حاشیہ: ➊ یہ حدیث، خواتین کے مسجد میں حاضر ہو کر باجماعت نماز ادا کرنے پر صریح اور واضح دلالت کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری صحابیات رضی اللہ عنھن کا یہ معمول تھا۔
➋ اس سورت کی آیات چھوٹی چھوٹی اور مضمون بہت مؤثر ہے۔ الفاظ کے ترنم سے معانی کی اثر انگیزی مزید بڑھ جاتی ہے۔ قیامت وغیرہ کا ذکر سوز میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ سورت تلاوت فرماتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 950 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 873 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارااوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور دو یا ڈیڑھ سال ایک ہی رہا ہے اور میں نے سورہ ﴿ق ۚ وَالْقُرْ‌آنِ الْمَجِيدِ﴾ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہی سے سن کر یاد کی ہے۔ آپﷺ ہر جمعہ میں جب لوگوں کوخطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2015]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سورہ ق ایک انتہائی جامع صورت ہے۔
اس میں انتہائی مؤثر وعظ وتذکیر ہے، اس لیے آپﷺ خطبہ جمعہ میں اس کے مضامین کو جمعہ کے خطبہ کا موضوع بناتے تھے اور وقتاً فوقتاً اس کی مختلف آیات کے ذریعہ وعظ ونصیحت فرماتے اس طرح مختلف خطبات جمعہ میں یہ مکمل ہوئی کہ عورتوں نے اس کو تھوڑا تھوڑا سن کر یاد کرلیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ آیاتِ قرآنیہ کو ہی جمعہ کے خطبہ میں موضوع سخن بناتے تھے اور آپﷺ کا خطبہ انہیں کے گرد گھومتا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 873 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1100 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔`
(ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان (مبارک) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1100]
1100۔ اردو حاشیہ:
خطبہ جمعہ میں قرآن کریم کی آیات ہی سے وعظ کہنا چاہیے۔ اور سورہ ق کو موضوع بنانا مسنون و موکد ہے کہ سامعین کو قیامت اور اس کے حساب کتاب کی شدت یاد دلائی جائے۔ اور وہ اقوام سابقہ کی تاریخ و انجام سے بھی غافل نہ رہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1100 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 20 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
عاصم بن عمر بن خطاب اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب رات اس طرف سے آ جائے اور دن اس طرف سے رخصت ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے، تو روزہ دار شخص روزہ کھول لے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:20]
فائدہ:
اس حدیث میں روزہ افطار کرنے کا وقت بتایا گیا ہے، اور وہ ہے سورج کا غروب ہونا، بعد از غروب مزید انتظار یا احتیاط سنت کی مخالفت ہے۔
ایک دوسری حدیث میں افطاری میں جلدی کرنے کی تاکید وارد ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يزال الـديـن ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود والنصرى يؤخرون» دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاریٰ تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔ (اسنادہ حسن، سنن أبي داود: 2353، سنن ابن ماجه: 1698، اس کو ابن خزیمہ (2060) اورا بن حبان (889) نے صحیح اور حاکم (431/1) نے علی شرط مسلم کہا ہے۔)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 20 سے ماخوذ ہے۔