صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب تَخْفِيفِ الصَّلاَةِ وَالْخُطْبَةِ: باب: نماز اور خطبہ مختصر پڑھانے کا بیان۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ : خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قُلْنَا : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ ، مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .ابووائل نے کہا: ہمارے سامنے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔ انتہائی مختصر اور انتہائی بلیغ (بات کی) جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا: ابویقظان! آپ نے انتہائی پر تاثیر اور انتہائی مختصر خطبہ دیا ہے، کاش! آپ سانس کچھ لمبی کر لیتے (زیادہ دیر بات کر لیتے) انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”انسان کی نماز کا طویل ہونا اور اس کے خطبے کا چھوٹا ہونا اس کی سمجھداری کی علامت ہے، اس لیے نماز لمبی کرو اور خطبہ چھوٹا کرو، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بیان جادو (کی طرح) ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
تنفست: آپ سانس لیتے، یعنی خطبہ کچھ لمبا کرتے تو یہ بہتر ہوتا۔
(2)
مئنة: میم پر زبر ہے اور ہمزہ پر زیر ہے اور نون مشدد ہے۔
علامت، جس سے کسی چیز کی پہچان اور شناخت ہوتی ہے۔
(3)
إِنَّ مِنَ الْبَيَان سحرًا: بعض بیان جادو اثر ہوتے ہیں، یعنی جس طرح جادو فوری طور پر اثر کرتا ہے اسی طرح بعض بیان اس قدر بلیغ اور مؤثر ہوتے ہیں کہ سامع ان کا فوری اثر قبول کرتا ہے اور اس کا دل خطیب کی گرفت میں ہوتا ہے وہ جدھر چاہے اسے مائل کر دے۔
اس خطیب نے یہ کام احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے کیا تو قابل تعریف ہے اور اگر حق کے خلاف باطل کی تائید میں کیا ہے تو قابل مذمت ہے۔
بہرحال وہ جادو کی طرح مؤثر ہر صورت میں ہے۔
فوائد ومسائل: 1۔
طوالت نماز۔
نماز کا تعلق اپنے خالق اور مالک سے ہے جو اس کی یاد اور اس سے راز ونیاز پر مشتمل ہے۔
اس لیے اس میں ہرانسان فرداً فرداً حصہ لیتا ہے۔
اور اس میں ہر ایک دلچسپی کا سامان ہے۔
اس لیے اس میں طمانیت اور تسکین واعتدال کی ضرورت ہے اور نماز میں طوالت کی ضرورت ہے۔
لیکن اس قدر نہیں کہ مقتدیوں کے لیے مشقت اورکلفت کا باعث بنے۔
2۔
خطبہ میں اختصار۔
خطبہ کا تعلق لوگوں سے ہے، خطیب ان کو مخاطب کرتا ہے۔
ہرانسان کا اس میں دخل نہیں ہے۔
اور خطیب کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ اس کی بات جامع، مؤثر اور مختصر ہو۔
اس میں طول بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو۔
لیکن اصل وضع کے اعتبار سے چونکہ خطیب اس میں اپنی ٹھلانت لسانی اور زور بیان کا اظہار کرتا ہے اس لیے یہ طویل اور لمبا ہوتا ہے۔
اس لیے جمعہ کا خطبہ عام خطبوں سے مختصر رکھا گیا ہے۔
کیونکہ اس کے کچھ مخصوص آداب اور احکام ہیں جن کی پابندی عام خطبوں میں نہیں ہے۔
اس لیے یہ ان کے مقابلہ میں مختصر ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کے لیے اس کے پورے آداب اور احکام کا ملحوظ رکھنا اور انتہائی توجہ اور غورسے سننا ممکن ہو سکے۔
طول بیانی میں انہماک اور توجہ کا برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی آداب واحکام کی پابندی آسان ہوتی ہے۔