حدیث نمبر: 868
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، كلاهما ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ : إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ ، فَقَالَ : لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَيَّ ، قَالَ : فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ ، وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدِي مَنْ شَاءَ ، فَهَلْ لَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَمَّا بَعْدُ " ، قَالَ : فَقَالَ : أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَقَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ ، وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ ، قَالَ : فَقَالَ : هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، قَالَ : فَبَايَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَى قَوْمِكَ " ، قَالَ : وَعَلَى قَوْمِي ، قَالَ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ : هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَاءِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً ، فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ .

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضماد مکہ آیا، وہ (قبیلہ) ازد شنوء سے تھا اور آسیب کا دم کیا کرتا تھا (جسے لوگ ریح کہتے تھے، یعنی ایسی ہوا جو نظر نہیں آتی، اثر کرتی ہے) اس نے مکہ کے بے وقوفوں کو یہ کہتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون ہو گیا ہے (نعوذ باللہ) اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھوں شفا بخش دے۔ کہا: وہ آپ سے ملا اور کہنے لگا: اے محمد! میں اس نظر نہ آنے والی بیماری (ریح) کو زائل کرنے کے لیے دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفا بخشتا ہے تو آپ کیا چاہتے ہیں (کہ میں دم کروں؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب میں) کہا: ”ان الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ من یہدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ہادی لہ واشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ اما بعد“ یقیناً تمام حمد اللہ کے لیے ہے، ہم اسی کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں، جس کو اللہ سیدھی راہ پر چلائے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے، اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہی اکیلا (معبود) ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے، اس کے بعد! کہا: وہ بول اٹھا: اپنے یہ کلمات مجھے دوبارہ سنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرائے۔ اس پر اس نے کہا: میں نے کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں (سب) کے قول سنے ہیں، میں نے آپ کے ان کلمات جیسا کوئی کلمہ (کبھی) نہیں سنا، یہ تو بحر (بلاغت) کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور کہنے لگا: ہاتھ بڑھایئے! میں آپ کے ساتھ اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ کہا: تو اس نے آپ کی بیعت کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تیری (طرف سے تیری) قوم (کے اسلام) پر بھی (تیری بیعت لیتا ہوں)“ اس نے کہا: اپنی قوم (کے اسلام) پر بھی (بیعت کرتا ہوں) اس کے بعد آپ نے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) بھیجا، وہ ان کی قوم کے پاس سے گزرے تو امیر لشکر نے لشکر سے پوچھا: کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے اس نے کہا: اسے واپس کر دو کیونکہ یہ (کوئی اور نہیں بلکہ) ضماد کی قوم ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 868
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3280 | سنن ابن ماجه: 1893

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ازد شنوء قبیلہ کا فرد ضماد مکہ آیا وہ آسیب کا دم کرتا تھا اس نے مکہ کے بے وقوف اور کم عقل لوگوں سے سنا کہ محمد (ﷺ) دیوانہ ہے تو اسنے دل میں کہا، اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھوں شفا بخش دے، اس کے لیے وہ آپﷺ سے ملا اور کہا: اے محمد (ﷺ) میں جنات کے اثر زائل کرنے کے لیے دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفا بخشتا ہے،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2008]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
آپﷺ کے خطبہ کے کلمات اس قدر جامع اور پرتاثیر ہیں کہ ایک صاحب دانش وبینش، ان کلمات کو سن کر ہی آپﷺ کے دین کی حقانیت اور آپﷺ کی صداقت کا قائل ہوجاتا ہے۔
بشرط یہ کہ وہ ان کلمات کے معانی اور مطالب کو سمجھتا ہو اور صاحب فکر اور اہل نظرہو۔

ضماد کا تصور یہ تھا کہ جنون ودیوانگی آسیبی مرض ہے جو جنات کی چھوت سے پیدا ہوتا ہے اس لیے اس نےکہا: (إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ)
’’میں جنات کے اثر کو دم سے زائل کرتا ہوں‘‘ اگر آپﷺ رغبت اور خواہش رکھتے ہوں تو میں آپﷺ کو بھی دم کردیتا ہوں تو آپﷺ نے اسے خطبہ کے کلمات سنائے تاکہ اسے پتہ چل سکے کہ اس افواہ میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کتنا ہے۔
اس نے یہ کلمات سن کر تجزیہ وتحلیل کر کے بتا دیا کہ فن گفتگو کا کوئی ماہر اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچتا۔
ناموس البحر سمندر کی تہہ اور اس کی گہرائی کو کہتے ہیں کہ میں آپﷺ کے کلام میں تو کمال درجہ کی فصاحت وبلاغت ہے۔
اس درجہ تک تو اس میدان کا کوئی شاہسوار نہیں پہنچ سکتا۔

جاہلیت کے دستور اوراصول کے مطابق کہ ہرقبیلہ اور ہر قوم اپنے سردار کے پیچھے چلتا۔
آپﷺ نے ضماد کے اسلام لانے کو پوری قوم کے اسلام لانے کا پیش خیمہ قراردیا۔
اور اس کی قوم کی طر ف سے بھی اسلام لانے کی بیعت لے لی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 868 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل خطبہ مطلقاً ثابت ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَ نَسْتَعِيْنُهُ، مَنْ يَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ، وَ أَشْهَدُ أَن لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَ (أَشْهَدُ) أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، أَمَّا بَعْدُ:» [صحيح مسلم: 868، سنن النسائي 6/ 89۔ 90 ح 3280 وسنده صحيح والزيادة منه]
«فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللهِ، وَ خَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَ شَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا وَ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ» [صحيح مسلم: 867]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو، اُس ہاتھ کی طرح ہے جو جذام زدہ (یعنی عیب دار اور ناقص) ہے۔ [سنن ابي داود: 4841، وسنده صحيح وصححه الترمذي: 1106، و ابن حبان: 1994، 579]
تشہد سے مراد کلمۂ شہادت ہے۔ دیکھئے: [عون المعبود 4/ 409]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17 اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1893 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´خطبہ نکاح کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ میں) فرمایا: «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1893]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اہم بات چیت اللہ تعالیٰ کی تعریف سے شروع کرنا مسنون ہے۔

(2)
ہر کام میں اللہ سے مدد مانگنا اور اسی سے توفیق طلب کرنا توحید کا حصہ ہے۔

(3)
انسان کا دل گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں برے کام سرزد ہوتے ہیں۔
بعض اوقات انسان ایک کام کو اپنے لیے بہتر سمجھ کر کرتا ہے لیکن اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
ان برے نتائج سے اللہ کی رحمت کے ساتھ ہی محفوظ رہا جا سکتا ہے لہذا اللہ ہی سے دعا کی جاتی ہے کہ نکاح کا معاملہ ہو یا دوسرے اہم معاملات اللہ اس کا انجام بہتر کرے۔

(5)
ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اسی سے ہدایت اور رہنمائی طلب کی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1893 سے ماخوذ ہے۔