حدیث نمبر: 865
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي أَخَاهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ ، عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " .

حکم بن میناء نے حدیث بیان کی کہا: حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے منبر کی لکڑیوں پر (کھڑے ہوئے) فرما رہے تھے: ”لوگوں کے گروہ ہر صورت جمعہ چھوڑ دینے سے باز آجائیں یا اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 865
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا آپﷺ منبر کے اوپر فرما رہے تھے کہ جمعہ چھوڑنے والے لوگ یا تو اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں یا یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ (ان کے گناہ کی پاداش میں) ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا۔ پھر وہ غافلوں ہی میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2002]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے جمعہ کی غیرمعمولی اہمیت ثابت ہوتی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معصیات ومنکرات کاعادی ہو جانے کی صورت میں انسان اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر مہرلگا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان نیکی وخیر کی صلاحیت اور استعداد سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کو نیکی کی توفیق نہیں ملتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 865 سے ماخوذ ہے۔