حدیث نمبر: 864
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أم الحكم يخطب قاعدا ، فقال : " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 " .

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں آئے، دیکھا کہ (اموی والی) عبدالرحمان بن ام حکیم بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، انہوں نے فرمایا: اس خبیث کو دیکھو، بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو ادھر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 864
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں آئے جبکہ عبدالرحمان بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا، تو انہوں نےفرمایا: ’’اس خبیث کودیکھو، بیٹھ کرخطبہ دے رہا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور جب انہوں نے تجارت یا مشغلہ دیکھا، اس کی طرف دوڑ گئے اور تمہیں کھڑے چھوڑ دیا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2001]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کوئی خلاف سنت کام دیکھ کر برداشت نہیں کرتے تھے ایسا کام کرنے والے کو فوراً تنبیہ کرتےتھے۔
اس لیے جب حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعبدالرحمان بن ام الحکم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا تو برملا کہا۔
اس خبیث کو دیکھو، یعنی اس کو خبیث کے نام سے پکارا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 864 سے ماخوذ ہے۔