صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ: باب: جمعہ کا خطبہ خاموشی سے اور توجہ سے سننے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَصَلَّى مَا قُدِّرَ لَهُ ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ ، ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ، وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .سہیل نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے غسل کیا، پھر جمعے کے لیے حاضر ہوا، پھر اس کے مقدر میں جتنی (نفل) نماز تھی پڑھی، پھر خاموشی سے (خطبہ) سنتا رہا حتیٰ کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہو گیا، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے اس جمعے سے لے کر ایک اور (پچھلے یا اگلے) جمعے تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مزید تین دنوں کے بھی۔“
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كَريْب ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ لآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا " .حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا اور وضو اچھی طرح کیا، پھر جمعے کے لئے آیا، خطبہ پر کان دھرے اور خاموش رہا اس کے اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اورتین دن زائد کے۔ اور جو کنکریوں سے کھیلتا رہا اسے نے لغو اور فضول کام کیا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے جو انسان بڑے اہتمام کے ساتھ غسل کرکے خطبہ سے پہلے جمعہ کے لیے آتا ہے اورمقدور بھر نفل ونوافل پڑھتا ہے اور خطبہ شروع ہونے پر توجہ کے ساتھ، خاموشی سے خطبہ سنتا ہے۔
تو اس کے دس دن کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور باقی اجروثواب الگ ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ” جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا ۱؎ پھر جمعہ کے لیے آیا ۲؎، امام کے قریب بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے ۳؎ کے گناہ ۴؎ بخش دیئے جائیں گے۔ اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو کیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 498]
1؎:
اچھی طرح وضو کیا کا مطلب ہے سنت کے مطابق وضو کیا۔
2؎:
اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے وضو کر کے مسجد میں آنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔
3؎:
یعنی دس دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں کیونکہ ایک نیکی کا اجر کم سے کم دس گنا ہے۔
4؎:
اس سے صغیرہ گناہ مراد ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1050]
اچھے وضو سے مراد سنت کے مطابق کامل وضو ہے، جس میں نہ کوئی کمی رکھی گئی ہو نہ پانی کا اسراف ہو۔
➋ اس بخشش میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ کی تصدیق ہے کہ: «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» [الانعام: 160]
جو کوئی نیکی کرے اس کے لئے اس کا دس گنا (اجر) ہے۔
➌ یہ حدیث خطبہ جمعہ خاموشی اور غور سے سننے پر دلالت کرتی ہے اور اسی مسنون انداز کے اختیار کرنے پر اتنے بڑے اجر و ثواب کی بشارت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے نماز میں کنکریوں کو چھوا، اس نے فضول کام کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1025]
فوائد و مسائل:
(1)
نبی اکرم ﷺ کے زمانہ مبارک میں مسجدوں کے فرش پختہ نہیں ہوتے تھے۔
اس لئے وہاں کنکریاں بچھا دی جاتی تھیں تاکہ کپڑوں کو مٹی نہ لگے۔
(2)
کنکریوں کوچھونے سے مراد بلاضرورت چھونا ہے۔
جو ادب کے منافی ہے۔
اسی طرح چٹائی کے تنکوں سے کھیلنا یا نیچے بچھائی ہوئی کسی بھی چیز کی طرف اس طرح متوجہ ہونا کہ نماز سے توجہ ہٹ جائے نامناسب ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1090]
فوائد و مسائل:
(1)
آداب کا پوری طرح لحاظ رکھتے ہوئے نماز جمعہ کی ادایئگی سے دس دن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(2)
اس قسم کی احادیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ایک نیکی کرلینے کے بعد اب مزید کسی نیکی کی ضرورت نہیں، نہ گناہوں سے اجتناب کی ضرورت ہے۔
کیونکہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کا نیک عمل کس حد تک قابل قبول ہے۔
لہٰذازیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔