صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب هِدَايَةِ هَذِهِ الأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ: باب: اس امت کو جمعہ کے دن کی ہدایت (توفیق) کا ملنا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَضَلَّ اللَّهُ ، عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ ، وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ ، فَجَاءَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ ، فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ ، تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ، وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ " . وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ : الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ .ابوکریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے ابن فضیل نے ابومالک اشجعی (سعد بن طارق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز انہوں (ابومالک) نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں (صحابیوں) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ کی راہ سے ہٹا دیا، اس لیے یہود کے لیے ہفتے کا دن ہو گیا اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اس دنیا میں لایا) اور جمعے کے دن کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ اس نے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار رکھا (جس طرح وہ عبادت کے دنوں میں ہم سے پیچھے ہیں) اسی طرح قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے۔ اہل دنیا میں سے ہم سب کے بعد ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ جن کا فیصلہ (باقی) مخلوقات سے پہلے کر دیا جائے گا۔“ واصل کی روایت میں (المقضی لہم کی جگہ) المقضی بینہم (جن کے درمیان فیصلہ) ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُدِينَا إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَأَضَلَّ اللَّهُ عَنْهَا مَنْ كَانَ قَبْلَنَا " ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ .حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری جمعہ کے بارے میں رہنمائی کی گئی اور ہم سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس سے پھسلا(بہکا)دیا۔‘‘ آگے اوپر والی روایت کےہم معنی روایت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب (پہلے) جمعہ ہے، پھر ہفتہ (سنیچر) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1369]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ۱؎، یہود نے ہفتہ کا دن، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن (عبادت کے لیے) منتخب کیا، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا والوں سے (آمد کے لحاظ سے) آخر ہیں، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں “ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1083]
فوائد و مسائل:
(1)
ہفتے کے سات دنوں میں جمعے کادن افضل ہے۔
(2)
امت محمدیہ دوسری امتوں سے افضل ہے۔
اس کی فضیلت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے امت محمدیہ کا حساب کتاب ہوگا۔
اس طرح اس امت کے نیک لوگ دوسری امتوں کے صالحین سے پہلے جنت میں جایئں گے۔
(3)
اس دن کی فضیلت کا تقاضا ہے۔
کہ اسے اہمیت دی جائے۔
خاص طور پر نماز جمعہ کے لئے پورے اہتمام سے تیار ی کرکے بروقت مسجد میں حاضری دی جائے۔
(4)
اس دن کی فضیلت کے چند مظاہر کاذکراگلے باب میں آرہا ہے۔
اس حدیث میں امت مسلمہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اس حدیث میں جمعہ کی فضیلت کا بیان ہے اور یہود و نصاریٰ کی سرکشی کا بھی بیان ہے۔