حدیث نمبر: 856
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَضَلَّ اللَّهُ ، عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ ، وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ ، فَجَاءَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ ، فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ ، تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ، وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ " . وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ : الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ .

ابوکریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے ابن فضیل نے ابومالک اشجعی (سعد بن طارق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز انہوں (ابومالک) نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں (صحابیوں) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ کی راہ سے ہٹا دیا، اس لیے یہود کے لیے ہفتے کا دن ہو گیا اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اس دنیا میں لایا) اور جمعے کے دن کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ اس نے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار رکھا (جس طرح وہ عبادت کے دنوں میں ہم سے پیچھے ہیں) اسی طرح قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے۔ اہل دنیا میں سے ہم سب کے بعد ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ جن کا فیصلہ (باقی) مخلوقات سے پہلے کر دیا جائے گا۔“ واصل کی روایت میں (المقضی لہم کی جگہ) المقضی بینہم (جن کے درمیان فیصلہ) ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُدِينَا إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَأَضَلَّ اللَّهُ عَنْهَا مَنْ كَانَ قَبْلَنَا " ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ .

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری جمعہ کے بارے میں رہنمائی کی گئی اور ہم سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس سے پھسلا(بہکا)دیا۔‘‘ آگے اوپر والی روایت کےہم معنی روایت ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 856
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1369 | سنن ابن ماجه: 1083 | مسند الحميدي: 984

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1369 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ کی فرضیت کا بیان۔`
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب (پہلے) جمعہ ہے، پھر ہفتہ (سنیچر) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1369]
1369۔ اردو حاشیہ: دور رکھا اللہ تعالیٰ نے انہیں زبردستی دور نہیں رکھا بلکہ انہیں اس فیصلے کی توفیق نہیں دی ……… اور توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس پر فرض نہیں ………اس کو دور رکھنے سے بیان فرمایا، ورنہ انہوں نے اپنی مرضی سے جمعے کے خلاف اور ہفتہ یا اتوار کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔ ہمیں صحیح فیصلے کی توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ والحمدللہ علی ذلك۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1369 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1083 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کی فرضیت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ۱؎، یہود نے ہفتہ کا دن، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن (عبادت کے لیے) منتخب کیا، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا والوں سے (آمد کے لحاظ سے) آخر ہیں، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1083]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہفتے کے سات دنوں میں جمعے کادن افضل ہے۔

(2)
امت محمدیہ دوسری امتوں سے افضل ہے۔
اس کی فضیلت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے امت محمدیہ کا حساب کتاب ہوگا۔
اس طرح اس امت کے نیک لوگ دوسری امتوں کے صالحین سے پہلے جنت میں جایئں گے۔

(3)
اس دن کی فضیلت کا تقاضا ہے۔
کہ اسے اہمیت دی جائے۔
خاص طور پر نماز جمعہ کے لئے پورے اہتمام سے تیار ی کرکے بروقت مسجد میں حاضری دی جائے۔

(4)
اس دن کی فضیلت کے چند مظاہر کاذکراگلے باب میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1083 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 984 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
984- سیدنا ابویرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایاہے: ہم (دنیا میں) آخر والے ہیں اور (قیامت کے دن) پہلے ہوں گے۔ وہ اس طرح کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی ہے اور یہ (یعنی جمعہ کا دن) وہ دن ہے، جس کے بارے میں ان لوگوں نے اختلاف کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس دن کے بارے میں ہماری رہنمائی کی، تو اس دن کے حوالے سے لوگ ہمارے پیروکار ہیں۔ یہودیوں کا (مخصوص مذہبی دن) کل (یعنی ہفتہ) کا ہے۔ اور عیسائیوں کا مخصوص مذہبی دن پرسوں کا (یعنی اتوار ہے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:984]
فائدہ:
اس حدیث میں امت مسلمہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اس حدیث میں جمعہ کی فضیلت کا بیان ہے اور یہود و نصاریٰ کی سرکشی کا بھی بیان ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 984 سے ماخوذ ہے۔