صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب فِي الإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ: باب: جمعہ کے دن خطبہ میں خاموش رہنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ " .قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر نے حدیث بیان کی، ابن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے عقیل بن خالد سے خبر دی انہوں نے بن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو (اس وقت) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو تو تم نے فضول گوئی کی۔“
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، وَعَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ .عبدالملک بن شعیب بن لیث نے کہا: مجھ سے میرے والد شعیب نے میرے دادا لیث سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھ سے عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے انہوں نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ سے روایت کی نیز انہوں نے (ابن شہاب زہری) نے ابن مسیب سے بھی روایت کی ان دونوں (عمر بن عبدالعزیز اور سعید بن مسیب) نے ان (بن شہاب) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔۔۔ (آگے اسی سند حدیث) کے مانند ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، قَالَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ .امام صاحب ایک اورسند سے یہی روایت بیان کرتےہیں، سند کے ایک راوی کے نام میں تھوڑا سا فرق ہے، کہ اس سے پہلی روایت میں عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہا گیا تھا اور اس میں ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ آیا ہے۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، فَقَدْ لَغِيتَ " . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَإِنَّمَا هُوَ فَقَدْ لَغَوْتَ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن جبکہ امام خطبہ دے رہا ہے، کہا، چپ رہ تو تو نے بے جا اور غلط کام کیا۔‘‘ ابوزناد کہتے ہیں، اصل لغت، ”فَقَدْ لَغَوْتَ‘‘ ہے لیکن ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لغت، ”فَقَدْ لَغِيتَ‘‘ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
لغوت: باب ناقص ہے اور نَصَر ہے، اور دوسری حدیث میں لغيتَ ہے یہ لغي يلغي (س)
ہے معنی دونوں کا ایک ہے، بے جا، باطل اور مردود بات کرنا یا بے مقصد، فضول کام کرنا۔
فوائد ومسائل: امام کی آمد پر جب اذان کے بعد خطبہ شروع ہوجاتا ہے تو اس کو غور وتوجہ کے ساتھ سننا ضروری ہے۔
حتیٰ کہ اگر کوئی انسان اس کی مخالفت کرتے ہوئے گفتگو کررہا ہوتو اس کو روکنا بھی درست نہیں ہے۔
یہ بھی غلط اقدام ہے ائمہ اربعہ کا یہی موقف ہے پس اگر انسان کو خطبہ کی آواز نہ پہنچ رہی ہو تو جمہور کے نزدیک پھر بھی خاموشی ضروری ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کی رو سے ایسی صورت میں خاموشی ضروری نہیں ہے۔
(1)
کسی انسان کو دوران خطبہ میں موذی جانور سے خبردار کرنا یا کسی نابینے انسان کی رہنمائی کرنا اس نہی میں شامل نہیں، تاہم بہتر ہے کہ ایسے حالات میں بھی ممکن حد تک اشارے سے کام لیا جائے۔
(2)
لغو کے معنی لایعنی کام میں مشغول ہونے کے ہیں۔
(3)
دوران خطبہ میں بات کرنے والے کو اشارے سے بھی روکا جا سکتا ہے، اس لیے زبانی روکنا ایک لغو اور بے فائدہ حرکت ہے۔
حدیث میں دوران خطبہ بات کرنے یا گفتگو کرنے والے کو خاموش کرانے کی سخت ممانعت ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو کسی کو خاموش رہنے کی تلقین کرتا ہے اس کا جمعہ نہیں ہوتا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ ایسے شخص کو جمعہ کے ثواب سے محروم کر دیا جاتا ہے، تاہم فرض کی ادائیگی اس سے ساقط ہو جائے گی۔
(فتح الباري: 533/2)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران کسی سے کہا: چپ رہو تو اس نے لغو بات کی یا اس نے اپنا جمعہ لغو کر لیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 512]
1؎:
یعنی اسے جمعہ کی فضیلت نہیں ملی بلکہ اس سے محروم رہا، یہ معنی نہیں کہ اس کی نماز ہی نہیں ہوئی کیونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ اس کی نمازِ جمعہ ادا ہو جائے گی، البتہ وہ جمعہ کی فضیلت سے محروم رہے گا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ پورے انہماک اور توجہ سے سننا چاہئے، اور خطبہ کے دوران کوئی ناروا حرکت نہیں کرنی چاہئے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں (کسی سے) کہا: چپ رہو، تو تم نے لغو کیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1112]
خطبہ کے دوران میں خطیب کو سننا چاہیے اور اس کے ذمے ہے کہ لوگوں پر نظر رکھے۔ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے، کسی کو خامو ش کرانا اگرچہ امر بالمعروف ہے مگر سامع کو اس کی بھی اجازت نہیں۔ الا یہ کہ خطیب کا اس طرف خیال نہ ہو یا غفلت کرے، تو اشارے سے اس کو خامو ش کرا دے اگر اشار ہ نہ سمجھتا ہو تو ازحد مختصر الفاظ سے منع کر دے۔ [كذا فى عون المعبود]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1578]
➋ زبان سے روکنا اس لیے منع ہے کہ بسا اوقات چپ کرانے والوں کا شور بولنے والے سے بڑھ جاتا ہے، لہٰذا اشارے سے کام لیا جائے تاکہ خطبے میں سکون رہے۔
➌ ’’فضول کام کیا“ یعنی تو نے اپنے جمعے کا ثواب ضائع کر لیا کیونکہ دوران جمعہ میں فضول کام کرنا ثواب کو باطل کر دیتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: ” خاموش رہو “ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1402]
➋ احناف اس سے استدلال کرتے ہیں کہ اگر ”چپ رہ“ نہیں کہہ سکتا تو دورانِ خطبہ نماز کیسے پڑھ سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لغو کام ہے۔ کیا نماز بھی لغو ہے؟ (نعوذ باللہ] پھر نماز تو آہستہ پڑھی جاتی ہے، شور نہیں ہوتا۔ بات کرنے سے شور ہوتا ہے، نیز نماز کی روایات صریح حکم والی ہیں۔ کیا ان صریح روایات کو ایسے عمومی دلائل سے رد کیا جا سکتا ہے؟
➌ ”لغو بات کی“ لہٰذا اس کا اجر ضائع ہو گیا، یعنی فرض تو ادا ہو گیا، البتہ جمعے کی فضیلت حاصل نہ ہوئی۔ گویا ظہر پڑھ لی۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کا فرض بھی ادا نہ ہوا کیونکہ خطبہ عین نماز نہیں۔ واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے دوران خطبہ کہا کہ چپ رہو، تو تم نے لغو کام کیا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1110]
فوائد و مسائل:
(1)
خطبہ مکمل خاموشی سے سننا چاہیے۔
(2)
خطبے کے دوران میں کسی سے بات کرنا یا اس کی بات کا جواب دینا منع ہے۔
(3)
خطبے کے دوران میں حاضرین میں سے کوئی شخص اگر امام سے کوئی ضروری بات کہنا چاہتا ہو تو اجازت ہے۔
جیسے ایک شخص نے خطبے کے دوران میں آ کر رسول اللہﷺ سے بارش کےلئے دعا کی درخواست کی اور اگلے جمعے خطبے کے دوران میں بارش بند ہونے کی دعا کےلئے درخواست کی گئی۔ (صحیح البخاري، الجمعة، باب الإستسقاء فی الخطبة یوم الجمعة، حدیث: 933)
اسی طرح رسول اللہ ﷺنے حضرت سلیک غطفانی سے کلام فرمایا۔
جیسے کہ اگلے باب میں آ رہا ہے۔
البتہ سامعین کو متوجہ رکھنے کے لئے ان سے بار بار کوئی سوال کرنا اور ان کا باآواز بلند اجتماعی طور پر جواب دینا یا نعرے لگانا درست نہیں۔
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا قلت لصاحبك: انصت، والإمام يخطب، فقد لغوت.“»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنے ساتھی کو کہے چپ ہو جا، اور امام (جمعے کا) خطبہ دے رہا ہو تو تُو نے لغو (باطل) کام کیا۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 217]
[وله لون آخر فى الموطأ رواية أبى مصعب: 437، ● و أخرجه النسائي فى المجتبيٰ 188/3، ح 1578، من حديث عبدالرحمٰن بن القاسم عن مالك، و أبوداود 1112، من حديث مالك به، ورواه البخاري 934، و مسلم 851، من حديث شهاب به]
تفقه:
➊ حالت خطبہ میں سامعین کا ایک دوسرے سے کلام کرنا جائز نہیں ہے لیکن امام سے ضروری بات کرنا جائز ہے جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔
➋ حالت خطبہ میں آنے والا دو رکعتیں ضرور پڑھے گا۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 931، 930، 1166، و صحيح مسلم 875]
➌ حکم بن عتیبہ اور حماد بن ابی سلیمان کے نزدیک جمع کے دن خطیب کے آنے کے بعد سلام اور اس کا جواب، چھینک پر الحمدللہ کہنا اور اس کا جواب دینا جائز ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن ابي شيبه 120/2 ح 5260 و سنده صحيح]
● اور ابراہیم نخعی کے قول کی روشنی میں اس حالت میں سلام کا جواب نہ دینا بھی جائز ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن ابي شيبه 121/2 ح 5268 وسنده صحيح]
➍ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [الموطأ حديث 333، و مسلم 851]
«. . . 333- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا قلت لصاحبك أنصت فقد لغوت يعني بذلك والإمام يخطب يوم الجمعة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام جب جمعہ کے دن خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی سے کہو کہ چپ ہو جا، تو تم نے لغو (باطل) کام کیا۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/0/0: 218]
[وأخرجه أحمد 485/2، من حديث مالك به ورواه مسلم 851/12، من حديث ابي الزنادبه]
تفقه:
➊ [مصنف ابن ابي شيبه 126/2 ح 5309] میں صحیح سند کے ساتھ اسماعیل بن ابی خالد (ثقہ) سے منقول ہے کہ میں نے ابراہیم النخعی رحمہ الله کو جمعہ کے دن ایک آدمی سے بات کرتے ہوئے دیکھا اور امام خطبہ دے رہا تھا۔
● ابراہیم نخعی کا یہ عمل حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے یا پھر انتہائی شدید اضطراری حالت پرمحمول ہے۔ واللہ اعلم
● ابوالہیثم المرادی (صدوق) سے روایت ہے کہ امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا تھا کہ میں نے ابراہیم (نخعی) کو سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه 121/2 ح 5268 وسنده صحيح]
◄ معلوم ہوا کہ ابرا ہیم نخعی کا جمعے کے دن بات کرنے والا عمل منسوخ ہے۔
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو کوئی یہ کہے کہ چپ کر، تو اس شخص نے لغو (باطل) کام کیا۔ [ابن ابي شيبہ 126/2 ح 5308 وسنده صحيح]
➌ ثعلبہ بن الی ما لک القرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب (سیدنا) عمر رضی اللہ عنہ (جمعے کا) خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوتے تو ہم خاموش ہوجاتے پھر ہم میں سے کوئی بھی بات نہیں کرتا تھا۔ [الموطأ 103/1 ح 229 وسندہ صحيح، الزهري صرح بالسماع]
➍ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا تھا اور دو آدی باتیں کررہے تھے تو انہوں نے ان دونوں کو کنکریوں سے مارا تاکہ چپ ہو جائیں۔ [الموطأ 104/1 ح 231 وسندہ صحیح]
● معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لے بعض اوقات طاقت کے ساتھ سمجھانا بھی جائز ہے بشرطیکہ طاقت استعمال کرنے والا بذات خود صحیح العقیدہ عالم ہو اور اسے اصحاب اقتدار کی حمایت حاصل ہو۔
➎ جو شخص جمعہ کے دن امام کے نکلنے کے بعد مسجد میں داخل ہو تو اس کے بارے میں حکم بن عتیبہ اور حماد بن ابی سلیمان نے کہا: وہ سلام کرے گا اور لوگ جواب دیں گے۔ اسے اگر چھینک آ جائے پھر وہ الحمدللہ کہے تو لوگ اس کا جواب (یرحمک اللہ) دیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 120/2 ح 5620 وسنده صحيح، نحو المعنيٰ بتصرف يسير]
● بہتر یہی ہے کہ باہر سے آنے والا جمعہ کے دن حالت خطبہ میں سلام نہ کرے اور اگر لوگ جواب دیں تو اشارے سے دین۔ واللہ علم
➏ ایک آدمی نے جمعہ کے دن خطبے کی حالت میں چھینکنے والے کا جواب دیا تو سعید بن المسیب نے اسے آئندہ ایسا کرنے سے منع کردیا۔ [الموطأ رواية الي مصعب الزهري 171/1 ح 442 وسنده صحيح، مصنف ابن ابي شيبه121/2 ح 5266 وسنده صحيح]
➐ مزید فقہ الحدیث کے لئے دیکھئے [الموطأ حديث: 13، و أبوداود 1112،، ورواه البخاري 934، و مسلم 851]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے جمعہ کے روز اس وقت بات کی جب امام منبر پر خطبہ جمعہ دے رہا ہو تو وہ شخص اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اور اس کا بھی جمعہ نہیں جس نے اسے کہا کہ خاموش رہ۔ “ اسے احمد نے ایسی سند سے روایت کیا جس کے متعلق، «لا بأس به» کہا گیا ہے۔ اور یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیحین میں مروی حدیث کی تفسیر ہے ” جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تو نے اپنے ساتھی سے کہا کہ چپ رہ تو تو نے بھی لغو بات کی۔ “ «بلوغ المرام/حدیث: 363»
«أخرجه أحمد:1 /230.* مجالد بن سعيد ضعيف من جهة سوء حفظه وحديث ((إذا قلت لصاحبك أنصت....)) أخرجه البخاري، الجمعة، حديث:934، ومسلم، الجمعة، حديث:851.»
تشریح: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے‘ تاہم دیگر روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نمازیوں کو خطبۂجمعہ پورے سکون و اطمینان اور انہماک و توجہ سے سننا چاہیے۔
کسی قسم کی ناروا حرکت نہیں کرنی چاہیے حتی کہ اگر کوئی آدمی بولنے اور گفتگو کرنے کی حماقت کرتا بھی ہے تو اسے منع نہیں کرنا چاہیے۔
پورا دھیان خطبے کے مضامین کی طرف ہونا لازمی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دوران خطبہ جمعہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے کوئی بھی بات کرنا جمعہ کے ثواب کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، بس دلجمعی اور پوری توجہ کے ساتھ خطبہ جمعہ سننا چاہیے۔