صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کے دن خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 849
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حَقٌّ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ " .طاوس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں (کم سے کم) ایک بار نہائے اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 882 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
882. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران میں ایک شخص حاضر ہوا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم لوگ نماز کے لیے آنے میں دیر کیوں کرتے ہو؟ اس شخص نے کہا کہ اذان کی آواز سنتے ہی میں نے وضو کیا (اور چلا آیا)۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز جمعہ کے لیے روانہ ہو تو غسل کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:882]
حدیث حاشیہ: اس حدیث کی مناسبت ترجمہ باب سے یوں ہے کہ حضرت عمر ؓ حضرت عثمان ؓ ایسے جلیل الشان صحابی پر خفا ہوئے اگر جمعہ کی نماز فضیلت والی نہ ہوتی تو خفگی کی ضرورت کیا تھی، پس جمعہ کی نماز کی فضیلت ثابت ہوئی اور یہی ترجمہ باب ہے۔
بعضوں نے کہا کہ اور نمازوں کے لیے قرآن شریف میں یہ حکم ہوا ﴿اِذَاقُمتُم اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغسِلُوا وَجُوھَکُم﴾ (المائدة: 6)
یعنی وضو کرو اور جمعہ کی نماز کے لیے آنحضرت ﷺ نے غسل کرنے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز کا درجہ اور نمازوں سے بڑھ کرہے اور دوسری نمازوں پر اس کی فضیلت ثابت ہوئی اور یہی ترجمہ باب ہے (وحیدی)
یہاں ادنی تامل سے معلوم ہوسکتاہے کہ حضرت سید المحدثین امام بخاری ؒ کو اللہ پاک نے حدیث نبوی کے مطالب پر کس قدر گہری نظر عطا فرمائی تھی۔
اسی لیے حضرت علامہ عبدالقدوس بن ہمام اپنے چند مشائخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب کے فقہی تراجم وابواب بھی مسجد نبوی کے اس حصہ میں بیٹھ کر لکھے ہیں جس کو آنحضرت ﷺ نے جنت کی ایک کیاری بتلایا ہے۔
اس جانکاہی اور ریاضت کے ساتھ سولہ سال کی مدت میں یہ عدیم النظیر کتاب مکمل ہوئی جس کا لقب بغیر کسی تردد کے أصح الکتب بعد کتاب اللہ قرارپایا امت کے لاکھوں کروڑوں محدثین اور علماء نے سخت سے سخت کسوٹی پر اسے کسا مگر جو لقب اس تصنیف کا مشہور ہو چکا تھا وہ پتھر کی لکیر تھا نہ مٹنا تھا نہ مٹا۔
اس حقیقت باہرہ کے باوجود ان سطحی ناقدین زمانہ پر سخت افسوس ہے جو آج قلم ہاتھ میں لے کر حضرت امام بخاری ؒ اور ان کی عدیم المثال کتاب پر تنقید کرنے کے لیے جسارت کرتے اور اپنی کم عقلی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایسے حضرات دیوبند سے متعلق ہوں یا کسی اور جگہ سے، ان پر واضح ہونا چاہیے کہ ان کی یہ سعی لا حاصل حضرت امام بخاری ؒ اور ان کی جلیل القدر کتاب کی ذرہ برابر بھی شان نہ گھٹا سکے گی۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جو کوئی آسمان کی طرف تھوکے اس کا تھوک الٹا اس کے منہ پر آئے گا کہ قانون قدرت یہی ہے۔
بخاری شریف کی علمی خصوصیات لکھنے کے لیے ایک مستقل تصنیف اور ایک روشن ترین فاضلانہ دماغ کی ضرورت ہے۔
یہ کتاب صرف احادیث صحیحہ ہی کا مجموعہ نہیں بلکہ اصول وعقائد، عبادات ومعاملات، غزوات وسیر، اسلامی معاشرت وتمدن، مسائل سیاست وسلطنت کی ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے۔
آج کے نوجوان روشن دماغ مسلمانوں کو اس کتاب سے جو کچھ تشفی حاصل ہو سکتی ہے وہ کسی دوسری جگہ نہ ملے گی۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بڑے لوگوں کو چا ہیے کہ نیک کاموں کا حکم فرماتے رہیں اور اس بارے میں کسی کا لحاظ نہ کریں۔
جن کو نصیحت کی جائے ان کا بھی فرض ہے کہ تسلیم کرنے میں کسی قسم کا دریغ نہ کریں اور بلاچوں وچرا نیک کاموں کے لیے سرتسلیم خم کردیں۔
حضرت عمر ؓ کی دانائی دیکھئے کہ حضرت عثمان ؓ کا جواب سنتے ہی تاڑ گئے کہ آپ بغیر غسل کے جمعہ کے لیے آگئے ہیں۔
اس سے غسل جمعہ کی اہمیت بھی ثابت ہوئی۔
بعضوں نے کہا کہ اور نمازوں کے لیے قرآن شریف میں یہ حکم ہوا ﴿اِذَاقُمتُم اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغسِلُوا وَجُوھَکُم﴾ (المائدة: 6)
یعنی وضو کرو اور جمعہ کی نماز کے لیے آنحضرت ﷺ نے غسل کرنے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز کا درجہ اور نمازوں سے بڑھ کرہے اور دوسری نمازوں پر اس کی فضیلت ثابت ہوئی اور یہی ترجمہ باب ہے (وحیدی)
یہاں ادنی تامل سے معلوم ہوسکتاہے کہ حضرت سید المحدثین امام بخاری ؒ کو اللہ پاک نے حدیث نبوی کے مطالب پر کس قدر گہری نظر عطا فرمائی تھی۔
اسی لیے حضرت علامہ عبدالقدوس بن ہمام اپنے چند مشائخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب کے فقہی تراجم وابواب بھی مسجد نبوی کے اس حصہ میں بیٹھ کر لکھے ہیں جس کو آنحضرت ﷺ نے جنت کی ایک کیاری بتلایا ہے۔
اس جانکاہی اور ریاضت کے ساتھ سولہ سال کی مدت میں یہ عدیم النظیر کتاب مکمل ہوئی جس کا لقب بغیر کسی تردد کے أصح الکتب بعد کتاب اللہ قرارپایا امت کے لاکھوں کروڑوں محدثین اور علماء نے سخت سے سخت کسوٹی پر اسے کسا مگر جو لقب اس تصنیف کا مشہور ہو چکا تھا وہ پتھر کی لکیر تھا نہ مٹنا تھا نہ مٹا۔
اس حقیقت باہرہ کے باوجود ان سطحی ناقدین زمانہ پر سخت افسوس ہے جو آج قلم ہاتھ میں لے کر حضرت امام بخاری ؒ اور ان کی عدیم المثال کتاب پر تنقید کرنے کے لیے جسارت کرتے اور اپنی کم عقلی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایسے حضرات دیوبند سے متعلق ہوں یا کسی اور جگہ سے، ان پر واضح ہونا چاہیے کہ ان کی یہ سعی لا حاصل حضرت امام بخاری ؒ اور ان کی جلیل القدر کتاب کی ذرہ برابر بھی شان نہ گھٹا سکے گی۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جو کوئی آسمان کی طرف تھوکے اس کا تھوک الٹا اس کے منہ پر آئے گا کہ قانون قدرت یہی ہے۔
بخاری شریف کی علمی خصوصیات لکھنے کے لیے ایک مستقل تصنیف اور ایک روشن ترین فاضلانہ دماغ کی ضرورت ہے۔
یہ کتاب صرف احادیث صحیحہ ہی کا مجموعہ نہیں بلکہ اصول وعقائد، عبادات ومعاملات، غزوات وسیر، اسلامی معاشرت وتمدن، مسائل سیاست وسلطنت کی ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے۔
آج کے نوجوان روشن دماغ مسلمانوں کو اس کتاب سے جو کچھ تشفی حاصل ہو سکتی ہے وہ کسی دوسری جگہ نہ ملے گی۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بڑے لوگوں کو چا ہیے کہ نیک کاموں کا حکم فرماتے رہیں اور اس بارے میں کسی کا لحاظ نہ کریں۔
جن کو نصیحت کی جائے ان کا بھی فرض ہے کہ تسلیم کرنے میں کسی قسم کا دریغ نہ کریں اور بلاچوں وچرا نیک کاموں کے لیے سرتسلیم خم کردیں۔
حضرت عمر ؓ کی دانائی دیکھئے کہ حضرت عثمان ؓ کا جواب سنتے ہی تاڑ گئے کہ آپ بغیر غسل کے جمعہ کے لیے آگئے ہیں۔
اس سے غسل جمعہ کی اہمیت بھی ثابت ہوئی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 882 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 882 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
882. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اس دوران میں ایک شخص حاضر ہوا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم لوگ نماز کے لیے آنے میں دیر کیوں کرتے ہو؟ اس شخص نے کہا کہ اذان کی آواز سنتے ہی میں نے وضو کیا (اور چلا آیا)۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: کیا تم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز جمعہ کے لیے روانہ ہو تو غسل کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:882]
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس عنوان کا ماقبل سے تعلق ہے کیونکہ اس سے پہلے باب میں صبح ہی سے نماز جمعہ کے لیے حاضری کی فضیلت بیان ہوئی تھی اور اس عنوان میں ان حضرات کی تردید ہے جو ترک تبکیر پر اہل مدینہ کا اجماع بتاتے ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت عمر ؓ نے مدینہ طیبہ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے اجتماع میں ترک تبکیر پر انکار کیا ہے۔
اگر حضرت عمر ؓ کے نزدیک جمعہ کی فضیلت اور اس کی عظمت و اہمیت نہ ہوتی تو وہ دیر سے آنے پر اس طرح خطبہ چھوڑ کر مجمع عام میں برملا انکار نہ فرماتے۔
جب جمعہ کے لیے صبح جلدی آنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے تو اس سے جمعہ کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
و ھو المقصود۔
(2)
واضح رہے کہ حسب تصریح محدثین دیر سے آنے والے بزرگ حضرت ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان ؓ تھے۔
(فتح الباري: 476/2) (3)
اس عنوان میں امام بخاری ؒ نے امام مالک کی تردید کی ہے۔
ان کے نزدیک زوال آفتاب کے بعد جلدی آنے کی فضیلت بیان ہوئی، کیونکہ حدیث میں لفظ تہجیر بیان ہوا ہے جس کے معنی زوال آفتاب کے بعد نکلنا ہیں جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک تبكير، یعنی جمعہ کے دن صبح سویرے آنا باعث فضیلت ہے۔
امام احمد بن حنبل ؒ نے امام مالک کے موقف کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے خلاف قرار دیا ہے۔
علامہ ابن قیم ؒ نے اپنی مایۂ ناز تصنیف "زاد المعاد" میں اس بحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
(زاد المعاد: 399/1۔
407)
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس عنوان کا ماقبل سے تعلق ہے کیونکہ اس سے پہلے باب میں صبح ہی سے نماز جمعہ کے لیے حاضری کی فضیلت بیان ہوئی تھی اور اس عنوان میں ان حضرات کی تردید ہے جو ترک تبکیر پر اہل مدینہ کا اجماع بتاتے ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت عمر ؓ نے مدینہ طیبہ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے اجتماع میں ترک تبکیر پر انکار کیا ہے۔
اگر حضرت عمر ؓ کے نزدیک جمعہ کی فضیلت اور اس کی عظمت و اہمیت نہ ہوتی تو وہ دیر سے آنے پر اس طرح خطبہ چھوڑ کر مجمع عام میں برملا انکار نہ فرماتے۔
جب جمعہ کے لیے صبح جلدی آنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے تو اس سے جمعہ کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
و ھو المقصود۔
(2)
واضح رہے کہ حسب تصریح محدثین دیر سے آنے والے بزرگ حضرت ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان ؓ تھے۔
(فتح الباري: 476/2) (3)
اس عنوان میں امام بخاری ؒ نے امام مالک کی تردید کی ہے۔
ان کے نزدیک زوال آفتاب کے بعد جلدی آنے کی فضیلت بیان ہوئی، کیونکہ حدیث میں لفظ تہجیر بیان ہوا ہے جس کے معنی زوال آفتاب کے بعد نکلنا ہیں جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک تبكير، یعنی جمعہ کے دن صبح سویرے آنا باعث فضیلت ہے۔
امام احمد بن حنبل ؒ نے امام مالک کے موقف کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے خلاف قرار دیا ہے۔
علامہ ابن قیم ؒ نے اپنی مایۂ ناز تصنیف "زاد المعاد" میں اس بحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
(زاد المعاد: 399/1۔
407)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 882 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 845 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثناء میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف تعریض کرتے ہوئے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں نے اذان سننے کے بعد وضو سے زیادہ کام نہیں کیا پھر آ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1956]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کا ظاہری تقاضا یہی ہے کہ غسل جمعہ کے لیے آتے وقت کرنا چاہیے اور جمعہ کے لیے غسل شرط نہیں ہے اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو واپس نہیں لوٹایا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 845 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 340 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ۱؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا: کیا تم لوگ نماز (میں اول وقت آنے) سے رکے رہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا صرف وضو ہی؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ غسل کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 340]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ۱؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا: کیا تم لوگ نماز (میں اول وقت آنے) سے رکے رہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا صرف وضو ہی؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ غسل کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 340]
340۔ اردو حاشیہ:
دوران خطبہ تاخیر سے آنے والے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کو برسر منبر اجلّہ صحابہ کی موجودگی میں اس طرح تنبیہ کرنا دلیل ہے کہ وہ لوگ بالعموم جمعہ کے غسل کو واجب سمجھتے تھے، اگر یہ مستحب محض ہوتا تو اس انداز میں ہرگز تنبیہ نہ کی جاتی۔
دوران خطبہ تاخیر سے آنے والے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کو برسر منبر اجلّہ صحابہ کی موجودگی میں اس طرح تنبیہ کرنا دلیل ہے کہ وہ لوگ بالعموم جمعہ کے غسل کو واجب سمجھتے تھے، اگر یہ مستحب محض ہوتا تو اس انداز میں ہرگز تنبیہ نہ کی جاتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 340 سے ماخوذ ہے۔