صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: باب: جمعہ کے دن خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " ، قَالَ طَاوُسٌ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ .روح بن عباوہ اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے جمعے کے دن غسل کرنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا۔ طاوس نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اگر اس کے گھر والوں کے پاس موجود ہو تو وہ خوشبو تیل بھی استعمال کر سکتا ہے؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: میں یہ بات نہیں جانتا۔
وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .مصنف نے مذکورہ بالا حدیث ایک دوسری سند سے بھی بیان کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا، طاؤس کہتے ہیں: ’’میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا، وہ خوشبو یا تیل استعمال کرے اگر اس کے گھر میں موجود ہو؟ انہوں نے جواب دیا، میرے علم میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1961]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: غسل کا مقصد میل کچیل سے صاف ہونا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے پسینہ سے تکلیف نہ ہو اس لیے منہ کی بدبو کےازالہ کے لیے مسواک کرنی چاہیے۔
امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ۔
امام داود رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کے لیے مسواک ضروری ہے۔
بلکہ امام اسحاق کے نزدیک ہر نماز کے لیے مسواک لازم ہے۔
اگر انسان عمداً مسواک نہیں کرتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔
ابن حزم کےنزدیک جمعہ کے سوا باقی نمازوں کے لیے مسواک کرنا سنت ہے اور اکثر اہل علم کے نزدیک جمعہ ہو یا غیر جمعہ نماز کے لیے مسواک کرنا سنت ہے لازم یا فرض نہیں ہے۔
امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ۔
امام داود رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کے لیے مسواک ضروری ہے۔
بلکہ امام اسحاق کے نزدیک ہر نماز کے لیے مسواک لازم ہے۔
اگر انسان عمداً مسواک نہیں کرتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔
ابن حزم کےنزدیک جمعہ کے سوا باقی نمازوں کے لیے مسواک کرنا سنت ہے اور اکثر اہل علم کے نزدیک جمعہ ہو یا غیر جمعہ نماز کے لیے مسواک کرنا سنت ہے لازم یا فرض نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 848 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 885 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
885. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے جب نبی ﷺ کا فرمان جمعہ کے دن غسل سے متعلق بیان کیا تو راوی حدیث حضرت طاوس نے دریافت کیا کہ اس کے گھر میں تیل اور خوشبو ہو تو اسے بھی استعمال کرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:885]
حدیث حاشیہ: تیل اور خوشبو کے متعلق حضرت سلمان فارسی ؒ کی حدیث اوپر ذکر ہوئی ہے غالباً حضرت ابن عباس ؓ کو اس کا علم نہ ہوسکا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 885 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 885 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
885. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے جب نبی ﷺ کا فرمان جمعہ کے دن غسل سے متعلق بیان کیا تو راوی حدیث حضرت طاوس نے دریافت کیا کہ اس کے گھر میں تیل اور خوشبو ہو تو اسے بھی استعمال کرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:885]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے حضرت سلمان ؓ سے مروی حدیث کے بعد حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کو اس لیے بیان کیا ہے کہ جمعے کے دن غسل کے علاوہ جتنے بھی پسندیدہ کام ہیں، مثلاً: بالوں میں تیل لگانا، خوشبو استعمال کرنا، ان کے متعلق اتنی تاکید نہیں ہے، البتہ غسل کرنے کی بہت تاکید ہے، نیز ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کو خوشبو وغیرہ کے استعمال کے متعلق کچھ تردد تھا، حالانکہ ایک روایت میں وہ خود رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ اگر خوشبو میسر ہو تو اسے استعمال کرے۔
شارحین نے اس کے کئی ایک جوابات دیے ہیں: ٭ ابن عباس ؓ سے مروی جس حدیث میں خوشبو کا ذکر ہے وہ روایت ضعیف ہے۔
(فتح الباري: 480/2)
٭ ممکن ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ خوشبو سے متعلق روایت کو بھول گئے ہوں۔
٭ حضرت ابن عباس ؓ کو حضرت سلمان ؓ کی حدیث کا علم نہ ہو سکا ہو۔
٭ چونکہ مردوں اور عورتوں کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے، اس لیے حضرت ابن عباس ؓ کو خوشبو کے متعلق شرح صدر نہ ہو سکا کہ مرد، عورتوں کی رنگین خوشبو لگا کر مسجد جائیں۔
واللہ أعلم۔
امام بخاری ؒ نے حضرت سلمان ؓ سے مروی حدیث کے بعد حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کو اس لیے بیان کیا ہے کہ جمعے کے دن غسل کے علاوہ جتنے بھی پسندیدہ کام ہیں، مثلاً: بالوں میں تیل لگانا، خوشبو استعمال کرنا، ان کے متعلق اتنی تاکید نہیں ہے، البتہ غسل کرنے کی بہت تاکید ہے، نیز ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کو خوشبو وغیرہ کے استعمال کے متعلق کچھ تردد تھا، حالانکہ ایک روایت میں وہ خود رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ اگر خوشبو میسر ہو تو اسے استعمال کرے۔
شارحین نے اس کے کئی ایک جوابات دیے ہیں: ٭ ابن عباس ؓ سے مروی جس حدیث میں خوشبو کا ذکر ہے وہ روایت ضعیف ہے۔
(فتح الباري: 480/2)
٭ ممکن ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ خوشبو سے متعلق روایت کو بھول گئے ہوں۔
٭ حضرت ابن عباس ؓ کو حضرت سلمان ؓ کی حدیث کا علم نہ ہو سکا ہو۔
٭ چونکہ مردوں اور عورتوں کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے، اس لیے حضرت ابن عباس ؓ کو خوشبو کے متعلق شرح صدر نہ ہو سکا کہ مرد، عورتوں کی رنگین خوشبو لگا کر مسجد جائیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 885 سے ماخوذ ہے۔