صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ: باب: ہر بالغ مرد پر غسل جمعہ فرض ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے۔“
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ، وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ ، حَدَّثَاهُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَسِوَاكٌ ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ " . إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ : فِي الطِّيبِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ .سعید بن ابی بلال اور بکیر بن اشج نے ابوبکر بن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن سلیم سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر واجب ہے اور مسواک کرنا بھی اور (ہر شخص) اپنی استطاعت کے مطابق خوشبو استعمال کرے۔“ البتہ بکیر نے (سند میں) عبدالرحمان کا ذکر نہیں کیا اور خوشبو کے بارے میں کہا: ”چاہے وہ عورت کی خوشبو کیوں نہ ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں پر غسل جمعہ واجب نہیں، اس بنا پر انہیں جمعہ کے لیے مسجد میں آنا بھی ضروری نہیں۔
یہ حدیث وجوب غسل پر واضح ہے لیکن عدم وجوب کے قائلین کہتے ہیں کہ اس حدیث میں وجوب کے لفظ سے مقصود صرف تاکید اور ترغیب ہے، یعنی اس حد تک تاکید ہے گویا واجب کی طرح ہے۔
(عمدة القاري: 15/5) (2)
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے غسل جمعہ کی فرضیت کے متعلق دلیل لی گئی ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ، حضرت عمار بن یاسر ؓ اور امام ابن منذر سے غسل جمعہ کا وجوب ہی نقل کیا گیا ہے۔
امام ابن حزم نے حضرت عمر ؓ اور دیگر کئی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے جمعہ کے لیے غسل کرنے کے وجوب کو بیان کیا، پھر اس کے متعلق متعدد آثار بھی نقل کیا ہیں، مثلاً: حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان غسل جمعہ چھوڑ دے گا۔
امام شافعی ؒ نے اس حدیث کی وضاحت بایں طور کی ہے کہ حدیث میں آنے والے لفظ "واجب" میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ غسل جمعہ ضروری ہے۔
اس کے بغیر نماز جمعہ کے لیے طہارت نامکمل ہے۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ نظافت و صفائی اخلاق کے پیش نظر جمعہ کے لیے غسل کا اہتمام مستحب مؤکد ہے، فرض نہیں۔
امام شافعی نے حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ حضرت عثمان نے نماز کے لیے غسل کا اہتمام نہیں کیا اور حضرت عمر ؓ نے بھی انہیں دوبارہ غسل کے متعلق نہیں کہا۔
یہ قرینہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان حضرات کے نزدیک بھی غسل کا حکم اختیاری ہے۔
(فتح الباري: 455/2)
بلکہ دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ان دونوں کی موافقت کرنا بھی اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے غسل جمعہ شرط نہیں۔
بہرحال اس مسئلے میں دونوں ہی رائیں پائی جاتی ہیں۔
عدم وجوب کے قائلین بھی اسے سنت مؤکدہ اور وجوب ہی کے قریب سمجھتے ہیں۔
اس بنا پر دونوں موقف ایک دوسرے کے قریب ہی ہیں۔
بنا بریں وجوب کا موقف ہی راجح، مدلل اور احوط ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
علامہ خطابی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ نماز جمعہ غسل کے بغیر بھی ہو جاتی ہے۔
(فتح الباري: 466/2)
امت کے بڑے بڑے ائمہ اور نامور علماء غسل جمعہ کے عدم وجوب پر متفق ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے مذکورہ حدیث کی وضاحت میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے جمعہ کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ غسل جمعہ واجب نہیں، البتہ زیادہ طہارت اور پاکیزگی غسل ہی میں ہے لیکن جو غسل نہیں کرتا اس پر کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس پر واجب نہیں ہے۔
دراصل غسل جمعہ کی ابتدا اس وجہ سے ہوئی تھی کہ لوگ محنت مزدوری کر کے گزر اوقات کرتے تھے، اون سے تیار کردہ موٹے موٹے کپڑے پہنتے تھے اور اس وقت مسجد بھی تنگ تھی جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ ان لوگوں کو ایک دوسرے سے تکلیف پہنچ رہی ہے اور پسینے کی وجہ سے بو محسوس ہو رہی ہے تو آپ نے انہیں غسل کا حکم دیا اور خوشبو وغیرہ کے استعمال کی بھی ہدایت فرمائی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے مزید فرمایا کہ اس کے بعد وہ وقت جاتا رہا، لوگ مال دار ہو گئے محنت مزدوری کے محتاج نہ رہے، کپڑے بھی اون کے علاوہ دوسرے استعمال کرنے لگے، مسجد بھی وسیع ہو گئی اور پسینہ وغیرہ کی تکلیف بھی جاتی رہی اس بنا پر سبب کے ختم ہونے سے اس کا وجوب بھی ختم ہو گیا۔
(فتح الباري: 467/2)
اس سے معلوم ہوا کہ غسل کے واجب ہونے کی تاکید جمعہ کے بڑے اجتماع کے پیش نظر ہے کہ کسی کو اذیت نہ ہو اور یہ تاکید حالات کے پیش نظر وجوب تک بھی پہنچ سکتی ہے جبکہ پسینے کی وجہ سے ماحول بدبودار ہو رہا ہو، البتہ عام حالات میں صرف استحباب ہے جیسا کہ امت کے اکثر علماء نے اس موقف کو اختیار کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
جمعہ کے دن خوشبو استعمال کرنے کے متعلق صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف تھا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ اس کے متعلق وجوب کے قائل تھے جیسا کہ سفیان بن عیینہ نے اپنی جامع میں ان کے متعلق بیان کیا ہے لیکن ائمۂ اربعہ اور اصحاب ظواہر میں اب اس کے متعلق کوئی اختلاف نہیں۔
سب استحباب کے قائل ہیں۔
اس کے متعلق تاکید ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ جمعہ کے دن خوشبو استعمال کرو اگرچہ عورت ہی کی کیوں نہ ہو، حالانکہ مردوں کے لیے عورتوں کی خوشبو استعمال کرنا ناپسندیدہ عمل ہے لیکن اس کے باوجود جمعہ کے دن اگر خوشبو نہ مل سکے تو بامر مجبوری کاروائی کے طور پر عورت کی خوشبو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
(فتح الباري: 2/ 467۔
468) (2)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مقرر کیا ہے، لہٰذا تم میں سے جو شخص جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کر کے آئے اور اگر خوشبو میسر ہو تو اسے استعمال کرے اس کے علاوہ مسواک کرنے کا بھی اہتمام کرے۔
‘‘ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 243/3)
حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو جمعہ کے دن غسل کرے اور اگر اس کے پاس خوشبو موجود ہو تو اسے استعمال کرے، اپنے بہترین کپڑے زیب تن کرے، اطمینان کے ساتھ مسجد میں آئے، پھر اگر موقع ملے تو نفل پڑھ لے، حاضرین میں سے کسی کو تکلیف نہ دے، پھر جب امام صاحب تشریف لائیں تو خاموش رہے تاآنکہ نماز ادا کر لے تو اس کا یہ سارا عمل اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
‘‘ (مسند أحمد: 420/5) (3)
حدیث کے آخر میں امام بخاری ؒ نے وضاحت کی ہے کہ روایت میں ابوبکر نامی راوی محمد بن منکدر کے بھائی ہیں۔
ان کے نام کی صراحت کہیں سے دستیاب نہیں ہو سکی بلکہ ان کی کنیت ہی ان کا نام ہے۔
مختصر یہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں کی کنیت ابوبکر ہے لیکن ان کے مابین فرق ہے کہ ایک کے متعلق نام کی صراحت ہے جبکہ دوسرے کی کنیت ہی اس کا نام ہے، نیز ایک بھائی محمد بن منکدر کی ایک دوسری کنیت ابو عبداللہ بھی مشہور ہے۔
الغرض ابوبکر بن منکدر بھی معروف آدمی ہیں۔
ان سے متعدد راویوں نے روایت لی ہے۔
(عمدة القاري: 16/5)
غسل صرف بالغ پر واجب ہوتا ہے اسی کو بیان کرنے کے لیے حضرت امام بخاری ؒ یہ حدیث یہاں لائے ہیں۔
امام مالک ؒ کے نزدیک جمعہ کا غسل واجب ہے۔
شہادت بھی ایک شرعی امر ہے۔
جس کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے۔
بلوغت کی آخر حد پندرہ سال ہے۔
جیسا کہ پچھلی روایت میں مذکور ہوا۔
اس سے امام بخاری نے یہ بھی نکالا کہ احتلام ہونے سے مرد جوان ہوجاتا ہے گو اس کی عمر پندرہ سال کو نہ پہنچی ہو۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احتلام شروع ہونے سے بچہ بالغ ہو جاتا ہے، لہذا اس پر شرعی احکام واجب ہوں گے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں جمعے کے دن غسل کا حکم بیان ہوا ہے۔
کیونکہ شرعی احکام انسان کے بالغ ہونے پر ہی نافذ ہوتے ہیں۔
(2)
گواہی دینا بھی ایک شرعی امر ہے جس کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے۔
اس کی حد پندرہ سال کی عمر ہے جیسا کہ پہلی حدیث میں بیان ہوا ہے یا احتلام بالغ ہونے کی علامت ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
احتلام ہونے کی عمر میں مرد جوان ہو جاتا ہے اگرچہ اس کی عمر پندرہ برس نہ ہو۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ (مسلمان) پر واجب ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 341]
عورتیں بھی اس کی پابند ہیں، کسی بھی مسلمان بالغ مرد و عورت کو بغیر معقول عذر کے اس بارے میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جمعہ کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے، مسواک کرنا بھی، اور خوشبو جس پروہ قادر ہو لگانا بھی ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1376]
➋ مسواک عام حالت میں بھی مؤکد چیز ہے، جمعۃ المبارک کے لیے تو خصوصاً، خوشبو لگانا تو مؤکد بھی نہیں صرف مستحب ہے۔
➌ عورتوں کی خوشبو (جس میں رنگ ہو) مردوں کے لیے جائز نہیں مگر مجبوری کی حالت میں گنجائش ہے، مثلاً: شادی کے موقع پر یا جمعۃ المبارک کے لیے۔
➍ صفائی ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام نے نظافت پر بہت زور دیا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا جسم، لباس اور مکان وغیرہ صاف ستھرا رکھے اور اگر کسی ایسی جگہ جائے جہاں لوگ اکٹھے ہوں تو بالخصوص صفائی کا اہتمام کرے اور حسب استطاعت خوشبو وغیرہ کا استعمال کرے تاکہ لوگ اذیت محسوس نہ کریں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1089]
فوائد و مسائل:
(1)
واجب سے مر اد افضل اور بہتر ہے کیونکہ دوسری احادیث سے غسل نہ کرنے کی اجازت ظاہر ہوتی ہے۔
جیسے کہ اگلے باب میں حدیثیں آرہی ہیں۔
(2)
جمعے کی ادایئگی بالغ مردوں پر فرض ہے۔
بچوں اور عورتوں پر نہیں۔
(3)
بچے اورعورتیں اگر جمعے کی نماز کی ادایئگی کےلئے آنا چاہیں تو ان کے لئے غسل کرنا ضروری نہیں۔
«. . . وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم . . .»
”. . . سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 100]
«مُـحْتَلِمٍ» بالغ کو کہتے ہیں۔
فائدہ:
یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو یوم جمعہ کے غسل کو واجب قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں ”واجب“ کا لفظ صراحتاً آیا ہے۔ لیکن جہاں تک جمہور کا تعلق ہے وہ اسے مسنون قرار دیتے ہیں اور اس میں وجوب کے حکم کو تاکید کے لیے سمجھتے ہیں۔
«. . . 271- مالك عن صفوان بن سليم عن عطاء بن يسار عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم.“ . . .»
”. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بالغ پر غسل جمعہ واجب ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 213]
تفقه:
➊ راجح یہی ہے کہ غسلِ جمعہ سنت ہے جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے لہٰذا یہاں واجب کا لفظ اپنے وجوبی معنی میں نہیں ہے۔
➋ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: ح204
امام نماز کا سلام پھیرنے کے بعد دونوں طرف سے ہی پھر سکتا ہے، دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے، اس حدیث میں بائیں طرف پھرنے کا ذکر ہے، لیکن دوسری احادیث میں دائیں طرف پھرنے کا ذکر بھی ہے۔ (صحیح مسلم: 708) جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، انہوں نے اسی طرح اس کو بیان کر دیا۔