وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ ، أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي ، حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، قَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ " .حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطاب فرما رہے تھے (کہ اسی اثناء میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے ایک شخص داخل ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں آواز دی: (آنے کی) یہ کون سی گھڑی ہے؟ انہوں نے کہا: میں آج مصروف ہو گیا، گھر لوٹتے ہی میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا (اور حاضر ہو گیا ہوں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور وہ بھی (صرف) وضو؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَأَخَّرُونَ بَعْدَ النِّدَاءِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ أَنْ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ " ؟ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (ایک بار) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اسی دوران میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تعریف کی (اعتراض کیا) اور کہا: لوگوں کو کیا ہوا کہ اذان کے بعد دیر لگاتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین ! میں نے اذان سننے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ وضو کیا ہے اور حاضر ہو گیا ہوں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ بھی (صرف) وضو؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”جب تم میں سے کوئی جمعے کے لیے آئے تو وہ غسل کرے؟“
تشریح، فوائد و مسائل
غسل کے متعلق انھوں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اعتراض کا کوئی عذر پیش نہیں کیا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھوں نے غسل نہیں کیا تھا کیونکہ صحیح مسلم میں حمران سے روایت کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی دن نہیں گزرتا تھا جس میں غسل نہ کرتے ہوں، عذر نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جمعہ کو جاتے وقت غسل نہ کر سکے تھے جو کہ افضل تھا۔
(فتح الباری، حدیث 878)
(1)
امام بخاری ؒ کے اس عنوان سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری نہیں بلکہ مستحب و افضل ہے۔
جیسا کہ علماء کے ایک گروہ کی یہی رائے ہے۔
ان کا استدلال ان روایات سے ہے جن میں اس سبب کی وضاحت کی گئی ہے جس کی وجہ سے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا گیا تھا، چنانچہ روایت میں ہے کہ لوگ اس وقت محنت مزدوری کرتے تھے۔
جب جمعے کا وقت ہوتا تو اسی حالت میں جمعہ کے لیے چلے آتے اور ان کے کپڑوں سے پسینے وغیرہ کی ناگوار بو آتی تھی جس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی تھی۔
اس بات کی شکایت جب رسول اللہ ﷺ سے کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’جو تم میں سے جمعہ کے لیے آئے اسے چاہیے کہ غسل کرے۔
‘‘ (فتح الباري: 481/7٫2)
صحیح بخاری کی ایک روایت ہے کہ حضرت عمرو نے ایک دن حضرت عائشہ ؓ سے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: لوگ گزر اوقات کے لیے محنت مزدوری کرتے تھے، جب جمعہ کے لیے آتے تو اسی حالت میں چلے آتے۔
انہیں کہا گیا: ’’بہتر ہے کہ تم غسل کر کے آؤ۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 903)
ایک روایت میں ہے کہ ان کے کپڑوں سے ناگوار بو آنے کی وجہ سے انہیں غسل کا حکم دیا گیا، (صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2071)
تاہم دوسرے علماء وجوب غسل کے قائل ہیں جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
(2)
بعض حضرات نے امام بخاری ؒ پر اعتراض کیا ہے کہ مذکورہ حدیث کا عنوان سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ عنوان تھا کہ آیا عورتیں اور بچے جمعہ کے لیے حاضر ہوں؟ جبکہ اس حدیث میں ان کے حاضر ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
اس کا بایں طور جواب دیا گیا ہے کہ امام بخاری ؒ کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو جمعہ کے لیے حاضر ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ آئندہ حدیث (879)
میں ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا بالغ افراد کے لیے ہے جبکہ بچے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں تو انہیں جمعہ میں شریک ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ انہوں نے اس طریقے سے ایک حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس میں اس امر کی وضاحت ہے کہ عورتوں اور بچوں پر جمعہ میں حاضر ہونا ضروری نہیں۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 1067)
آپ نے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں غسل بھی نہ کر سکا بلکہ صرف وضوکر کے چلا آیا ہوں۔
اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ گویا آپ نے صرف دیر میں آنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک دوسری فضیلت غسل کو بھی چھوڑ آئے ہیں۔
اس موقع پر قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ان سے غسل کے لیے پھر نہیں کہا، ورنہ اگر جمعہ کے دن غسل فرض یا واجب ہوتا تو حضرت عمر کو ضرور کہنا چاہیے تھااور یہی وجہ تھی کہ دوسرے بزرگ صحابی جن کا نام دوسری روایتوں میں حضرت عثمان ؓ آتا ہے، نے بھی غسل کو ضروری نہ سمجھ کر صرف وضو پر اکتفا کیا تھا۔
ہم اس سے پہلے بھی جمعہ کے دن غسل پر ایک نوٹ لکھ آئے ہیں۔
حضرت عمر ؓ کے طرز عمل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے دوران امام امر ونہی کر سکتا ہے۔
لیکن عام لوگوں کو اس کی اجازت نہیں ہے بلکہ انہیں خاموشی اور اطمینان کے ساتھ خطبہ سننا چاہیے۔
(تفہیم البخاری)
(1)
دیر سے آنے والے حضرت عثمان ؓ تھے۔
(2)
اس روایت سے مذکورہ دونوں قسم کے علماء نے استدلال کیا ہے جو وجوبِ غسل کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ چونکہ صحابۂ کا عام رجحان وجوب غسل کا تھا، اس لیے حضرت عمر ؓ نے صرف وضو کر کے آنے پر تعجب کا اظہار کیا اور حدیث رسول بیان فرمائی جس میں غسل کرنے کا حکم ہے اور امر (حکم)
عام طور پر وجوب ہی کے لیے ہوتا ہے۔
عدم وجوب کے قائلین کہتے ہیں کہ اگر غسل واجب ہوتا تو حضرت عمر ؓ، حضرت عثمان ؓ کو غسل کرنے کا حکم دیتے، صرف تعجب کا اظہار کرنے اور حدیث رسول بیان کرنے پر اکتفا نہ کرتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہاں غسل کا حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے۔
انہوں نے دیگر احادیث سے بھی استدلال کیا ہے، جیسے حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن جس نے وضو کیا اس نے اچھا اور بہتر کیا اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل اور بہترین ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الطہارة، حدیث: 354)
امام ترمذی ؒ اس حدیث کے بعد لکھتے ہیں کہ صحابہ اور ان کے بعد آنے والے اہل علم کا اس پر عمل ہے۔
انہوں نے جمعہ کے دن غسل کو پسند تو کیا ہے لیکن اس رائے کا اظہار بھی کیا ہے کہ جمعہ کے دن وضو، غسل سے کفایت کر جاتا ہے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 497)
آغاز میں جمعہ کے دن وجوب غسل کا سبب یہ تھا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مشکل حالات کی بنا پر موسم گرما میں بھی ادنیٰ لباس پہنے ہوتے تھے۔
انہی کپڑوں میں محنت مزدوری کرتے تھے۔
جب وہ مسجد میں آتے تو ان کے پسینے کی بو پھیل جاتی جس سے نمازی اور فرشتے سخت تکلیف محسوس کرتے ہیں، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ تم اس دن غسل کر لیا کرو۔
ایسے حالات میں ان علماء کے نزدیک اب بھی غسل کرنا واقعی ضروری ہے لیکن عام حالات میں ان کے نزدیک غسل جمعہ سنت مؤکدہ اور مستحب ہے۔
(1)
یہ روایت جمعہ کے دن غسل کے بیان میں گزر چکی ہے۔
(2)
اس مقام پر امام بخارى ؒ کا مقصود صرف منبر پر خطبے کا اثبات کرنا ہے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ منبر پر حاضرین کو احکام دین کی تعلیم دینی چاہیے۔
(فتح الباري: 515/2)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران صحابہ میں سے ایک شخص ۱؎ (مسجد میں) داخل ہوئے، تو عمر رضی الله عنہ نے پوچھا: یہ کون سا وقت (آنے کا) ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے صرف اتنی دیر کی کہ اذان سنی اور بس وضو کر کے آ گیا ہوں، اس پر عمر رضی الله عنہ نے کہا: تم نے صرف (وضو ہی پر اکتفا کیا) حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا حکم دیا ہے؟ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 494]
1؎:
اس سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جو جمعہ کی نماز کے لیے آئے اسے چاہیئے کہ (پہلے) غسل کر لے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 492]
1؎:
اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے جمعہ کے دن کے غسل کو واجب قرار دیا ہے، اور جو وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں امر تاکید کے لیے ہے اس سے مراد وجوب اختیاری (استحباب) ہے جیسے آدمی اپنے ساتھی سے کہے ’’تیرا حق مجھ پر واجب ہے‘‘ یعنی مؤکد ہے، نہ کہ ایسا وجوب جس کے ترک پر سزا اورعقوبت ہو۔
(اس تاویل کی وجہ حدیث رقم 497 ہے)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1377]
➋ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعے کا غسل جمعۃ المبارک کو آتے وقت کرنا چاہیے، نہ کہ بہت پہلے کیونکہ غسل کا مقصد میل کچیل اور پسینے کی صفائی ہے، اگر بہت پہلے غسل کر لیا جائے تو میل کچیل پھر جمع ہو سکتا ہے اور پسینہ بھی آ سکتا ہے۔ اجتماع میں بدبو پھیلنے کا امکان ہے، لہٰذا غسل جمعۃ المبارک کے لیے آتے وقت کرنا چاہیے، یعنی اس غسل کے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہیے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ جمعے کے دن کا غسل ہے، اس لیے کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے مگر جمعے سے پہلے پہلے۔ اہل ظاہر تو جمعے کے بعد بھی غسل کو کافی سمجھتے ہیں۔ مگر علت و سبب یا دیگر احادیث پر غور کیا جائے تو یہ موقف محل نظر لگتا ہے۔ واللہ أعلم۔
➌ غسل جمعہ، غسل جنابت کی طرح ہونا چاہیے۔ غسل جنابت کی تفصیل پیچھے متعلقہ باب میں گزر چکی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: ” جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کر لے۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ «عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر» کے بدلے «سالم بن عبداللہ عن أبيه» کہتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1408]
➋ جمعے کے دن غسل کی بحث کے لیے دیکھیے، حدیث: 1376، 1377 اور اسی کتاب کا ابتدائیہ۔
«. . . وبه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا جاء احدكم الجمعة فليغتسل. . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ (کی نماز) کے لئے آئے تو وہ غسل کرے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 212]
تفقہ:
➊ اس حدیث اور دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری (واجب) ہے لیکن بعض احادیث سے ثابت ہے کہ یہ غسل ضروری نہیں بلکہ سنت و مستحب ہے۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من توضأ فبھا ونعمت ومن اغتسل فذلك أفضل۔» جس نے وضو کیا تو اچھا کیا اور جس نے غسل کیا تو یہ افضل ہے۔ [صحيح ابن خزيمه: 1757، وسنده حسن، سنن ابي داؤد: 354، والحسن البصري صرح بالسماع عند الطّوسي فى مختصر الاحكام 3/10 ح467/334 وسنده حسن]
◈ حسن بصری کی سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کتاب سے روایت کی وجہ سے حسن ہوتی ہے چاہے سماع کی تصریح ہو یا نہ ہو اور اس روایت میں تو انہوں نے سماع کی تصریح کردی ہے۔ «والحمدلله»
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: غسل جنابت کی طرح جمعہ کے دن غسل کرنا بھی ہر نوجوان پر واجب ہے۔ [الموطأ 1/101 ح224، وسنده صحيح]
◈ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل سنت میں سے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 2/96 ح5020 وسنده صحيح، البزار فى كشف الاستار: 627]
◈ امام شعبی نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن وضو کرے تو اچھا ہے اور جو غسل کرے تو افضل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 2/96، 97 ح5023 وسنده صحيح]
➌ مجاہد تابعی نے فرمایا: جمعہ کے دن جو شخص طلوع فجر کے بعد غسل کرے تو یہ اس کے لئے غسل جمعہ کی طرف سے کافی ہے۔ [ابن ابي شيبه 2/99 ح5041 وسنده صحيح]
➍ نظافت کی ترغیب اور اجتماعات میں شرکت کے وقت نظافت کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔
اس حدیث میں جمعہ کے دن غسل کرنے کا حکم دیا گیا ہے،اس سے فرضیت مراد نہیں ہے، بلکہ دیگر احادیث کی وجہ سے یہ استحباب پر محمول ہے۔