صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب صَلاَةِ الْخَوْفِ: باب: نماز خوف کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَخَافُنِي ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : " اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ " ، قَالَ : فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ ، قَالَ : فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ .حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے حتیٰ کہ جب ہم ذات الرقاع نامی پہاڑ تک پہنچے۔ ہماری عادت تھی کہ جب ہم کسی سایہ دار جگہ پر پہنچتے تو اسے رسول اللہ کے لیے چھوڑ دیتے، ایک مشرک آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت پر لٹکائی گئی تھی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پکڑ لی، اسے میان سے نکال لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”نہیں۔‘‘ اس نے کہا: تو آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”اللہ تعالیٰ مجھے تجھ سےمحفوظ رکھے گا۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اسے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال لی اور اسے لٹکایا۔ اس کے بعد نماز کے لئے اذان کہی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر وہ گروہ پیچھے چلا گیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ کہا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات اور لوگوں کی دو دو رکعت نماز پڑھی۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَصَلَّى بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ " .معاویہ بن سلام نے کہا: مجھے یحییٰ (ابن ابی کثیر) نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے خبر دی کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت پڑھائی، پھر دوسرے گروہ کو دو رکعت پڑھائی، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت پڑھیں اور ہر گروہ کو دو دو رکعت پڑھائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا ، قَالَ : وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ ، فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ ، فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ ، قُلْتُ : اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ ، قُلْتُ : اللَّهُ ، قَالَ : فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .معمر نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز محمد بن جعفر بن زیاد نے۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ ابراہیم بن سعد سے، انہوں نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور لوگ اس وادی میں الگ الگ ہو کر سایہ ڈھونڈھتے ہوئے پھیل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص میرے پاس آیا، میں سو رہا تھا کہ اس نے تلوار اتار لی اور میں جاگا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوا تھا۔ مجھے اس وقت خبر ہوئی جب اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار آ گئی تھی۔ وہ بولا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ! پھر دوسری بار اس نے یہی کہا تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ۔ یہ سن کر اس نے تلوار نیام میں کر لی۔ وہ شخص یہ بیٹھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ بھی نہ کہا۔“
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، وَمَعْمَرٍ .شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، ان دونوں کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نجد کی طرف ایک جنگ میں حصہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس ہوئے، ایک دن دوپہر کے آرام کا وقت ہو گیا، اس کے بعد انہوں نے ابراہیم بن سعد اور معمر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ ، ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (واپس) آئے، یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع پہنچے، (پھر) زہری کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ نہیں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی تعرض نہ فرمایا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں غورث بن حارث نامی مشرک کا واقعہ انتہائی اختصار سے بیان کیا گیا ہے، پورا واقعہ اس طرح ہے کہ جب آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے بچائے گا۔
تو تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور بقول ابن اسحاق جبریل علیہ السلام نے اس کو دھکا دیا تو تلوار گر گئی آپﷺ نے تلوار پکڑ کر اسے پوچھا اور فرمایا: اب تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا، آپﷺ اچھے پکڑنے والے بنئیے، کیونکہ تیرے سوا کوئی نہیں بچا سکتا آپ نے فرمایا: تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا میں عہد کرتا ہوں کہ میں آپﷺ سے لڑائی نہیں لڑوں گا اور نہ آپﷺ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔
اس کے بعد آپ نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی ساتھی پہنچے انھوں نے دیکھا کہ ایک اعرابی آپﷺ کے پاس بیٹھا ہے، آپ نے ساتھیوں کو واقعہ سے آگاہ فرمایا، اس کے بعد اسے چھوڑ دیا، اس نے واپس جا کر اپنی قوم کو اس واقعہ سے آگاہ کیا اور آپ کی تعریف کی، بعد میں وہ مسلمان ہو گیا۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ نے ہر گروہ کو الگ الگ دو رکعت نماز پڑھائی اس طرح آپ کا دوسرا دوگانہ نفل تھا لیکن دوسرے گروہ کا فرض تھا تو معلوم ہوا نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
(3)
مصنف نے نماز کی جتنی صورتیں بیان کی ہیں موقع محل کے مطابق سب صورتیں جائز ہیں جس طرح بھی ممکن ہو نماز پڑھی جائے گی اس کو چھوڑا نہیں جائے گا۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث والے طریقہ کو پسند کیا ہے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کی حڈیث کو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ والے طریقہ کو یعنی حدیث نمبر 308 کو۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس وقت آپ کی حفاظت کا اہتمام نہیں ہوتا تھا۔
اس واقعے کے بعد آپ نے اپنی حفاظت کے اقدامات فرمائے تو آیت نازل ہوئی۔
﴿وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ ’’اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔
‘‘ (المائدة: 5/67)
اس کے بعد آپ نے حفاظتی اقدامات ختم کر دیے اور حفاظت الٰہیہ ہی پر بھروسہ کیا۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ فوجی لوگ دوپہر کے وقت کہیں چلتے ہوئے جنگل میں قیلولہ کرنا چاہیں تو اپنی پسند کے مطابق سایہ دار درخت تلاش کر سکتے ہیں اور اپنے قائد سے آرام کے لیے الگ ہو سکتے ہیں اور یہ آداب جنگ کے منافی نہیں۔
1۔
ایک روایت کے مطابق اس اعرابی نے تین مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ بچائےگا۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2910)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کی خصوصی حفاظت فرمائی، بصورت دیگراعرابی کو باربار پوچھنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ رسول اللہ ﷺ ہتھیار کے بغیر اس کے سامنے بیٹھےہوئے تھے۔
لیکن جب اعرابی کو احساس ہوا کہ انھیں قتل کرنا میرے بس میں نہیں تو خود کو آپ کے حوالے کر دیا۔
(فتح الباري: 534/7)
2۔
یہ واقعہ غزوہ بنو مصطلق کے قریب قریب ہوا تھا اس مناسبت سے یہاں بیان کردیا گیا وگرنہ بنیادی طور پر اس کا غزوہ بنو مصطلق سے کوئی تعلق نہیں۔
واللہ اعلم۔
چنانچہ وہ آپﷺ کی تلوار لے کر آپﷺ کے سرہانے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ اب آپﷺ کو کون بچائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا میرا بچانے والا اللہ ہے۔
آپﷺ نے یہ فرمایا ہی تھا کہ فوراً حضرت جبرائیل تشریف لائے اور اس گنوار کے سینے پر ایک گھونسا مارا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی‘ جو آپﷺ نے اٹھا لی اور فرمایا کہ اب تجھ کو کون بچائے گا اس نے کہا کوئی نہیں۔
1۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ پر تلوار سونتنے والے شخص کا نام غورث بن حارث تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4136)
2۔
امام بیہقی ؒ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا جواب سن کر اس دیہاتی کے ہاتھ سے تلوار گر گئی رسول اللہ ﷺنے پکڑ کر فرمایا: ’’اب مجھ سے تجھے کون بچائے گا۔
‘‘ اس نے کہا: مجھے آپ سے اچھے برتاؤ کی امید ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’اسلام قبول کرتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: اسلام تو قبول نہیں کرتا البتہ آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ سے قتال نہیں کروں گا۔
اور نہ آپ سے قتال کرنے والوں کا ساتھ ہی دوں گا۔
تو آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
اس کے بعد وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں لوگوں میں سے بہتر شخص کے پاس آیا ہوں۔
(دلائل النبوة للبیهقي: 456/3)
3۔
اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ہتھیاروں سے غافل نہیں ہو نا چاہیے ہاں اگر حالات اتنے سنگین نہ ہوں تو مجاہد اپنا اسلحہ وغیرہ قریب رکھ کر خود آرام کر سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
صلتا: تلوار میان سے نکال لینا۔
(2)
شام السيف: تلوار کو میان میں ڈال لیا۔