صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب صَلاَةِ الْخَوْفِ: باب: نماز خوف کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ ، فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ " .عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے، انہوں نے صالح بن خوات بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی اور انہیں اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا اور اپنے ساتھ (کی صف) والوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہی رہے یہاں تک کہ ان سے پیچھے والوں نے ایک رکعت پڑھ لی، پھر یہ آگے آگے اور جو ان سے آگے تھے پیچھے چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو پیچھے چلے گئے تھے انہوں نے (بھی ایک اور) رکعت پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
تشریح، فوائد و مسائل
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے پیچھے بنی اور ایک صف دشمن کے بالمقابل بنی، پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسری صف والے آئے تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر لوگ کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1537]
➋ اس حدیث میں اپنے طور پر ایک ایک رکعت ادا کرنے کی تفصیل بیان کی گئی۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ دوسرا گروہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنے طور پر ایک رکعت پڑھ لے اور سلام پھیرے، پھر وہ دشمن کے مقابل چلا جائے اور یہ پہلا گروہ واپس آکر اپنی ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور یہ زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ اس طرح دوسرے گروہ کی دونوں رکعتیں اکٹھی ہو جائیں گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسرا گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلا جائے اور پہلا گروہ آکر ایک رکعت اپنے طور پر پڑھے، پھر یہ چلے جائیں اور دوسرا گروہ آکر پڑھ لے۔ یہ طریقہ بھی بعض احادیث میں آیا ہے۔