حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ ، فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ " .

عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے، انہوں نے صالح بن خوات بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی اور انہیں اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا اور اپنے ساتھ (کی صف) والوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہی رہے یہاں تک کہ ان سے پیچھے والوں نے ایک رکعت پڑھ لی، پھر یہ آگے آگے اور جو ان سے آگے تھے پیچھے چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو پیچھے چلے گئے تھے انہوں نے (بھی ایک اور) رکعت پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 841
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 565 | سنن ابي داود: 1237 | سنن نسائي: 1537

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1537 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´باب:`
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے پیچھے بنی اور ایک صف دشمن کے بالمقابل بنی، پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسری صف والے آئے تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر لوگ کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1537]
1537۔ اردو حاشیہ: ➊ حدیث نمبر: 1535 اور 1536 والی صورت اس وقت ہو گی جب دشمن قبلے کی جانب ہو۔ اس وقت امام کے پیچھے کھڑے ہو کر بھی دشمن پر نظر رکھی جا سکتی ہے، مگر زیادہ خوف ہو تو حدیث: 1535 اور خوف کم ہو تو حدیث نمبر 1536 پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ حدیث (1537) اس وقت قابل عمل ہو گی جب دشمن قبلے کی بجائے کسی اور جانب ہو اور امام کے پیچھے کھڑے ہو کر اس پر نظر نہ رکھی جا سکتی ہو۔ اس وقت دو حصے کرلیے جائیں گے۔ ایک حصہ امام کے پیچھے اور دوسرا دشمن کے مقابل کھڑا ہو گا اور مذکورہ طریقے کے مطابق نماز پڑھیں گے۔
➋ اس حدیث میں اپنے طور پر ایک ایک رکعت ادا کرنے کی تفصیل بیان کی گئی۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ دوسرا گروہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنے طور پر ایک رکعت پڑھ لے اور سلام پھیرے، پھر وہ دشمن کے مقابل چلا جائے اور یہ پہلا گروہ واپس آکر اپنی ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور یہ زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ اس طرح دوسرے گروہ کی دونوں رکعتیں اکٹھی ہو جائیں گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسرا گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلا جائے اور پہلا گروہ آکر ایک رکعت اپنے طور پر پڑھے، پھر یہ چلے جائیں اور دوسرا گروہ آکر پڑھ لے۔ یہ طریقہ بھی بعض احادیث میں آیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1537 سے ماخوذ ہے۔