مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : وَهِمَ عُمَرُ ، إِنَّمَا " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا " .

وہیب نے کہا: ہم سے عبداللہ بن طاوس نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (طاوس) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہم لاحق ہوا ہے (کہ وہ ہر صورت عصر کے بعد نماز پڑھنے کو قابل سزا سمجھتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سورج کے طلوع یا اس کے غروب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد کیا جائے۔

وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا ، فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ " .

معمر نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ طاوس کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنی کبھی نہیں چھوڑی تھی کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے لیے تم جان بوجھ کر سورج کے طلوع اور اس کے غروب ہونے کا قصد نہ کر دو کہ اس وقت نماز پڑھو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 833
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہم لاحق ہوا ہے (کہ وہ عصر کے بعد نماز پڑھنے سے روکتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان سورج کے طلوع یا اس کے غروب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد کرے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1931]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نظریہ یہ تھا کہ عصر کے بعد نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں عصر کے بعد دورکعات پڑھا کرتے تھے اور غروب کے وقت قصدوارادہ سے اور عمداً نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے کیونکہ وہ فرماتے تھے، اگر اس وقت لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو وہ غروب کے وقت میں نماز پڑھنے لگیں گے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 833 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔