صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب الأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلاَةِ فِيهَا: باب: جن وقتوں میں نماز ممنوع ہے ان کا بیان۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا ، فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ " ، وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ .لیث نے خیر بن نعیم حضرمی سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سے، انہوں نے ابوتمیم جیشانی سے اور انہوں نے ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخمص نامی جگہ میں عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: ”یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کو دی گئی (ان پر فرض کی گئی) تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا، اس لیے جو بھی اس کی حفاظت کرے گا اسے اس کا دوگنا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ (اس کا) شاہد طلوع ہو جائے۔“ شاہد (سے مراد) ستارہ ہے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إسحاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ .یزید بن ابی حبیب نے خیر بن نعیم حضرمی سے، انہوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سبائی سے، اور وہ ثقہ تھے، انہوں نے ابوتمیم جیشانی سے اور انہوں نے ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔۔۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے۔