صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ: باب: قرأت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ ، فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 أَدَالًا ، أَمْ ذَالًا ؟ قَالَ : بَلْ دَالًا ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مُدَّكِرٍ دَالًا " .زہیر نے کہا: ہم سے ابواسحاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید (سبیعی کوفی) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے، سوال کیا: تم اس (آیت) کو کیسے پڑھتے ہو؟ دال پڑھتے ہو یا ذال؟ انہوں نے جواب دیا: دال پڑھتا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ» دال کے ساتھ پڑھتے سنا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْف : فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ " .شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلمے «مُّدَّکِرٍ» کو (دال کے ساتھ) پڑھتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
پڑھا ہے۔
1۔
﴿فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴾ضب کا شکار ہوئے۔
اب دیکھ لو جو انجام ان کا ہوا وہی انجام تمہارا ہو گا۔
تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے خطرے کے ظاہر ہونے سے پہلے پہلے ہوشیار کر دینے کے لیے قرآن اتارا ہے جو عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لیے ہر پہلو سے آراستہ ہے لیکن افسوس کہ تم اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عذاب کے طالب ہو اور اس کے لیے جلدی مچا رہے ہو۔
واللہ المستعان۔
2۔
واضح رہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے چھ عنوانات کے تحت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک ہی حدیث بیان کی ہے، آپ کا دو باتوں پر تنبیہ کرنا مقصود ہے۔
۔
لفظ (مُدَّكِرٍ)
کو دال کے ساتھ پڑھا جائے یہ لفظ ذال کے ساتھ نہیں ہے، چنانچہ آخری حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذال کے ساتھ پڑھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصیح کردی۔
۔
قرآن کریم میں جو قصص و واقعات بیان ہوئے ہیں، انھیں سن کر فضا میں تحلیل نہ کر دیا جائے بلکہ ان سے عبرت حاصل کی جائے بصورت دیگر تمہارا انجام بھی پہلی قوموں جیسا ہوگا۔
واللہ اعلم۔
اس مناسبت سے اس حدیث کو اس باب میں بھی دکر کردیا ہے۔
جیسے پہلے بھی کئی با ر گزر چکی ہے۔
چونکہ یہ آیت کریمہ حضرت لوط ؑ کے واقعے کے بعد ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر پتھر برسائے مگر لوط کے گھر والوں کو ہم نے سحری کے وقت بچا کر وہاں سے نکال دیا۔
‘‘ (القمر: 33/54،34)
اس واقعے کے آخر میں ہے۔
’’پھر کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟‘‘(القمر: 40/54)
اس مناسبت سے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں ذکر کیا ہے۔
چونکہ اس روایت میں حضرت نوح ؑ کا ذکر ہے اس لیے اس حدیث کو یہاں لایا گیا ہے۔
حضرت آدم ؑ کے بعد حضرت نوح بہت عظیم رسول گزرے ہیں۔
قرآن مجید میں ان کا بیان کئی جگہ آیا ہے۔
1۔
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طرح بنتی ہے کہ اس میں ایک آیت کا ذکر ہے جو حضرت نوح ؑ کی کشتی کی شان میں نازل ہوئی چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾ ’’ہم نے اس کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لیے باقی رکھا، کیا ہے کوئی اس سے نصیحت لینے والا۔
‘‘ (القمر: 54۔
15)
بعض احادیث میں ہے کہ کشتی نوح ؑ کو اس امت کے پہلے لوگوں نے دیکھا ہے۔
واللہ أعلم۔
2۔
اس آیت کریمہ میں لفظ (مدکر)
ادغام اور دال کے ساتھ پڑھا گیاہے۔
یہ مشہور قراءت ہے اور اسے ادغام اور ذال کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔
یہ شاذ قراءت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس لفظ کو ادغام اور دال کے ساتھ پڑھا تھا اور یہی لوگوں میں عام ہے۔
1۔
روایات میں یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام قراءت کی طرح (مُّدَّكِرٍ)
پڑھا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنیباء، حدیث: 3341)
یعنی ہم نے اس کشتی کو نشان عبرت بنا دیا اس سے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔
2۔
اس کا ایک بلند و بالا پہاڑ پر موجود ہونا سیکڑوں، ہزاروں برس تک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے غضب سے خبردار کرتا رہا۔
اور انھیں یاد دلاتا رہا کہ اس سر زمین پر اللہ کی نا فرمانی کرنے والوں کی کیسی شامت آئی اور ایمان لانے والوں کو کس طرح اس شامت سے بچا لیا گیا؟ موجودہ زمانے میں بھی ہوائی جہازوں سے پرواز کرتے ہوئے بعض لوگوں نے اس علاقے کی ایک چوٹی پر کشتی نما چیز پڑی دیکھی ہے جس پر شبہ کیا جا تا ہے کہ وہ سفینہ نوح ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
یہ الفاظ ہرقوم کی سرگزشت کے بعد ٹیپ کے بند کی طرح بار بارآتے ہیں۔
یاد رہے کہ لفظ ذکر ان مقامات پر بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے، یعنی تعلیم و تذکیر، تنبیہ و نصیحت، حصول عبرت اور اتمام حجت سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔
2۔
سیاق وسباق کے اعتبار سے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ ہمارے پیغمبر تمھیں جس عذاب سےڈرا رہے ہیں وہ ایک اٹل حقیقت ہے۔
زمین کا چپہ چپہ اس کی صداقت پر گواہ ہے لیکن تم لوگ غفلت میں پڑے ہو۔
جب اس عذاب کی نشانی دیکھ لو گے، تب مانو گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم و تذکیر کے لیے یہ قرآن اتارا ہے جو تمہارے لیے ایک ضابطہ حیات اور اس کے جملہ لوازمات سے آراستہ ہے۔
آخر تم اس عظیم نعمت سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ عذاب کے تازیانے کے لیے کیوں بے قرار ہو؟ واللہ المستعان۔
اس مناسبت سے یہ حدیث بیان کی۔
یہ آیت کریمہ قوم عاد کی ہلاکت کے واقعے کے ضمن میں بیان ہوئی ہے۔
امام بخاری ؒنے اسی مناسبت سے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ (18)
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ (19)
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ (20)
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ (21)
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴾ ’’قوم عاد نے جھٹلایا پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟ ہم نے ایک منحوس دن میں ان پر سناٹے کی آندھی چھوڑدی جو مسلسل چلی۔
وہ لوگوں کو یوں اکھاڑ کر پھینک رہی تھی جڑے اکھڑے ہوئے کھجوروں کے تنے ہوں پھر میرا عذاب اورڈرانا کیسا رہا؟ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا پھر کیا ہے کوئی نصیحت ماننے والا۔
‘‘ (القمر: 18، 22)
یہ عذاب ٹھنڈا یخ آندھی کا تھا جو مضبوط قلعوں میں گھس کر لوگوں کو پٹخ پٹخ کر زمین پر مارتی اور ان کی گردن توڑ کر رکھ دیتی تھی۔
أعا ذنااللہ منها۔
الحمد للہ ثنائی ترجمہ اور منتخب حواشی والا قرآن مجید اس کا روشن ثبوت ہے اور بخاری شریف مترجم اردو بھی روشن دلیل ہے۔
1۔
قوم عاد پر جو عذاب آیا یہ بہت ہی عبرت انگیز اور نصیحت آموز تھا کہ مسلسل سات دن اور آٹھ راتیں تیز، یخ بستہ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا چلتی رہی۔
یہ ہوا گھروں اور بند قلعوں سے انسانوں کو اٹھاتی اور اس طرح زور سے انھیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہو جاتے۔
یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا۔
جب تک وہ سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
2۔
اس آیت میں ان کے دراز قد کے ساتھ ان کی بے چارگی کا بھی اظہار ہے کہ عذاب الٰہی کے سامنے وہ کچھ نہ کر سکے حالانکہ انھیں اپنی طاقت و قوت پر بہت گھمنڈ تھا۔
واللہ اعلم۔
انسان اگر اپنے قلب وذہن کے دریچے کھول کر اسے عبرت کی نگاہ سے پڑھے نصیحت کے کانوں سے سنے اور سمجھنے والے دل سے اس پر غور کرے تو دنیا وآخرت کی سعادت کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں اور یہ اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر کر کفر و معصیت کی تمام آلود گی صاف کر دیتی ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ انسان میں طلب صادق ہو اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کی تڑپ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس طرح کے عذاب کو تماشے کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ عبرت و نصیحت کی نگاہ سے اس پر غور کریں کہ جانوروں کی حفاظت کے لیے جو جھاڑیوں کی باڑ بنائی جاتی ہے، بالآخر جانوروں کی آمد و رفت سے اس کا برادہ بن جاتا ہے۔
قوم ثمود کی کچلی ہوئی بو سیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
قرآن کریم اس طرح کے واقعات کو نصیحت پکڑنے کے لیے پیش کرتا ہے۔
واللہ المستعان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ۱؎ پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2937]
وضاحت:
1؎:
یہی مشہور قراء ت ہے یعنی دال مہملہ کے ساتھ اس کی اصل ہے (مُذْتَکِر) (بروزن (مُجْتَنِب) تاء کو دال مہملہ سے بدل دیا اور ذال کو دال میں مدغم کر دیا تو ﴿مُدَّکِر﴾ ہو گیا، بعض قراء نے (مُذَّکِر) (ذال معجم کے ساتھ) پڑھا ہے بہرحال معنی ہے: پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا (القمر: 40)