صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ: باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَاءَةً ، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قَرَاءَةِ صَاحِبِهِ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ ، دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً ، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَءَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا ، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي ، ضَرَبَ فِي صَدْرِي ، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا ، فَقَالَ لِي : يَا أُبَيُّ ، " أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنِ اقْرإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي ، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي ، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي ، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ " .عبداللہ بن نمیر نے کہا: اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی یعلیٰ سے، انہوں نے اپنے دادا (عبدالرحمن) سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا، نماز پڑھنے لگا اور اس نے جس طرح قراءت کی اس کو میں نے اس کے سامنے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے ایسی قراءت کی جو اس کے ساتھی (پہلے آدمی) کی قراءت سے مختلف تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کی کہ اس شخص نے ایسی قراءت کی جو میں نے اس کے سامنے رد کر دی اور دوسرا آیا تو اس نے اپنے ساتھی سے بھی الگ قراءت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، ان دونوں نے قراءت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے انداز کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں آپ کی تکذیب (جھٹلانے) کا داعیہ اس زور سے پیدا ہوا جتنا اس وقت بھی نہ تھا جب میں جاہلیت میں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر طاری ہونے والی اس کیفیت کو دیکھا تو میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا، جیسے میں ڈر کے عالم میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "میرے پاس حکم بھیجا گیا کہ میں قرآن ایک حرف (قراءت کی ایک صورت) پر پڑھوں۔ تو میں نے جواباً درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس دوبارہ جواب بھیجا کہ میں اسے دو حرفوں پر پڑھوں۔ میں نے پھر عرض کی کہ میری امت کے لیے آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس تیسری بار جواب بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھیے، نیز آپ کے لیے ہر جواب کے بدلے جو میں نے دیا ایک دعا ہے جو آپ مجھ سے مانگیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے اللہ! میری امت کو بخش دے۔ اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے مؤخر کر لی ہے جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف راغب ہوں گے۔"
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .محمد بن بشر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں اس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھی، اس نے اس طرح قراءت کی۔ آگے عبداللہ بن نمیر کی طرح حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
سُقِطَ فِيْ نَفْسِيْ مِنَ التَّكْذِيْبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: جب آپﷺ نے دونوں آدمیوں کی قراءت کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں شیطان نے آپﷺ کی تکذیب کا اس شدت اور زور سے وسوسہ پیدا کیا کہ اتنا شدید وسوسہ جاہلیت کے دور میں بھی میرے دل میں پیدا نہیں ہوا تھا۔
(2)
ضَرَبَ فِيْ صَدْرِيْ: (جب آپﷺ نے میرے چہرے سے میرے دل کی کیفیت بھانپ لی، تو میرے دل سے شیطانی وسوسے اور حق کے بارے میں اس کے پیدا کردہ شک و شبہ کو دور کرنے کے لیے)
میرے سینہ پر ہاتھ مارا، تاکہ مجھے اطمینان اور تسکین حاصل ہو جائے۔
(3)
فَفِضْتُ عَرَقاً: تو میں اللہ کے ڈر اور خوف سے پسینہ سے شرابور ہو گیا، اور میری تمام حیرت اور پریشانی ختم ہو گئی اور میرا دل آپﷺ کی حقانیت پر جم گیا۔
(4)
مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيْهَا: اپنی ہر عرض اور ہر درخواست پر ایک ایک دعا مانگ سکتے ہو، جس کی قبولیت قطعی اور یقینی ہے، آپﷺ نے تین دفعہ درخواست کی تھی۔
اس لیے دو دفعہ اپنی امت کے لیے مغفرت کی دعا کی اور تیسری عرض کی دعا کو قیامت کے لیے شفاعت کبریٰ کے لیے محفوظ کر لیا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث میں پہلی دفعہ کو نظرانداز کر دیا گیا ہے کیونکہ اس میں جبریل علیہ السلام آئے تھے اور بعد میں آپﷺ کے سوال کرنے پر، جا کر پوچھ کر آتے رہے ہیں، آگے اس دفعہ کو شمار کیا گیا تو چوتھی دفعہ آنے کا تذکرہ کیا۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں “، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے (اللہ سے) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، (اور کہا کہ) ہر حرف شافی و کافی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 942]
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک حرف پر یا دو حرف پر؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا: کہو: دو حرف پر، میں نے کہا: دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا: دو حرف پر یا تین حرف پر؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا: کہو: تین حرف پر، چنانچہ میں نے کہا: تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا “، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چا ہے تم «سميعا عليما» کہو یا «عزيزا حكيما» جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1477]