صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ وَيُعَلِّمُهُ وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا. باب: قرآن پر عمل کرنے والے اور اس کے سکھانے والے کی فضیلت۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ ، لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ ، فَقَالَ : مَنِ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي ؟ فَقَالَ : ابْنَ أَبْزَى ، قَالَ : وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى ؟ قَالَ : مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا ، قَالَ : فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى ، قَالَ : إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ ، قَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا ، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ " .عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں کہ نافع بن عبدالحارث کی عسفان کے مقام پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں مکہ کا گورنر مقرر کیا ہوا تھا، اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی، یعنی مکہ کے لوگوں پر اپنا نائب کس کو بنایا ہے؟ نافع نے جواب دیا: ابزیٰ کے بیٹے کو تو پوچھا، ابزیٰ کا بیٹا کون ہے؟ کہنے لگے ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا، تم نے ان پر ایک غلام کو اپنا جانشین بنا ڈالا؟تو نافع نے جواب دیا، اللہ کی کتاب پڑھنے والا ہے اور وہ فرائض کا علم رکھتا ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، ہاں تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب مجید کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اونچا کرے گا اور بہت سوں کو نیچے گرائے گا۔‘‘
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن واثلہ لیثی نے حدیث بیان کی کہ نافع بن عبدالحارث خزاعی نے عسفان (کے مقام) پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔ آگے زہری سے ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس اصول اور ضابطہ کے مطابق مسلمانوں کے عروج اور ترقی کے دور میں ان لوگوں کو ہی آگے لایا جاتا تھا اور انہیں عہدے اور مناسب ملتے تھے جو قرآنی علوم میں ماہر ہوتے تھے اپنے علم قرآن کے بل بوتے پر ایک آزاد کردہ غلام مکہ کے گورنر کا جانشین بنا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پر اعتراض کو واپس لے لیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی لیکن حدیث میں (أَقْوَامًا)
کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عروج وزوال کے اس الٰہی فیصلہ اور قانون کا تعلق افراد واشخاص سے نہیں ہے بلکہ قوموں اور امتوں سے ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی پوری تاریخ اس حدیث کی صداقت کی آئینہ دار ہے کہ جب مسلمانوں نے اپنا تعلق اور رابطہ مجموعی طور پر دین سے جوڑا انہیں سرفرازی اور عروج ملا اور جب ان کا تعلق بحیثیت امت و قوم دین سے ٹوٹا تو وہ انحطاط اور زوال کا شکار ہوئے جس کا آج ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
عامر بن واثلہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نافع بن عبدالحارث کی ملاقات عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مقام عسفان میں ہوئی، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ کا عامل بنا رکھا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کس کو اہل وادی (مکہ) پر اپنا نائب بنا کر آئے ہو؟ نافع نے کہا: میں نے ان پر اپنا نائب ابن ابزیٰ کو مقرر کیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابن ابزیٰ کون ہے؟ نافع نے کہا: ہمارے غلاموں میں سے ایک ہیں ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان پہ ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کر دیا؟ نافع نے عرض کیا: ابن ابزیٰ کتاب اللہ (۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 218]
اس واقعہ کے راوی ابوطفیل عامر بن واثلہ ؓان صحابہ کرام ؓمیں سے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے دوران میں بچپن کی عمر میں تھے۔
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے سب سے آخر میں فوت ہوئے۔
آپ کی وفات 110 ہجری میں ہوئی۔
حضرت نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں۔
فتح مکہ کے موقع پر قبول اسلام کا شرف حاصل ہوا۔
حضرت ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کا نام عبدالرحمٰن ہے، قبیلہ بنو خزاعہ سے دلاء کا تعلق ہے، یہ بھی صغار صحابہ میں سے ہیں۔
(2)
خلافت راشدہ کے دوران میں کسی بھی سرکاری منصب کے لیے اہمیت کا معیار صرف علم و عمل تھا، نہ کہ قبیلہ و خاندان۔
(3)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آزاد کردہ غلام کو عہدہ دینے پر جو تعجب کا اظہار کیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے افراد کو عہدے کا اہل نہیں سمجھتے تھے بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ نافع رضی اللہ عنہ نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کو اس عہدے پر فائز کرتے ہوئے کس معیار کو پیش نظر رکھا ہے۔
جب معلوم ہوا کہ وہ واقعی اس عہدے کے اہل ہیں تو ان کے تقرر پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
(4)
ارشاد نبوی میں صرف کتاب اللہ (قرآن مجید)
کا ذکر ہے لیکن کتاب اللہ کا عالم وہی کہلا سکتا ہے جو حدیث کا علم بھی رکھتا ہو کیونکہ حدیث نبوی قرآن مجید کی تشریح اور عملی تفسیر ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ العسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’کیونکہ ہم تمام اہلِ حدیث اس شخص کو قطعی طور پر جھوٹا سمجھتے ہیں جو ابوالطفیل عامر بن واثلہ (رضی اللہ عنہ) کے بعد صحابی ہونے کا دعویٰ کرے اور اللہ ہی حق کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔ ہم اس صحیح متواتر حدیث سے حجت پکڑتے ہیں جس میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو سال کے بعد۔ آپ کے قولِ مذکور کے وقت سے لے کر۔ روئے زمین پر کوئی شخص باقی نہیں رہے گا، جو کہ اس قول کے وقت موجود تھا۔“
دیکھئے: [المجمع الموسس للمعجم المفهرس 2 / 552 طبع دارالمعرفة بيروت لبنان]
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کے بعد روئے زمین پر کسی صحابی کے زندہ رہنے کا کوئی ثبوت نہیں اور جن لوگوں نے اس دور کے بعد صحابی ہونے کا دعویٰ کیا، وہ جھوٹے تھے۔
صحیح یہ ہے کہ ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ 110 ہجری میں فوت ہوئے اور تمام صحابۂ کرام میں آخری وفات پانے والے آپ ہی تھے (رضی اللہ عنہ)۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 3111]
. . . تفصیل کے لئے دیکھئے . . .
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحقیق میں ’’شمائل ترمذی“ حدیث 14 صفحہ 58 ’’شرح و فوائد“۔