صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب فَضْلِ قِرَاءَةِ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}: باب: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» کی فضیلت۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْشُدُوا ، فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ ، فَقَالَ : بَعْضُنَا لِبَعْضٍ ، إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ : " سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .یزید بن کیسان نے کہا: ہمیں ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اکھٹے ہو جاؤ! میں تمہارے سامنے ایک تہائی قرآن مجید پڑھوں گا۔" جنہوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہو گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» کی قراءت فرمائی، پھر گھر میں چلے گئے، تو ہم میں سے ایک سے دوسرے نے کہا: مجھے لگتا ہے آپ کے پاس شاید آسمان سے کوئی اہم خبر آئی ہے جو آپ کو اندر لے گئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دوبارہ) باہر تشریف لائے اور فرمایا: "میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں تمہیں تہائی قرآن سناؤں گا، جان لو یہ کہ (سورت) قرآن کے تیسرے حصے کے برابر ہے۔"
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ فَقَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ { 1 } اللَّهُ الصَّمَدُ { 2 } سورة الإخلاص آية 1-2 حَتَّى خَتَمَهَا " .حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تمہیں تہائی قرآن سناتا ہوں۔ ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّـهُ الصَّمَدُ﴾ کو آخر تک پڑھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «قل هو الله أحد» (یعنی سورۃ الاخلاص) (ثواب میں) تہائی قرآن کے برابر ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3787]
فوائد و مسائل:
(1)
سورۂ اخلاص کا ثواب اب ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
(2)
اس کی عظمت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں توحید کا بیان ہے۔
(3)
اللہ تعالیٰ کو توحید سے محبت اور شرک سے انتہائی نفرت ہے۔