صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب فَضْلِ قِرَاءَةِ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}: باب: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» کی فضیلت۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ قَالُوا : وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کر لے؟" انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کی: (کوئی شخص) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "«قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔"
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا ، مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ " .سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، ان دونوں (سعید اور ابان) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء (حصے) کیے ہیں اور «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیا ہے۔"
تشریح، فوائد و مسائل
تو حید، رسالت (شریعت کے احکام)
اور معاد (قیامت)
یا بقول قاضی عیاض، صفات الٰہیہ، قصص اور احکام، اس سورۃ میں صفات الٰہیہ، توحید کا تذکرہ ہے، اس لیے یہ تہائی قرآن ہے، یا للہ تعالیٰ نے اسے یہ شرف اور خاصہ عنایت فرمایا ہے کہ اس کا اجرو ثواب، تہائی قرآن کے برابر ہے۔