حدیث نمبر: 811
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ قَالُوا : وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .

شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کر لے؟" انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کی: (کوئی شخص) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "«قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔"

وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا ، مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ " .

سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، ان دونوں (سعید اور ابان) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء (حصے) کیے ہیں اور «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیا ہے۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 811
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ رات کو تہائی قرآن کی تلاوت کرے؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا، وہ تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ قرآن مجيد كے تہائی حصہ کے برابر ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1886]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: قرآن مجید کے مضامین اور مطالب کو تین عنوانات کے تحت سمیٹا جاتا ہے (اگرچہ ایک اعتبار سے بقول شارح عقیدہ طحاویہ پورا قرآن مجید توحید کے گرد گھومتا ہے)
تو حید، رسالت (شریعت کے احکام)
اور معاد (قیامت)
یا بقول قاضی عیاض، صفات الٰہیہ، قصص اور احکام، اس سورۃ میں صفات الٰہیہ، توحید کا تذکرہ ہے، اس لیے یہ تہائی قرآن ہے، یا للہ تعالیٰ نے اسے یہ شرف اور خاصہ عنایت فرمایا ہے کہ اس کا اجرو ثواب، تہائی قرآن کے برابر ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 811 سے ماخوذ ہے۔