صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ: باب: سورۃ کہف اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، " أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255 " ، قَالَ : فَضَرَبَ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : وَاللَّهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ .حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابومنذر! کیا تم جانتے ہو کتاب اللہ کی کون سی آیت، جو تمہارے پاس ہے، سب سے عظیم ہے؟" کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے (دوبارہ) فرمایا: "اے ابومنذر! کیا تم جانتے ہو اللہ کی کتاب کی کون سی آیت جو تمہارے پاس ہے، سب سے عظمت والی ہے؟" کہا: میں نے عرض کی: «اللَّہُ لَا إِلہ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ» کہا: تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: "اللہ کی قسم! ابومنذر! تمہیں یہ علم مبارک ہو۔"
تشریح، فوائد و مسائل
تذکرہ ہے اور یہ تمام آیات قرآن کی سردار ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے ابومنذر! ۱؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ۲؎ ہے؟ “، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ” ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟ “، میں نے عرض کیا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: ” اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1460]
➋ آیۃ الکرسی دیگر عام آیات کی نسبت سے لمبی ہونے کے ساتھ ساتھ معانی فضیلت وثواب کے لہاظ سے بہت بڑی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کی صفات پر مشتمل ہے۔
➌ علم اللہ تعالیٰ کی خاص دین ہے۔ جسے وہ عنایت فرما دے۔ اور بالخصوص قرآن وسنت کا علم۔
➍ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جوشخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے۔ اس کو موت کے علاوہ کوئی چیز جنت میں جانے سے مانع نہیں ہے۔ [السنن الکبریٰ للنسائي، عمل الیوم واللیة، حدیث: 9928]
➎ یہ حدیث تعظیم رسولﷺ پر بھی دلالت کرتی ہے۔
➏ اس سےقرآن مقدس کے بعض حصے کی بعض پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
➐ دینی مصلحت کی بناء پر کسی شخص کی منہ پر مدح سرائی جائز ہے۔ جب کہ اس کے خود پسندی اور تکبر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ واللہ أعلم