صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ: باب: قرأت قرآن اور سورۂ بقرہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ ، تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ ، قَالَ : كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا " .حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے ایسے لوگوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران اس کے آگے آگے ہوں گی۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لیے تین مثالیں دیں جن کو (سننے کے بعد) میں (آج تک) نہیں بھولا، آپ نے فرمایا: "جیسے وہ دو بادل ہیں یا دو کالے سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے، جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں، وہ اپنے صاحب (صحبت میں رہنے والے) کی طرف سے مدافعت کریں گی۔"
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
تَقْدُمُهُ: قرآن کے آگے آگے ہوں گے۔
(2)
شَرْقٌ: روشنی، نور۔
(3)
حِزْقَانِ: دو گروہ، دو قطاریں۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
اہل قرآن وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کی محض قرآءت و تلاوت پر کفایت نہیں کرتے، بلکہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور بار بار تلاوت کا اصلی مقصد یہی ہے کہ قرآنی ہدایات واحکامات ہر وقت پیش نظر رہیں اور سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران میں زندگی گزارنے کے بارے میں تمام سورتوں سے زیادہ اصول وضوابط اور ہدایات و تعلیمات ملتی ہیں۔