حدیث نمبر: 803
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ ، فِي غَيْرِ إِثْمٍ ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ ؟ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُحِبُّ ذَلِكَ ، قَالَ : " أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ ؟ " .

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر تشریف لائے۔ ہم صفہ (چبوترے) پر موجود تھے، آپ نے فرمایا: "تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا عقیق (کی وادی) میں جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہانوں والی اونٹنیاں لائے؟" ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم سب کو یہ بات پسند ہے، آپ نے فرمایا: "پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں (کے حصول) سے بہتر ہے اور یہ تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور چار آیتیں اس کے لیے چار سے بہتر ہیں اور (آیتوں کی تعداد جو بھی ہو) اونٹوں کی اتنی تعداد سے بہتر ہے۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 803
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1456

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ ہم چبوترے پر تھے، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ تم میں سے کون شخص پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بُطحان یا عقیق کی وادی میں جائے، اور وہاں سے بغیر کسی کی حق تلفی اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لائے؟‘‘ تو ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم سب کو یہ بات پسند ہے، آپﷺ نے فرمایا: ’’پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1873]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
وادی بطحان اور وادی عقیق: مدینہ منورہ کے قریبی مقامات ہیں اور صفہ آپﷺ کے دور میں مسجد نبویﷺ کا ایک چبوترہ تھا، جس پر سائبان تھا اور باہر سے آنے والے طلبہ اور ضرورت مند افراد اس میں ٹھہرتے تھے، جن کی تعداد کم و بیش ہوتی رہتی تھی۔
كَوْمَاوَيْن، كوماء کا تثنیہ ہے، بہت بڑی کوہان والی اونٹنی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 803 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1456 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قرآن پڑھنے کے ثواب کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟ ، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1456]
1456. اردو حاشیہ: ➊ بُطحان اور عقیق مدینے کے قریب دو وادیوں کے نام ہیں۔ اور یہاں اونٹوں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں۔
➋ محبت دنیا۔ جب کہ وہ دین کے تابع ہوتو جائز ہے۔
➌ قطع ر حمی ناجائز اور حرام ہے۔
➍ یہ حدیث تعلیم قرآن کی افضلیت پر دلالت کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1456 سے ماخوذ ہے۔