صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ وَالْحُذَّاقِ فِيهِ وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ: باب: افضل کا اپنے سے کم کے آگے قرآن پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ، قَالَ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ، قَالَ : اللَّهُ سَمَّاكَ لِي ، قَالَ : فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي " .ہمام نے کہا: ہم سے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قراءت کروں۔" انہوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا۔" تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ، قَالَ : وَسَمَّانِي لَكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَبَكَى " .محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے «لَمْ یَکُنِ الَّذِینَ کَفَرُوا» کی قراءت کروں۔" انہوں نے کہا: اور (اللہ تعالیٰ نے) آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو وہ رو دیے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ ، بِمِثْلِهِ .خالد بن حارث نے کہا: شعبہ نے ہمیں قتادہ کے حوالے سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ آگے (سابقہ حدیث) کے مانند ہے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ، قَالَ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ، قَالَ : اللَّهُ سَمَّاكَ لِي ، قَالَ : فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي " .ہمام نے کہا: قتادہ نے ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن مجید پڑھوں۔“ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے میرا نام لے کر کہا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا۔“ اس پر حضرت ابی رضی اللہ عنہ پر گریہ طاری ہو گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة البينة آية 1 ، قَالَ : وَسَمَّانِي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَبَكَى " .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے (قرآن مجید کی یہ سورت): «لَمْ یَکُنِ الَّذِینَ کَفَرُوا» (البینہ 1: 98) تلاوت کروں۔“ (حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے) کہا: اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو وہ (حضرت ابی رضی اللہ عنہ) رونے لگے۔
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ ، بِمِثْلِهِ .خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اسی کے مانند (جو پچھلی روایات میں ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے قرآن میں مہارت و شغف کی بنا پر یہ بلند مقام نصیب ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام لے کر اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کو قرآن مجید سنانے کی سعادت سے مشرف فرمانے کا حکم دیا، تاکہ آئندہ بھی کوئی استاد اپنے شاگرد کو قرآن سنانے میں عار محسوس نہ کرے اور تاکہ شاگرد اپنے استاد کا لہجہ اور طرز اور اچھی طرح محفوظ کرے اور آگے اپنے شاگردوں کو اسی طرح پڑھائے اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس دوہری سعادت کے حصول پر اس قدر فرحت و مسرت حاصل ہوئی کہ وہ اس کا حق شکر ادا نہ کر سکتے تھے، اس لیے روپڑے کہ میں کیا، میری حیثیت کیا، اور کہاں اتنا شرف کہ رب کائنات نام لے کر، اپنے رسول کو مجھے یہ شرف عنایت فرمانے کا حکم صادر فرمائے۔
1۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کریم کے حافظ اور بہترین قاری تھے اس بنا پر رب العالمین کے ہاں اتنے مقبول ہوئے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ آپ کو قرآن سنائیں۔
اس سے ان کی خوش قسمتی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
2۔
اس بات کا احتمال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہو۔
کہ اپنی امت میں سے کسی صحابی کو قرآن سنائیں، کسی کے نام سے صراحت نہ ہو۔
اس لیے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا تھا؟ جب انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہو گیا۔
کہ اللہ رب العزت نے ان کا نام لیا تھا، تو مارے خوشی کے رونے لگے کہ مالک کائنات نے اس بندہ عاجز کو شرف بخشا ہے۔
3۔
بعض اہل علم سے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ رونا خوف کی بنا پر تھا کہ اس ناچیز پر غیر معمولی عنایات و نوازشات کا شکر مجھ سے ادا نہ ہو سکے گا۔
ہمارے رجحان کے مطابق پہلے معنی زیادہ وزنی اور قرین قیاس ہیں۔
واللہ اعلم۔
اس میں آٹھ آیات ہیں۔
خوشی کے مارے رونے لگے کہ کہاں میں ایک ناچیز بندہ اور کہاں وہ شہنشاہ ارض وسماء۔
بعضوں نے کہا کہ ڈر سے رو دیئے کہ اس عنایت و نوازش کا شکریہ تجھ سے کیونکر ہوسکے گا۔
عرب کے اہل کتاب اور مشرکین اپنے خیالات باطلہ واوہام فاسدہ پر اس قدر قانع تھے کہ وہ کسی قیمت پر بھی ان کو چھوڑنے والے نہ تھے لیکن اللہ نے ایک ایسا بہترین رسول جو مجسم دلیل تھا مبعوث فرمایا کہ ان کی پاکیزہ تعلیمات سے کتنے خوش نصیب راہ راست پر آ گئے۔
کتنوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔
سورۃ بینہ میں اللہ پاک نے اسی مضمون کو بہترین انداز میں بیان فرمایا ہے اور قرآن پاک کو ﴿صُحُفا مُطَهرَة﴾ اور رسول کریم کو لفظ بینۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔
صدق اللہ تبارك وتعالیٰ آمنا به وصدقنا ربنافاکتبنا مع الشاھدین (آمین)