حدیث نمبر: 796
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، قَالَ أُسَيْدٌ : فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي ، فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا ، قَالَ : فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي ، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ : فَانْصَرَفْتُ ، وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا ، خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ " .

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے باڑے میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، انہوں نے پھر پڑھا، وہ دوبارہ بدکا، پھر پڑھا، وہ پھر بدکا۔ اسید رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ (میرے بیٹے) یحییٰ کو روند ڈالے گا، میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو اچانک چھتری جیسی کوئی چیز میرے سر پر تھی، اس میں کچھ چراغوں جیسا تھا، وہ فضا میں بلند ہو گئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنا بند ہو گئی، کہا: میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس اثنا میں کہ کل میں آدھی رات کے وقت اپنے باڑے میں قراءت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے عرض کی: میں پڑھتا رہا، پھر اس نے دوبارہ اچھل کود کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے کہا: میں نے قراءت جاری رکھی، اس نے کچھ بدک کر چکر لگانے شروع کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے کہا: پھر میں نے چھوڑ دیا۔ (میرا بیٹا) یحییٰ اس کے قریب تھا، میں ڈر گیا کہ وہ اسے روند دے گا۔ تو میں نے چھتری جیسی چیز دیکھی، اس میں چراغوں کی طرح کی چیزیں تھیں، وہ فضا میں بلند ہوئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنی بند ہو گئی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ فرشتے تھے جو تمہاری قراءت سن رہے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو لوگ صبح کو دیکھ لیتے، وہ ان سے اوجھل نہ ہوتے۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 796
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک رات اپنےکھلیان میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا یا گھوڑی کودنے لگی، وہ پڑھتے رہے، پھر وہ دوبارہ کودنے لگی، وہ پڑھتے رہے وہ پھرگردش کرنے لگی، اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ (میرے بیٹے) یحییٰ کو روند ڈالے گی، میں اٹھ کر گھوڑی کے پاس گیا تو اچانک میرے سر پر سائبان جیسی کوئی چیز تھی، اس میں چراغوں جیسی چیزیں تھیں، وہ سائبان فضا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1859]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بعض حضرات نے سورہ کہف پڑھنے والا حضرت اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قرار دیا ہے لیکن بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے، حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا ہے لیکن وہ بھی سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے اس لیے سورۃ کہف پڑھنے والا کوئی تیسرا صحابی ہے یا انھوں نے بقرہ کے بعد سورہ کہف پڑھی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے فرشتوں کو دیکھنا ممکن ہے محال نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 796 سے ماخوذ ہے۔