صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب ذِكْرِ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْفَتْحِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: باب: فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سورۃ الفتح پڑھنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ : " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَيَّ النَّاسُ ، لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ .عبداللہ بن ادریس اور وکیع نے شعبہ سے اور انہوں نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں اپنی سواری پر سورہ فتح کی تلاوت فرمائی اور اپنی قراءت میں آواز کو دہرایا۔ معاویہ نے کہا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے گرد جمع ہو جائیں گے تو میں تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی قراءت سناتا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ " ، قَالَ : فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ ، وَرَجَّعَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لَوْلَا النَّاسُ ، لَأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَلِكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے ہمیں معاویہ بن قرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر (سوار) سورہ فتح پڑھتے ہوئے دیکھا۔ (معاویہ بن قرہ نے) کہا: حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ نے قراءت کی اور اس میں ترجیع کی، معاویہ نے کہا: اگر مجھے لوگوں (کے اکھٹے ہو جانے) کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے (قراءت کا) وہی (طریقہ اختیار) کرتا جو حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا تھا۔
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : عَلَى رَاحِلَةٍ يَسِيرُ ، وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ .خالد بن حارث اور معاذ نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی، خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سورہ فتح تلاوت کرتے ہوئے اپنی) سواری پر سفر کر رہے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
کے تحت ضروری ہے۔
بعض اسلاف سے سواری پر تلاوت کرنے کے متعلق کراہت منقول ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی تردید کے لیے یہ عنوان قائم کیا ہے شارح بخاری ابن بطال نے کہا ہے کہ اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ثابت کرنا ہےکہ سواری پر تلاوت کرنا مسنون امر ہے اور اس سنت کی بنیاد درج ذیل ارشادباری تعالیٰ ہے۔
’’پھر تم اس پر ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کا احسان یاد کرو اور کہو: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارےلیے اسے مسخر کر دیا اور ہم تو اسے قابو میں نہ لاسکتےتھے۔
‘‘ (الزخرف: 43۔
13)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سواری پر بیٹھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
(سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ (13)
وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ)
اس سے معلوم ہوا کہ سواری پر قرآن پڑھا جا سکتا ہے اس کا اصل قرآن میں موجود ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3275۔
(1342، فتح الباري: 97/9)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترجیع کے دو احتمال حسب ذیل ہیں۔
۔
چونکہ آپ اونٹنی پر سوار تھے اور وہ تیز رفتار تھی اس کی تیز رفتاری کی وجہ سے آپ کی آواز میں ترجیع معلوم ہوتی تھی۔
۔
آپ مد کے مقام پر جب حروف مدہ کو کھینچتے تو اس سے ترجیع ظاہر ہوتی تھی اور آپ جان بوجھ کر ایسا کرتے تھے۔
ایک روایت میں اس کی کیفیت بیان ہوئی ہے یعنی اَااَ ہمزہ مفتوحہ اس کے بعد الف پھر ہمزہ مفتوحہ۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7540)
2۔
سواری کے علاوہ بھی آپ کا ترجیع سے پڑھنا ثابت ہے، جیسا کہ حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں اپنے بسترپر سوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترجیع کے ساتھ قرآن پڑھ رہے تھے۔
(فتح الباري: 115/9)
1۔
ایک لفظ کو پہلے آہستہ، پھر اسے بآواز بلند پڑھنے کو ترجیع کہتے ہیں۔
راوی حدیث حضرت معاویہ بن قرہ نےحضرت عبداللہ بن مغفل ؓ کے لب ولہجے کے مطابق تھوڑی سی قراءت کی پھر وضاحت فرمائی جو حدیث میں مذکور ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دھیمے لہجے سے اس سورت کو پڑھا۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5047۔
)
بعض روایات میں مزید تفصیل اور صوتی طریقے کی وضاحت ہے۔
حضرت شعبہ بیان کرتے ہیں کہ پھرمعاویہ بن قرہ نے حضرت ابن مغفل ؓ کے لب ولہجے کے مطابق قراءت کی اور فرمایا: اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہو کہ لوگوں کا ہجوم ہوگا تو میں ترجیع سے پڑھ کر تمھیں سناؤں۔
شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ سے پوچھا: ترجیع کیا ہوتی ہے؟تو انھوں نے بتایا کہ تین مرتبہ حلق میں آواز کو پھیرا جائے۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7540۔
)
2۔
واضح رہے کہ یہ ترجیع سواری پر بیٹھنے کی وجہ سے غیر اختیاری نہ تھی بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے اختیار سے پڑھاتھا۔
واللہ اعلم۔
1۔
ترجیع گلے میں آواز پھیرنے کو کہتے ہیں جیسے خوش الحان لوگ کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس انداز سے قرآن پڑھنا اونٹنی پر بیٹھنے کی وجہ سے اضطراری نہیں تھا بلکہ آپ نے ارادہ اور اختیار سے خوش الحانی کے طورپر اس انداز کو اختیار کیا تھا کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ آپ بڑی نرمی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5047)
2۔
آپ نے اس موقع کے علاوہ بھی قرآن مجید کی تلاوت اس انداز سےفرمائی ہے۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی نے پوچھا: آپ ترجیع کیسے کرتے تھے؟ تو بتایا گیا کہ آآآ تین بار مد کے ساتھ آواز کو دہراتے تھے۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7540)
اس انداز سے تلاوت کرنے میں خوشی کے جذبات بھی شامل تھے کیونکہ آپ فاتحانہ طور پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے۔
واللہ اعلم۔
1۔
آواز کو باربار دہرا کر پہلے پست، پھر بلند آواز سے پڑھنا ترجیع کہلاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس انداز سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا اونٹنی پر بیٹھنے کی وجہ سے اضطراری نہیں تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادے اور اختیار سے خوش الحانی کے طور پر یہ انداز اپنایا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع کے علاوہ بھی قرآن مجید کی تلاوت اس انداز سے فرمائی ہے، چنانچہ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرماتی ہیں کہ میں نےایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز قرآن خوانی کو ملاحظہ کیا۔
میں اپنے بستر پر سوئی ہوئی تھی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم ترجیع کے ساتھ قرآن مجید پڑھ رہے تھے۔
(أصل صفة الصلاة للألباني: 568/2 وشرح کتاب التوحید للغنیمان: 581/2)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت ترجیع کو اختیار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار کیا ہوا اپنا انداز اور فعل تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دے کر اپنی آواز کو گلے میں بار بار پھیرتے اور کلام باری تعالیٰ کو دہراتے۔
اس انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو اپنے رب کا کلام پہنچایا۔
آواز تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے۔
اور کلام اللہ تعالیٰ کا تھا جوغیر مخلوق ہے۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے اور (ایک ایک آیت) کئی بار دہرا رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1467]
ترجیع سے مراد آواز کو حلق میں لوٹانا اور بلند کرنا ہے۔ تاکہ لحن لزیز بن جائے۔ معلوم ہوا ترجیع اور عمدہ لحن سے قرآن پڑھنا مستحب اور مطلوب ہے۔