صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: باب: خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ " .سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس (فرمان) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے (کبھی) کسی چیز پر اس قدر کان نہیں دھرا (توجہ سے نہیں سنا) جتنا کسی خوش آواز نبی (کی آواز) پر کان دھرا جس نے خوش الحانی سے قراءت کی۔"
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ .یونس اور عمر (بن حارث) دونوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت کی، اس میں (ما اذن لنبی کے بجائے) «كما يأذن لنبي» (جس طرح ایک نبی کے لیے کان دھرتا ہے جو خوش الحانی سے قراءت کر رہا ہو۔) کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ ، يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ " .عبدالعزیز بن محمد نے کہا: یزید بن ہاد نے ہمیں محمد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "اللہ تعالیٰ نے (کبھی) کسی چیز پر اس طرح کان نہیں دھرا جس طرح کسی خوش آواز نبی (کی قراءت) پر جب وہ بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرے۔"
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
أَذِنَ لِشَيْءٍ: کان دھرنا، اہتمام سے سننا، یعنی استماع کرنا، اور اللہ تعالیٰ کا استماع بھی اس کی ذاتی صفات کی طرح اس کے شایان شان ہے، اس کی کیفیت و صورت کو نہیں جانا جا سکتا، اس لیے یہ تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اس کی بنا پر نبی کو قرب بخشتا ہے، یا اس پر اجر جزیل اور وافر ثواب عنایت فرماتا ہے۔
(2)
يَتَغَنّٰي بِالْقُرْآنِ: وہ اپنی کتاب کی خوش الحانی اور حسن صوت کے ساتھ قراءت کرتا ہے، قرآن سے مراد یا تو مصدری معنی ہے قراءت کرنا یا مقروء مراد ہے یعنی جس کتاب کی وہ تلاوت قراءت کرتا ہے۔
فوائد ومسائل: قرآن مجید کو خوش آوازی اور خوش الحانی سے پڑھناچاہیے لیکن اس کو گانا اور تجوید کے اصول وضوابط کو نظر اندا زکر کے ترنم پیدا کرنا پسندیدہ نہیں ہے اور یہ بھی تصنع اور بناوٹ سے پاک ہو تکلف اور تصنع اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ ’’اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)
! کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر مزدوری کا سوال نہیں کرتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں سے ہوں۔
‘‘ بعض حضرات نے (يَتَغَنّٰى)
کا معنی وہ کیا ہے جو گھوڑوں کے رکھنے والے کے اجر وثواب والی حدیث میں (تَغَنِّياً)
کا ہے۔
یعنی قرآن یا اپنی کتاب کو باعث استغناء سمجھتا ہے۔
اس کے مقابلے میں کسی اور کتاب کی ضرورت واحتیاج نہیں سمجھتا یا کسی انسان کا اپنے آپ کو محتاج نہیں سمجھتا۔
یہ معنی اگرچہ اپنی جگہ درست ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن اس حدیث میں مقصد خوش الحانی ہی ہے جیسا کہ دوسری حدیث ہے: (زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ)
قرائت کو اپنی آوازوں سے مزیّن کرو۔
“ یہ بھی روایت ہے کہ قرآن مجید کو اہل عرب کے لہجہ اور ان کی آواز کے مطابق پڑھو۔
گانے والوں اور اہل کتاب کے لب و لہجہ سے قرآن مجید کی تلاوت میں پرہیز کرو، میرے بعد ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو قرآن مجید کو گویوں کی طرح گا گا کرپڑھے گی، یہ تلاوت ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی اور ان کے دل فتنے میں مبتلا ہوں گے۔
“ ایسی تلاوت قطعاً منع ہے جس میں گویوں کی نقل کی جائے۔
اس ممانعت کے باجود آج پیشہ ور قاریوں نے قراءت کے موجودہ طور و طریق جو ایجاد کئے ہیں ناقابل بیان ہیں اللہ تعالیٰ نیک سمجھ عطا کرے۔
آمین۔
1۔
شارحین نے لکھا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ عنوان کے مطابق نہیں ہے حتی کہ علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث میں مذکورہ لفظ اذن سے قول مراد لیا ہے، حالانکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جیسے فقیہ سے یہ بات بہت بعید ہے۔
(عمدة القاري: 672/16)
2۔
ہمارے نزدیک اس لفظ کے معنی ہیں: متوجہ ہو کر سننا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ توجہ سے اسی کلام کو سنا جا سکتا ہے جو حروف وآواز پر مشتمل ہو اور خوش الحانی سے بھی وہی کلام پڑھا جا سکتا ہے جو الفاظ واصوات پر مشتمل ہو۔
اللہ تعالیٰ کا کلام بھی حروف وآواز پر مشتمل ہے اور وہ حقیقی کلام سے متصف ہے۔
واللہ أعلم۔
خوش آوازی سے قرآن کا پڑھنا مسنون ہے یعنی ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ متوسط آواز سے پڑھنا۔
خوش آوازی سے یہ مراد نہیں کہ گانے کی طرح پڑھے۔
مالکیہ نے اسے حرام کہا ہے اور شافعیہ اور حنفیہ نے مکروہ رکھا ہے، حافظ نے کہا اس کا یہ مطلب ہے کہ کسی حرف کے نکالنے میں خلل نہ آئے اگر حروف میں تغیر ہو جائے تو بالاجماع حرام ہے۔
1۔
عربی زبان میں (تَغَنِّي)
کے کئی معنی ہیں جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
۔
(تحسين الصوت)
یعنی قرآن کریم کو خوش الحانی اور بہترین آواز سے پڑھنا۔
۔
(استغنا)
قرآن کریم کی وجہ سے دیگر کتب سے بے پروا ہو جانا اور ان کی طرف کوئی توجہ نہ دینا۔
۔
(التحزن)
یعنی قرآن کریم کو غم و اندوہ سے پڑھا تا کہ فکر آخرت پیدا ہو۔
۔
(التشاغل)
یعنی قرآن کریم میں اس قدر مصروف ہو جانا کہ دوسری کسی چیز کی طرف توجہ نہ جائے۔
۔
(التلذز)
یعنی قران کریم پڑھتے وقت الذت و سرور حاصل کرنا۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری کتاب کی طرف توجہ نہ دی جائے اور نہ ان کی پروا ہی کرے۔
تائید کے لیے انھوں نے درج ذیل بالا آیت کریمہ پیش کی ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
اللہ تعالیٰ ہر قسم کی آواز سنتا ہے لیکن اس کی کتاب پڑھنے والے خوش الحان کو پسند کرتا ہے۔
اسے توجہ سے سنتا ہے۔
اس حدیث میں خوش الحانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا گیا ہے کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور عمل ہے اور یہ خوش الحانی اللہ تعالیٰ کو مطلوب اور اسے انتہائی پسند ہے۔
2۔
اس سے واضح ہوا کہ تلاوت اور آواز کا اچھا ہونا، اسے باآواز بلند پڑھنا یا آہستہ تلاوت کرنا یہ سب بندے کے افعال ہیں اور بندہ اپنے اعمال وافعال سمیت اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے۔
واللہ أعلم۔
نبی کی آواز پر کان دھرنا جب کہ وہ بلند آواز سے قرات کرتا ہے اس بات کی دلیل ہے کہ (يَتَغَنّٰى بِالْقُرْآن)
سے مراد خوش الحانی اور بلند آواز سے پڑھنا ہے، بے نیازی اور تکلف مراد نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1473]
كے معنی [يجهر به]
یعنی بلند آواز سے پڑھنا لیے گئے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” اللہ تعالیٰ کوئی چیز اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1018]
➋ اس حدیث مبارکہ سے اللہ کی صفت سماع ثابت ہوتی ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نبی کے خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کو اللہ تعالیٰ جس طرح سنتا ہے اس طرح کسی اور چیز کو نہیں سنتا۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1019]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنا چاہیے، اور تلفظ کا خاص خیال رکھنا چا ہیے۔