حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِهَا " ، وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِابْنِ بَرَّادٍ .

عبداللہ بن براد اشعری اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے برید سے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن کی نگہداشت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! یہ بھاگنے میں پاؤں بندھے اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔" اس حدیث کے الفاظ ابن براد (کی روایت) کے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 791
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5033

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5033 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5033. سیدنا موسٰی ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قرآن مجید ہمیشہ پڑھتے رہو اور دَور کرتے رہو، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5033]
حدیث حاشیہ: کتنے حافظ ایسے دیکھے گئے جنہوں نے تلاوت کرنا چھوڑ دیا اور قرآن مجید ان کے ذہنوں سے نکل گیا۔
صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5033 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5033 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5033. سیدنا موسٰی ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قرآن مجید ہمیشہ پڑھتے رہو اور دَور کرتے رہو، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5033]
حدیث حاشیہ:

بہت سے ایسے حافظ دیکھے گئے ہیں۔
جنھوں نے قرآن کے دَور اور اس کی تلاوت سے رو گردانی کی، پھر قرآن مجید ان کے سینوں سے نکل گیا۔

اس حدیث میں قرآن بھول جانے کی نسبت انسان اپنی طرف کرے اس سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن بھلایا ہے اور وہی ہر چیز کی تقدیربناتا ہے، نیز نسیان ترک ہے اس لیے یہ کہنا کہ میں نے ترک کیا اور نسیان کا قصد کیا ناپسندیدہ فعل ہے۔
اس کے علاوہ نسیان کی نسبت اپنی طرف کرنا گویا تساہل اور تغافل کی نسبت اپنی طرف کرنا ہے اس لیے منع کی گیا ہے۔

بہر حال نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے ہے کہ وہ تمام افعال کا خالق ہے اور انسان کی طرف اس بنا پر جائز ہے کہ وہ اس کا سبب ہے اور اس کی نسبت شیطان کی طرف بھی ہے کیونکہ اس کی وسوسہ اندازی سے انسان غفلت کا شکار ہوا ہے، بہر حال انسان کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہ بھول کا شکار نہ ہو۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5033 سے ماخوذ ہے۔