صحيح مسلم
کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به— قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
باب الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا باب: قرآن کی نگہبانی کرنے کا حکم اور اس قول کے کہنے کی ممانعت کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حافظِ قرآن کی مثال ان اونٹوں کی طرح ہے، جس کا پاؤں رسی سے باندھا گیا ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی تو وہ قابو میں رکھے گا، اوراگرانھیں چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائیں گے۔‘‘
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ : وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ ، وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ .یہی روایت امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کی ہے، موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”اگرحاملِ قرآن، رات اور دن کو اس کے پڑھنے کا فریضہ سر انجام دیتا ہے تو وہ اسے یاد رکھے گا، اور جب اس فریضہ کو سر انجام نہیں دے گا تو وہ اسے بھول جائے گا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اَلْاِبِلُ الْمُعَقَّلَه: بندھے ہوئے اونٹ۔
مُعَقَّلَه: عقال سے ماخوذ ہے۔
عِقَال: رسی کو کہتے ہیں۔
(2)
اِنْ عَاهَدَا عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا: اگر وہ (مالک)
اونٹ کا خیال و دھیان رکھے گا اور رسی قائم رہے گی تو اونٹ اس کے قبضہ میں رہیں گے۔
(3)
وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ: اگر انہیں رسی سے آزاد کر دے گا تو وہ چلے جائیں گے۔
فوائد ومسائل: اونٹ ایسا حیوان ہے جو بہت بھگوڑا ہے وہ بھاگ کھڑا ہو تو رسی کو قابو کرنا آسان نہیں ہوتا اس لیے رسی کو قابو رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی رسی میں بندھا رہے کیونکہ رسی کھول دی یا ٹوٹ گئی تو نکل کھڑا ہو گا۔
اس طرح قرآن مجید کو یاد رکھنے کی صورت اور اس کی عقال، اس کی تلاوت وقرات پر استمرارودوام ہے۔
اگرانسان اس کی ہمیشہ تلاوت نہیں کرے گا تو وہ اس کے ذہن سے نکل جائے گا اور اسے دوبارہ یاد کرنے کی محنت وکوشش برداشت کرنی پڑے گی۔
اس کے بغیر یاد نہیں ہو گا۔
1۔
قرآن مجید کی تلاوت جاری رکھنے اور اسے ہمیشہ پڑھتے رہنے کو رسی سے بندھے ہوئےاونٹ سے تشبیہ دی جس کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہو۔
جب تک اس کی نگرانی اور حفاظت رہے اور اس کا دور ہوتا رہے تو یاد رہے گا جیسا کہ رسیوں سے بندھا ہوا اونٹ بھاگ نہیں سکتا۔
2۔
اونٹ سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ اونٹ دوسرے گھریلو جانوروں کی نسبت زیادہ بھاگتا ہے اور اس کے بھاگ نکلنے کے بعد اسے پکڑنا بہپت مشکل ہوتا ہے۔
اکثرحفاظ کرام کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قرآن کریم کا دورچھوڑ دیتے ہیں۔
پھر ساری محنت برباد ہو جاتی ہےاور قرآن مجید سینے سے نکل جاتا ہے، بھولا ہوا قرآن یاد کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
(إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صاحب قرآن ۱؎ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، جب تک وہ ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے تو وہ بندھے رہتے ہیں، اور جب انہیں چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 943]
➋ قرآن کے حافظ کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو بار بارپڑھتا رہے۔ متشابہات کی طرف توجہ کرے ورنہ بھولنے کا خطرہ ہے۔
➌ کسی بات کی وضاحت کرنے کے لیے مثال بیان کرنی چاہیے تاکہ حقیقت حال ذہنوں کے قریب تر ہو جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3783]
فوائد و مسائل:
(1)
اونٹ کو بٹھا کررسی سے اس کا گھٹنا باندھ دیا جاتا ہے۔
اس رسی کو (عِقَال۔
۔
۔)
کہتے ہیں۔
اس کی وجہ سے اونٹ بھاگ نہیں سکتا۔
(2)
قرآن مجید یاد کرنے کے بعد اسے پڑھتے رہنا چاہیے تا کہ یاد رہے۔
اگر پابندی سے تلاوت نہ کی جائے تو حفظ کیا ہوا قرآن بھول جا تا ہے۔
(4)
اگر تلاوت فرض اور نفل نمازوں میں خصوصاً نماز تہجد میں ہو تو برکات کا حصول زیادہ ہوتا ہے۔
«. . . وعن نافع عن ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إنما مثل صاحب القرآن كمثل صاحب الإبل المعقلة إن عاهد عليها امسكها وإن اطلقت ذهبت . . .»
”. . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحب قرآن (حافظ) کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں، اگر وہ ان کا خیال رکھے گا تو انہیں قابو میں رکھے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو یہ اونٹ (بھاگ کر) چلے جائیں گے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 567]
تفقہ:
➊ حافظ کو چاہئے کہ قرآن یاد کر لینے کے بعد بھی اس کی منزل مسلسل پڑھتا رہے تاکہ یہ اسے بھول نہ جائے۔ اگر منزل باقاعدگی سے نہ پڑھی جائے تو قرآن جلد بھول جاتا ہے۔
➋ طلبہ کو کثرت سے علمی مذاکرہ کرتے رہنا چاہئے۔
➌ مثال دے کر بات سمجھانا بہترین طریقہ ہے۔
➍ اعمال بجا لانا آسان ہے جبکہ ان کی حفاظت کرنا مشکل ہے، اسی لیے اعمال کے ساتھ ان کی محافظت پر زور دیا گیا ہے۔