صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلاَتِهِ أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ: باب: نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 787
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ " .ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے بیان کی ہیں، پھر ان میں سے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص رات کو قیام کرے اور اس کی زبان پر قراءت مشکل ہو جائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 787
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1311 | سنن ابن ماجه: 1372 | صحيفه همام بن منبه: 117
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص رات کو قیام کرے اور اس کی زبان پر قراءت مشکل ہو جائے،زبان پر قراءت جاری نہ رہے (کیونکہ نیند آرہی ہے) اور اسے پتہ نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1836]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
اِسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ: قراءت میں بندش اور رکاوٹ پیدا ہو یا زبان میں روانی نہ رہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیند کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنا بند کر دینا چاہیے جب نیند کر لے تو پھر نماز پڑھ لے اور غلبہ نیند کا یہ مقصد ہے کہ زبان پر جاری ہونے والے الفاظ کا پتہ نہ رہے کہ میں نے کون سا لفظ پڑھا ہے معنی کا جاننا لازم نہیں ہے۔
اگرچہ بہتر یہی ہے کہ انسان کم از کم نماز کی دعاؤں اورعام طور پر پڑھے جانے والی سورتوں کا معنی سیکھے تاکہ نماز کے اندر خشوع وخضوع پیدا ہو اور معانی ومطالب کی طرف دھیان کیوجہ سے اس کا ذہن اِدھر اُدھر نہ بھٹکے۔
اِسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ: قراءت میں بندش اور رکاوٹ پیدا ہو یا زبان میں روانی نہ رہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیند کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنا بند کر دینا چاہیے جب نیند کر لے تو پھر نماز پڑھ لے اور غلبہ نیند کا یہ مقصد ہے کہ زبان پر جاری ہونے والے الفاظ کا پتہ نہ رہے کہ میں نے کون سا لفظ پڑھا ہے معنی کا جاننا لازم نہیں ہے۔
اگرچہ بہتر یہی ہے کہ انسان کم از کم نماز کی دعاؤں اورعام طور پر پڑھے جانے والی سورتوں کا معنی سیکھے تاکہ نماز کے اندر خشوع وخضوع پیدا ہو اور معانی ومطالب کی طرف دھیان کیوجہ سے اس کا ذہن اِدھر اُدھر نہ بھٹکے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 787 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1311 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز میں اونگھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی رات میں (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1311]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی رات میں (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1311]
1311. اردو حاشیہ: فائدہ: نیند کے غلبے یا مسلسل نماز وقراءت کرنے سے تھکاوٹ کے باعث بھی زبان اٹکنے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں انسان کو آرام کرلینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1311 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1372 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر (نیند کے غلبے کی وجہ سے) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1372]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر (نیند کے غلبے کی وجہ سے) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1372]
اردو حاشہ:
فائدہ: قرآن مشکل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اونگھ کی وجہ سے قرآن پڑھنا مشکل ہوجائے اور نیند کیوجہ سے اپنے کہے ہوئے الفاظ بھی سمجھ میں نہ آ رہے ہوں تو نماز اور تلاوت ختم کرکے سونے کے لئے لیٹ جانا چاہیے۔
فائدہ: قرآن مشکل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اونگھ کی وجہ سے قرآن پڑھنا مشکل ہوجائے اور نیند کیوجہ سے اپنے کہے ہوئے الفاظ بھی سمجھ میں نہ آ رہے ہوں تو نماز اور تلاوت ختم کرکے سونے کے لئے لیٹ جانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1372 سے ماخوذ ہے۔