صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب اسْتِحْبَابِ صَلاَةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ: باب: نفل نماز کا گھر میں مستحب اور مسجد میں جائز ہونا۔
حدیث نمبر: 780
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 780
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2877 | سنن ابي داود: 2042
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا: ’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا ؤ، شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے، جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1824]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: گھروں میں نماز نہ پڑھنا ان کو قبرستان قرار دینا ہے جو شہر خموشاں ہیں اور اس میں دنیوی زندگی کی چہل پہل نہیں ہے۔
سورہ بقرہ میں شیطانی ہتھکنڈوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
اور اس سے بچنے کا علاج تجویز کیا گیا ہے، اس لیے اس میں یہ خاصہ ہے کہ اگر اس کو سوچ سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کی کوشش کی جائے تو شیطان کو انسان کی زندگی میں در آنے کا موقع نہیں ملتا۔
اور جس طرح شیطان اذان سن کر دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے، سورہ بقرہ کی تلاوت سے بھی بدکتا ہے اور بھاگتا ہے اور انسان پر تسلط جمانے کی ہمت وحوصلہ نہیں پاتا۔
سورہ بقرہ میں شیطانی ہتھکنڈوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
اور اس سے بچنے کا علاج تجویز کیا گیا ہے، اس لیے اس میں یہ خاصہ ہے کہ اگر اس کو سوچ سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کی کوشش کی جائے تو شیطان کو انسان کی زندگی میں در آنے کا موقع نہیں ملتا۔
اور جس طرح شیطان اذان سن کر دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے، سورہ بقرہ کی تلاوت سے بھی بدکتا ہے اور بھاگتا ہے اور انسان پر تسلط جمانے کی ہمت وحوصلہ نہیں پاتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 780 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2042 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قبروں کی زیارت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ (کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں)، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2042]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ (کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں)، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2042]
فوائد ومسائل:
1۔
گھروں کو قبرستان بنانا یوں ہے کہ وہاں نماز تلاوت اور اذکار کے اعمال ترک کردیئے جایئں جیسے کہ قبرستان میں نہیں کئے جاتے۔
اس میں مردوں کو بالخصوص تاکید ہے۔
کہ اپنی نمازوں کا ایک حصہ یعنی سنن اور نوافل گھروں میں پڑھا کریں جو کہ نزول برکات کا باعث ہیں۔
اور گھر والوں کے لئے اعمال خیر کی ترغیب وتربیت بھی۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے۔
کہ اپنی میتوں کو اپنے گھروں میں مت دفن کیا کرو بلکہ قبرستان میں دفنائو۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس مجمع لگانا بھیڑ کرنا بہت زیادہ دیرکھڑے رہنا یا بار بار آنا اسے میلہ گاہ بنانا ہے۔
جو کہ ممنوع اور انتہائی خلاف ادب ہے۔
جب ر سول اللہﷺ کی قبر مبارک کا ادب یہ ہے تو دیگر صالحین کی قبروں پراجتماع اور عرس بطریق اولیٰ ممنوع اور حرام ہیں۔
3۔
رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ وسلام پڑھنے کے لئے سفر کی مشقت اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں انسان جہاں کہیں ہو اس کا درود آپﷺ کو پہنچا دیا جاتا ہے۔
1۔
گھروں کو قبرستان بنانا یوں ہے کہ وہاں نماز تلاوت اور اذکار کے اعمال ترک کردیئے جایئں جیسے کہ قبرستان میں نہیں کئے جاتے۔
اس میں مردوں کو بالخصوص تاکید ہے۔
کہ اپنی نمازوں کا ایک حصہ یعنی سنن اور نوافل گھروں میں پڑھا کریں جو کہ نزول برکات کا باعث ہیں۔
اور گھر والوں کے لئے اعمال خیر کی ترغیب وتربیت بھی۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے۔
کہ اپنی میتوں کو اپنے گھروں میں مت دفن کیا کرو بلکہ قبرستان میں دفنائو۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس مجمع لگانا بھیڑ کرنا بہت زیادہ دیرکھڑے رہنا یا بار بار آنا اسے میلہ گاہ بنانا ہے۔
جو کہ ممنوع اور انتہائی خلاف ادب ہے۔
جب ر سول اللہﷺ کی قبر مبارک کا ادب یہ ہے تو دیگر صالحین کی قبروں پراجتماع اور عرس بطریق اولیٰ ممنوع اور حرام ہیں۔
3۔
رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ وسلام پڑھنے کے لئے سفر کی مشقت اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں انسان جہاں کہیں ہو اس کا درود آپﷺ کو پہنچا دیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2042 سے ماخوذ ہے۔