صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجْمَعَ حَتَّى أَصْبَحَ: باب: نماز تہجد کی ترغیب اگرچہ کم ہی ہو۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ ، إِذَا نَامَ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا ، طَيِّبَ النَّفْسِ ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ ، كَسْلَانَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتا ہے کہ تم پر ایک بہت لمبی رات (کا سونا لازم) ہے، جب انسان بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ چاق و چوبند، ہشاش بشاش پاک طبیعت (کے ساتھ) صبح کرتا ہے، ورنہ (جاگ کر عبادت نہیں کرتا تو) صبح کو گندے دل کے ساتھ اور سست اٹھتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
انسان کی سستی وکاہلی کافور ہو جاتی ہے۔
اور اس کی طبیعت میں خوشگواری اور ہشاشت وبشاشت پیدا ہو جاتی ہے۔
اور وہ مستعد و ہوشیار ہو جاتا ہے بڑے سکون واطمینان سے صبح کی نماز میں شریک ہوتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے شیطان کے تسلط وغلبہ اور اس کے کیدومکرسے آزادی کا پروانہ ذکرالٰہی اور نماز ہے۔
اس کے بغیر انسان شیطان سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
اگرانسان رات بھر سویا رہے اور صبح کی نماز میں بھی شریک نہ ہو سکے تو انسان کے لیے راہ راست پر چلنا اور دینی زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اچھے اور نیک کاموں کے لیے رغبت اور شوق پیدا نہیں ہوتا۔
ان سے غفلت اور کوتاہی برتتا ہے۔
طبیعت میں اس کے لیے آمادگی نہیں پاتا۔
1۔
امام بخاری ؒ نے کتاب التہجد میں اس پر ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے۔
(بَابُ عَقْدِ الشَّيْطَانِ عَلَى قَافِيَةِ الرَّأْسِ إِذَا لَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ)
’’جب کوئی تہجد نہ پڑھے تو شیطان کا اس کی گدی پر گرہ لگانا۔
‘‘ ان گرہوں کے متعلق دو مشہور قول ہیں۔
ایک یہ حقیقی گرہ مراد ہے اور انسان کو مسحور کر دیتی ہے تاکہ وہ تہجد نہ پڑھ سکے۔
دوسرا یہ کہ گرہ لگانے سے مراد اسے غافل کردینا ہےگویا اسے وسوسہ ڈالتا ہےکہ ابھی رات بہت باقی ہے بیدار ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس طرح وہ رات کی نماز سے محروم ہوجاتا ہے تاہم گرہ کے حقیقی معنی مراد لینا ہی أقرب الی الصواب ہے۔
2۔
سر کی گدی کی تخصیص اس لیے ہے کہ یہ شیطان کے تصرف کا محل ہے اور شیطانی عمل دخل کو یہ جگہ جلد قبول کرتی ہے۔
3۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے شیطان کا وجود اور اس کی کارکردگی ثابت کی ہے کہ اس کا انسان کی گدی پر گرہ لگا کر اسے خیر کثیر سے محروم کرنا اس کی ایسی گندی صفات میں سے ہے جو انتہائی مذموم اور قابل نفرت ہیں۔
حقیقت میں شیطان گرہیں لگاتا ہے اور یہ گرہیں ایک شیطانی دھاگے میں ہوتی ہیں وہ دھاگہ گدی پر رہتا ہے۔
امام احمد کی روایت میں صاف یہ ہے کہ ایک رسی سے گرہ لگاتا ہے بعضوں نے کہا گرہ لگانے سے یہ مقصود ہے کہ شیطان جادو گر کی طرح اس پر اپنا افسوں چلاتا ہے اور اسے نماز سے غافل کرنے کے لیے تھپک تھپک کر سلا دیتا ہے۔
(1)
حضرات انبیاء ؑ اس شیطانی عمل سے محفوظ رہتے ہیں، اسی طرح جو شخص رات کو سوتے وقت آیت الکرسی پڑھ لے وہ بھی ان گرہوں سے بچ جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ﴾ (بني إسرائیل65: 17)
’’بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلے گا۔
‘‘ واضح رہے کہ ان شیطانی گرہوں کو حقیقت پر محمول کیا جائے، نیز یہ گرہیں ایک دھاگے یا رسی میں ہوتی ہیں اور اسے انسان کی گدی پر رکھا ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے کہ شیطان ایک رسی میں گرہیں لگاتا ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 33/3) (2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے نماز تہجد کی اہمیت و افادیت بیان کی ہے، یعنی شیطان ہر مکلف کی گدی پر گرہ لگاتا ہے، ہاں! نماز تہجد پڑھنے سے وہ گرہیں کھل جاتی ہیں، گویا اس کی گدی پر گرہیں لگی ہی نہیں کیونکہ ان کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بد دلی کے ساتھ صبح کرتا ہے۔" [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1306]
➋ یہ اور اس قسم کی دیگر احادیث میں جس شیطان کا ذکر آتاہے وہ غالباً ’’قرین‘‘ ہی ہوتا ہے۔ یعنی جو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے۔
➌ اس حدیث میں نماز تہجد اور بالتبع نماز فجر اول وقت میں باجماعت کی ظاہری برکات کا بیان ہے اور تجربہ اس کا بہترین شاہد ہے کہ دنیا کے قیمتی مقویات بھی یہ فرحت و سرور نہیں دے سکتے جو اس عمل سے حاصل ہوتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے، اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی رات بہت لمبی ہے، پس سوئے رہ، تو اگر وہ بیدار ہو جاتا ہے، اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو بھی کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر اس نے نماز پڑھی تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں، اور وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ ہشاس بشاس اور خوش دل ہوتا ہے، ورنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ بد دل اور سست ہوتا ہے۔" [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1608]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1329]
فوائد و مسائل:
(1)
شیطان ہماری نظر سے اوجھل مخلوق ہے۔
اس کے بارے میں جو کچھ قرآن وحدیث سے ثابت ہو اس پر یقین رکھنا چاہیے۔
(2)
رسی دھاگے یا بالوں میں گرہ لگا کر پھونک مارنا جادوگروں کا طریقہ ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
﴿وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ﴾ (الفلق: 4)
’’اور (میں)
گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے (اللہ کی پناہ میں آتا ہوں)
‘‘ شیطان اس طرح انسان پر نفسیاتی اثر ڈال کر اللہ کی یاد سے غافل کرتا ہے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے کہ وہ ہروقت گرہ لگاتے وقت کہتا ہے۔
ابھی بہت لمبی رات پڑی ہے۔
سویا رہ (صحیح البخاري، التهجد، باب عقد الشیطان علی قافية الرأس إذا لم یصل باللیل، حدیث: 1142)
(3)
اللہ کی یاد شیطان کی تدبیروں کا بہترین توڑ ہے۔
جاگ کراللہ کا نام لینا یعنی یہ دعا پڑھنا شیطان کی لگائی ہوئی گرہ کھول دیتا ہے۔ (الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ)
(صحیح البخاري، الدعوات، باب ما یقول إذا نام، حدیث: 6312)
تعریفیں اس اللہ کی ہیں۔
جس نے ہمیں موت دینے کے بعد (دوبارہ)
زندگی بخشی اور (قیامت کے دن)
اٹھ کر اسی کے پاس جانا ہے۔
(4)
نماز تہجد شیطان کے شر سے محفوظ رکھنے والی ایک اہم چیز ہے۔
(5)
اللہ کی یاد اور نماز کی برکت سے روح کو آسودگی اور دل کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔
اور ان چیزوں سے گریز پریشانی پژمردگی اور سستی کاباعث ہوتی ہے۔
(6)
اللہ کی یاد سے دنیا کی بھلائی ہوتی ہے۔
اور اللہ کی رضا بھی نصیب ہوتی ہے۔
«. . . 334- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يعقد الشيطان على قافية رأس أحدكم إذا هو نام ثلاث عقد، يضرب مكان كل عقدة: عليك ليل طويل فارقد، فإن استيقظ فذكر الله انحلت عقدة، فإن توضأ انحلت عقدة، فإن صلى انحلت عقدة، فأصبح نشيطا طيب النفس، وإلا أصبح خبيثا كسلان." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم سوتے ہو تو شیطان تمہاری گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر کہتا ہے کہ رات بہت لمبی ہے سو جا۔ پھر جب وہ نیند سے بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے اور یہ آدمی اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ چاق و چوبند اور خوش مزاج ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ کرے تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ ڈھیلا سست تھکا ہوا اور بدمزاج ہوتا ہے۔ " . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/0/0: 105]
[وأخرجه البخاري 1142، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ رات کو تہجد کے لئے اٹھنا اور تہجد پڑھنا انتہائی فضیلت کا کام ہے۔
➋ شیطان اور اس کی ذریت ہر وقت اسی کوشش میں لگی رہتی ہے کہ لوگوں کو صراط مستقیم سے بھٹکا دیں۔
➌ ہمیشہ صبح کی نماز اول وقت پر باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
➍ اللہ کے ذکر سے شیطان بھاگتا ہے لہٰذا کثرت سے مسنون ذکر کرتے رہنا چاہئے۔
➎ تمام عبادات اور مسنون کام ذکر میں سے ہیں۔
➏ کتاب وسنت میں جن امور غیبیہ کا ذکر کیا گیا ہے، ان پر کسی شک وشبہ کے بغیر ایمان لانا ضروری ہے۔
➐ اہل ایمان خوش اخلاق ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہمیں شیطان کئی طریقوں سے پھنساتا ہے، اور امید دلاتا ہے، ہمیں شیطان کی مخالفت کرتے ہوئے صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب کے وقت اٹھ کر تہجد پڑھنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا، وہ سست حال رہتا ہے۔