حدیث نمبر: 766
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ ، فَقَالَ : أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْرَعْتُ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، قَالَ : " فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم سواری کو پلانے کے لیے گھاٹ پر نہیں اترو گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بھی) گھاٹ پر اترے اور میں بھی اترا، پھر آپ ضرورت کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا، آپ واپس آئے اور وضو فرمایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے آپ نے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے (دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈالا) میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کر لیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 766
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اے جابر! کیا تم پانی پلانے کے لئے گھاٹ پر نہیں اترو گے؟ ’’میں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور میں نے پانی پلانا شروع کیا، پھر آپﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور میں نے آپﷺ کے لئے پانی رکھا، آپﷺ واپس آئے اور وضو فرمایا، پھر اٹھ کر نماز پڑھنی شروع کر دی آپ ﷺ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1805]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مَشْرَعَةٌ: پانی کی گھاٹ۔
اَلاَ تَشْرَعُ: کیا تم اونٹوں کو پانی پینے کے لیے گھاٹ پر نہیں لے جاؤ گے۔
فوائد ومسائل: اگرمقتدی ایک ہو تو اسے امام کے دائیں کھڑا ہونا ہوتا ہے اگر وہ غلط جگہ پر کھڑا ہو جائے تو امام اسے پکڑ کر اپنے دائیں کھڑا کرے گا اور اس فعل سے امام یا مقتدی کی نماز متاثر نہیں ہو گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 766 سے ماخوذ ہے۔