صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب الدُّعَاءِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ: باب: نماز اور دعائے شب۔
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ ، فَقَالَ : أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْرَعْتُ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، قَالَ : " فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم سواری کو پلانے کے لیے گھاٹ پر نہیں اترو گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بھی) گھاٹ پر اترے اور میں بھی اترا، پھر آپ ضرورت کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا، آپ واپس آئے اور وضو فرمایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے آپ نے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے (دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈالا) میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کر لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
مَشْرَعَةٌ: پانی کی گھاٹ۔
اَلاَ تَشْرَعُ: کیا تم اونٹوں کو پانی پینے کے لیے گھاٹ پر نہیں لے جاؤ گے۔
فوائد ومسائل: اگرمقتدی ایک ہو تو اسے امام کے دائیں کھڑا ہونا ہوتا ہے اگر وہ غلط جگہ پر کھڑا ہو جائے تو امام اسے پکڑ کر اپنے دائیں کھڑا کرے گا اور اس فعل سے امام یا مقتدی کی نماز متاثر نہیں ہو گی۔