صحيح مسلم
كتاب صلاة المسافرين وقصرها— مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
باب التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ وَهُوَ التَّرَاوِيحُ: باب: قیام رمضان کی ترغیب یعنی تراویح کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، يَقُولُ : وَقِيلَ لَهُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : " مَنْ قَامَ السَّنَةَ ، أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ أُبَيٌّ : وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِي ، وَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا ، هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَهَا " .زِرّ بیان کرتے ہیں کہ اُبَیّ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتایا گیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: جو انسان سال بھر قیام کرے گا وہ شب قدر کو پائے گا۔ تو ابی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، بغیر اس کے کہ ان شاء اللہ کہیں کہ اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے شب قدر رمضان میں ہے اور اللہ کی قسم! میں حوب جانتا ہوں یہ کون سی رات ہے یہ وہی رات ہے، جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا، یہ ستائسویں صبح کی رات ہے، اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے دن کی صبح سورج روشن، بغیر شعاعوں کے طلوع ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا ، " وَأَكْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا ، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ ، الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ .محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو زر بن حبیش سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (زر نے) کہا: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم! میں اس کے بارے میں جانتا ہوں اور میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا، یہ ستائیسویں رات ہے۔ شعبہ نے ”یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا“ فقرے کے بارے میں شک کیا، انہوں نے کہا: مجھے یہ روایت میرے ساتھی نے ان (عبدہ بن ابی لبابہ کے حوالے) سے سنائی تھی۔
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : إِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ وَمَا بَعْدَهُ .امام صاحب دوسری اسناد سے شعبہ کی روایت نقل کرتے ہیں لیکن اس میں یہ بیان نہیں کرتے شعبہ کو شک ہے، سے لے کر آخر تک۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، سمعا زر بن حبيش ، يَقُولُ : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : " رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، فَقُلْتُ : بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ؟ ، قَالَ : " بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا " .سفیان بن عیینہ نے عبدہ اور عاصم بن ابی نجود سے روایت کی، ان دونوں نے حضرت زر بن حبیش سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو سال بھر (رات کو) قیام کرے گا، وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے چاہا کہ لوگ (کم راتوں کی عبادت پر) قناعت نہ کر لیں، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔“ پھر انہوں نے استثناء (ان شاء اللہ کہے) بغیر قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔ اس پر میں نے کہا: ابومنذر! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے، اس کی شعائیں (نمایاں) نہیں ہوتیں۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : " وَأَكْبَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا ، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ " .شعبہ نے کہا: میں نے عبدہ بن ابی لبابہ سے سنا، وہ حضرت زر بن حبیش سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا: «واللہ! إني لأعلمها»۔ شعبہ نے (روایت کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس (پر پوری رات) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا (اور) وہ ستائیسویں رات ہے۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا: ”یہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا۔“ اور کہا: اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان (عبدہ) کے حوالے سے حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تجربہ اور مشاہدہ کی روسے عموماً ستائیسویں شب کی صبح ہی کو پائی گئی۔
اس لیے انہوں نے پوری قطیعت اور یقین کے ساتھ یہ بات کہی کہ شب قدرمتعین طور پر ستائیسویں شب ہی ہوتی ہے۔
بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی رؤیت اور مشاہدہ کے اعتبار سے اکسیویں تئیسویں شب کے بارے میں یہی بات کی، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف تئیسویں شب کو یہ مسجد نبوی میں قیام کے لیے آیا کرتے تھے۔